ڈکی برڈ: امپائر جو ملکہ برطانیہ سے ایوارڈ لینے چار گھنٹے پہلے محل پہنچ گئے

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سنہ 1982 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے چوتھے دن کھیل شروع ہوا تو انگلینڈ کو فالوآن سے بچنے کے لیے دو رنز درکار تھے لیکن اس کی صرف ایک وکٹ باقی تھی۔
عمران خان کے اوور کی آخری گیند پر رابن جیک مین کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی اور انگریز امپائر ڈکی برڈ کو فیصلہ دینے میں ذرا بھی وقت نہ لگا اور انھوں نے اپنی انگلی ہوا میں بلند کر دی۔
ڈکی برڈ کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کہ انھوں نے اپنے ملک یا کسی غیر ملکی ٹیم میں فرق محسوس کیا ہو۔ ان کے فیصلے سب کے لیے یکساں ہوتے تھے اسی لیے وہ اپنے کریئر میں دنیا بھر کے تمام کھلاڑیوں میں قابل احترام اور مقبول امپائر رہے ہیں۔
ڈکی برڈ نے اپنے بین الاقوامی امپائرنگ کریئر کا آغاز پانچ جولائی 1973 کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہیڈنگلے ٹیسٹ میں کیا تھا اور جب سنہ 1996 میں انھوں نے آخری بار انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان لارڈز ٹیسٹ میں امپائرنگ کی تو اس وقت تک وہ 66 ٹیسٹ اور 69 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کر چکے تھے، جن میں تین ورلڈ کپ فائنل بھی شامل ہیں۔
88 سالہ ڈکی برڈ کو امپائرنگ کو خیرباد کہے ہوئے 25 برس ہو چکے ہیں لیکن آج بھی لوگ ان سے اسی طرح محبت کرتے ہیں۔
ڈکی برڈ کی زندگی دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں اصول پسندی بھی موجود ہے اور بذلہ سنجی بھی۔ مشکل سے مشکل صورتحال میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور میدان میں سرکش کھلاڑیوں کو قابو کرنے کے فن سے آشنائی بھی۔
کوئلے کی کان میں کام کرنے والے کا بیٹا

،تصویر کا ذریعہPA
ڈکی برڈ انگلینڈ کے علاقے بارنسلے کے ایک معمولی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کوئلے کی کان میں کام کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنی کتاب میں دلچسپ انداز میں تحریر کیا ہے کہ اس زمانے میں ان کے گھر میں کوئی ٹوائلٹ نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ گھر کے باہر تھا لیکن یہ اچھی جگہ اس لیے تھی کہ وہاں کسی رکاوٹ کے بغیر وہ اخبار کے سپورٹس صفحات پڑھ لیا کرتے تھے۔
’ڈکی‘ کا لفظ سکول میں ہی ان کی زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔
ڈکی برڈ نے اپنے والد کو ساری زندگی کوئلے کی کان میں سخت محنت کرتے دیکھا۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ ایک سخت زندگی تھی جس میں ان کے والد تین مختلف شفٹوں میں کام کرتے۔ گھر آ کر برائے نام آرام کرتے اور پھر کام میں لگ جاتے۔
ڈکی برڈ کو اس بات کا سخت افسوس رہا کہ ٹیسٹ امپائر بننے کے بعد وہ اپنے والد کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن قدرت نے یہ موقع نہیں دیا۔ ’میرے والدین غریب تھے لیکن انھوں نے اپنی اولاد کو اچھا کھانا دیا، اچھا لباس دیا اور ہر ضرورت کا خیال رکھا۔‘
ڈکی برڈ نے اپنے والد کی یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھی کہ ’اگر تم کامیاب سپورٹس مین بننا چاہتے ہو تو سگریٹ، شراب اور نائٹ کلب کی خرافات سے دور رہنا۔‘
ٹیسٹ دیکھنے کے لیے سکول سے غائب

،تصویر کا ذریعہJohn Tanner
ڈکی برڈ نے سکول سے ایک دن بھاگ کر زندگی میں پہلی بار ٹیسٹ میچ 1948 میں دیکھا تھا۔ یہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان ہیڈنگلے ٹیسٹ تھا لیکن انھیں اس لیے سخت مایوسی ہوئی کیونکہ سر لین ہٹن پہلے ہی اوور میں بولڈ ہوگئے تھے۔
ڈکی برڈ اپنے پسندیدہ بیٹسمین کو سارا دن بیٹنگ کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔
ڈکی برڈ نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں یارکشائر اور لیسٹرشائر کی نمائندگی کی اور دو سنچریاں اور 14 نصف سنچریاں بھی بنائیں، لیکن صرف بتیس سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کو خیرباد کہا اور کوچنگ کو اپنا لیا۔
کیا تم امپائر بنو گے؟
ڈکی برڈ کو اچھی طرح یاد ہے کہ انگلینڈ کے فاسٹ بولر جے جے وار جو بعد میں ایم سی سی کے تاحیات نائب صدر بنے ان سے کہنے لگے کہ ’تم امپائر بنو۔‘ وہ یہ سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے ’میں اور امپائر؟ آپ یقیناً مذاق کر رہے ہیں۔‘
ڈکی برڈ کے ساتھیوں نے ان سے کہا آئیڈیا برا نہیں ہے جس پر انھوں نے بھی سنجیدگی سے اس بارے میں سوچنا شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیے
ڈکی برڈ کہتے ہیں ’یہ وہ موقع تھا جب میرے والد بارنسلے کے ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔ میں ان سے ملنے گیا اور ان سے کہا کہ میں امپائرنگ اپنانے والا ہوں اور اس بارے میں کافی سنجیدہ ہوں۔ میرے والد نے کچھ نہ کہا، انھوں نے میری طرف دیکھا، اُن کے چہرے کا تاثر بتا رہا تھا کہ وہ میرے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔‘
’میں جب باہر آیا تو میں نے سوچا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ انھوں نے مجھے نہ نصحیت کی نہ حوصلہ افزائی کی۔ سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ تھی کہ اگلے ہی روز وہ وفات پا گئے۔ وہ مجھے امپائر کے طور پر نہ دیکھ سکے۔ کاش وہ یہ دیکھ سکتے کہ میں نے امپائرنگ میں کیا کچھ حاصل کیا۔‘
میچ کے لیے چار گھنٹے پہلے ویک اپ کال

ڈکی برڈ نے سنہ 1970 میں فرسٹ کلاس امپائرنگ کا آغاز کیا اور وہیں سے ان کی ذات سے وابستہ دلچسپ واقعات بھی شروع ہوگئے جن میں اُن کی وقت سے بہت پہلے پہنچنے کی عادت نمایاں نظر آتی ہے۔
ان کا بحیثیت امپائر دوسرا میچ سرے اور یارکشائر کے درمیان اوول گراؤنڈ میں تھا۔ قریب کے تمام ہوٹل بُک تھے لہذا انھیں سوئس کاٹج کے ہوٹل میں قیام کرنا پڑا۔
ڈکی برڈ کہتے ہیں ’میرے دماغ میں عجیب وغریب خیالات آنے شروع ہو گئے کہ میں ٹریفک میں پھنس گیا تو پہلے ہی دن مقررہ وقت پر کیسے گراؤنڈ پہنچ سکوں گا؟ یہ سوچ کر میں نے صبح ساڑھے چار بجے کی ویک اپ کال کے لیے نائٹ پورٹر کو کہا۔ وہ بیزاری اور حیرانی سے پوچھنے لگا کہ آپ اتنی جلدی کس کے لیے تیار ہونا چاہتے ہیں؟
’میں نے کہا کہ مجھے اوول میں سرے اور یارکشائر کے میچ کی امپائرنگ کرنی ہے۔‘
اس نے پوچھا کہ ’میچ کتنے بجے شروع ہو گا؟‘
’میں نے جواب دیا صبح ساڑھے گیارہ بجے۔‘
اس نے طنزیہ جواب دیا ’اگر ساڑھے چار بجے اُٹھ کر پیدل بھی اوول گراؤنڈ پہنچ گئے تب بھی کم ازکم دو گھنٹے باقی بچ جائیں گے۔‘
’میں نے جواب دیا کہ میں کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔ مجھے اٹھا دینا۔‘
’اس نے ایسا ہی کیا میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور گراؤنڈ کے لیے نکل گیا۔ میں ٹھیک صبح چھ بجے گراؤنڈ کے گیٹ پر تھا۔ ظاہر ہے اس وقت وہاں کس نے ہونا تھا؟ میں نے گیٹ پھلانگ کر اندر جانے کی کوشش کی تو ایک آواز آئی، تم کیا کر رہے ہو؟‘
’میں نے مڑ کر دیکھا تو پولیس والا کھڑا تھا۔ میں نےکہا آفیسر، آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن میں آج سے یہاں ہونے والے کاؤنٹی میچ کا ایک امپائر ہوں۔‘
’اس نے پہلے مجھے دیکھا پھر کلائی پر اپنی گھڑی دیکھی اور کہنے لگا میچ ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوگا اور اس وقت چھ بج رہے ہیں۔ تم کون ہو جو اس طرح کا مذاق کررہے ہو؟ میں نے بڑی مشکل سے اسے اپنی بات کا یقین دلایا۔میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اپنی حرکت پر ہنستا رہا۔ جب گراؤنڈ سٹاف نےآ کر گیٹ کھولا تو اس وقت ساڑھے سات بجے تھے۔‘
ڈکی برڈ اپنے اولین ٹیسٹ میں امپائرنگ کے لیے بھی جب ہیڈنگلے گراؤنڈ پہنچے تھے تو گیٹ بند تھا اور اس وقت ساڑھے سات بجے تھے۔
ایک امپائر میچ چھوڑ گیا دوسرا بیلز لانا بھول گیا

،تصویر کا ذریعہJohn Tanner
ڈکی برڈ کا امپائر کی حیثیت سے دوسرا ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف اسی سال ایجبسٹن میں تھا جو اس لحاظ سے ہنگامہ خیز ثابت ہوا کہ کسی امپائر نے پہلی بار ٹیسٹ میچ کے دوران یہ کہا ہو کہ وہ اپنا سامان پیک کر رہا ہے اور گھر جا رہا ہے۔
ڈکی برڈ کے ساتھی امپائر آرتھر فیگ نے ویسٹ انڈیز کے کپتان روہن کنہائی کے مبینہ نامناسب رویے سے پریشان ہو کر میچ کے تیسرے دن میدان میں آنے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد میں وہ بمشکل امپائرنگ کے لیے راضی ہوئے تھے۔
ڈکی برڈ نے اس ٹیسٹ کا احوال اپنی کتاب میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’میں نے آرتھر فیگ کے انکار کے بعد انتظامیہ سے کہا کہ کسی امپائر کا بندوبست کریں جو سکوائر لیگ پر کھڑا ہو سکے۔ انگلینڈ کے سابق کرکٹر اور فرسٹ کلاس امپائر ایلن آکمین کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ میں اور ایلن آکمن جب پچ پر پہنچے تو آکمین بڑی معصومیت سے مجھ سے کہنے لگے میں آپ کو کیسے بتاؤں؟‘
’میں نے کہا کیا بات ہے؟‘
وہ بولے ’میں وکٹوں پر لگنے والی بیلز ساتھ لانا بھول گیا ہوں۔‘
وہ جتنی دیر میں بیلز لائے تماشائیوں نے کُھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
ڈکی برڈ نے اس روز چند اوورز تک دونوں اینڈ سے امپائرنگ کی تھی۔ بعد میں آرتھر فیگ میدان میں آ گئے تھے۔
ادھوری محبت لیکن شادی نہیں کی
ڈکی برڈ نے ساری زندگی شادی نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے کئی بار شادی کی پیشکش ہوئی یہاں تک کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پیغامات آئے۔ سچ یہ ہے کہ میں کرکٹ سے شادی کر چکا، کرکٹ ہی میری بیوی ہے۔‘
ڈکی برڈ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’جب میں 19 سالہ نوجوان کی حیثیت سے یارکشائر کی طرف سے کھیل رہا تھا تو میری گرل فرینڈز تھیں، لیکن یہ سلسلہ چند ماہ تک رہتا۔ جب میں کوچنگ کے سلسلے میں جوہانسبرگ گیا تو ایک خوبصورت لڑکی میری زندگی میں آئی اور یہی وہ وقت تھا جب میں نے سنجیدگی سے شادی کا سوچا تھا۔‘
’وہ یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ اسے کرکٹ میں بھی بڑی دلچسپی تھی۔ ہم دونوں نے اکٹھا وقت گزارا لیکن جب میں انگلینڈ واپس آیا تو وہ جنوبی افریقہ میں ہی تھی ۔ بہت ساری رکاوٹیں تھیں جن کی وجہ سے ہم ہمیشہ کے لیے ایک نہ ہو سکے۔ میں نے کھیلوں کی دنیا میں کئی طلاقیں دیکھی ہیں اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔‘
ڈکی برڈ نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ انھیں زندگی میں صرف ایک افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اپنی فیملی نہ بنا سکے۔ اگر ان کا بیٹا ہوتا تو وہ اسے کرکٹ کھیلتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

،تصویر کا ذریعہJohn Tanner
ملکہ برطانیہ سے ستائیس ملاقاتیں
ڈکی برڈ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انھیں ستائیس مختلف اوقات میں ملکہ برطانیہ سے ملنے کااعزاز حاصل ہوا ہے۔ 27ویں ملاقات ان کے لیے اس لیے اہم تھی کہ وہ اس کے لیے نیوزی لینڈ کا دورہ ادھورا چھوڑ کر لندن پہنچے تھے۔
ملکہ برطانیہ نے جب ان کے نیوزی لینڈ سے صرف اس دعوت کے لیے لندن آنے پر مسرت کا اظہار کیا تو ڈکی برڈ نے انھیں یہ بتاکر حیران کر دیا کہ وہ وقت سے چار گھنٹے پہلے بکنگھم پیلس کے باہر پہنچ چکے تھے۔
مزید پڑھیے
جب ڈکی برڈ کو ایم بی ای کے اعزاز سے نوازا گیا تو اس تقریب کے لیے انھیں صبح گیارہ بج کر بیس منٹ پر بکنگھم پیلس پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن اپنی عادت کے مطابق وہ جب پیلس پہنچے تو صبح کے ساڑھے سات بجے تھے۔
ڈکی برڈ نے ملکہ برطانیہ سے نومبر 1990 میں اپنی ایک اور ملاقات کا ذکر کیا ہے جب وقت سے پہلے پہنچنے کی ان کی عادت ایک بار پھر جاگی تھی اور وہ صبح آٹھ بجے ہی کنگ کراس سٹیشن پر پہنچ گئے اور جب وہ بکنگھم پیلس پہنچے تو صبح کے نو بجکر بیس منٹ ہوئے تھے جبکہ انھیں دوپہر کے ایک بجے وہاں پہنچنا تھا۔
اس موقع پر وہاں موجود پولیس والے نے ڈکی برڈ کو پہچانتے ہوئے پوچھا کہ خیریت اس وقت کیسے؟ جب انھیں بتایا کہ ملکہ کی طرف سے لنچ کی دعوت ہے تو وہ حیران رہ گیا۔ ڈکی برڈ کو وقت گزاری کے لیے ایک کافی شاپ میں چار گھنٹے بیٹھنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شکور رانا کے لیے وائٹ کیپ اور میچ کے ٹکٹ
سنہ 1987 کے عالمی کپ کے موقع پر پاکستانی امپائر شکور رانا نے آدھی رات فون کر کے ڈکی برڈ کو جگا دیا اور ان سے میچ کے ایک ٹکٹ کی فرمائش کر دی۔
اگلے دن وہ ڈکی برڈ کے پاس پہنچ گئے۔ ڈکی برڈ نے انھیں دو ٹکٹ دیے جس پر وہ بہت خوش ہوئے لیکن ساتھ ہی انھوں نے ڈکی برڈ کی ان دو وائٹ کیپس کی فرمائش بھی کر دی جو وہ امپائرنگ کے دوران پہنتے تھے۔
ڈکی برڈ کہتے ہیں ’اس سے قبل کہ میں کوئی جواب دیتا شکور رانا نے دو ٹوپیاں بیگ سے نکالیں اور مجھے خداحافظ کہہ کر چلتے بنے۔ وہ میرے امپائرنگ کے دوستوں میں شامل تھے۔‘
ڈکی برڈ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ورلڈ کپ کے بعد میں کچھ وقت آرام کرنا چاہتا تھا لیکن اسی دوران انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کی طرف سے فون کال آگئی کہ آپ دوبارہ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں۔ اس کی وجہ شکور رانا اور مائیک گیٹنگ کا تنازع تھا جس کی وجہ سے انگلینڈ کا کرکٹ بورڈ تیسرے ٹیسٹ کے لیے مجھے اور ڈیوڈ شیفرڈ کو پاکستان بھیجنا چاہتا تھا پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس پر راضی تھا لیکن وقت کی کمی اور بروقت ویزے کے حصول میں ناکامی کے سبب ہماری روانگی ممکن نہ ہو سکی۔‘











