پی ایس ایل 6: ’پاکستان سپر لیگ سیزن چھ کے ملتوی شدہ میچوں کے ابوظہبی میں انعقاد کی مکمل منظوری مل گئی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اسے کورونا کی وبا کی وجہ سے ملتوی کیے جانے والے پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے بقیہ میچ ابوظہبی میں منعقد کرنے کی مکمل منظوری مل گئی ہے۔
جمعرات کو پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای کی حکومت کی طرف سے تمام معاملات پر مکمل منظوری مل گئی ہے اور آج ہی تمام فرنچائز مالکان کے ساتھ اجلاس کے بعد ایونٹ کے انعقاد سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام گذشتہ کئی روز سے ابوظہبی میں موجود تھے جہاں وہ پی ایس ایل کے بقیہ 20 میچوں کے ابوظہبی میں انعقاد کے حوالے سے امارات کرکٹ بورڈ اور ابوظہبی کی حکومت سے رابطے میں تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو وسیم خان کا کہنا ہے کہ ابوظہبی میں ایونٹ کے انعقاد کے سلسلے میں حائل تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں اور بورڈ ایونٹ کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
وسیم خان نے ایونٹ کے انعقاد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں تعاون پر متحدہ عرب امارات کی حکومت، نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، امارات کرکٹ بورڈ اور ابوظہبی سپورٹس کونسل کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان سپر لیگ 6 کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی تھیں اور چھٹے سیزن کے باقی میچ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آتی رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کرکٹ بورڈ یہ لیگ یکم جون سے شروع کر کے اسے ہر حال میں 20 جون کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن عید کی چھٹیوں کے بعد ابوظہبی کی حکومت اور امارات کرکٹ بورڈ سے رابطے اور پھر مثبت جواب ملنے میں تاخیر کی وجہ سے وہ بے یقینی صورتحال سے دوچار تھا۔
اس بے یقینی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لیگ میں شریک ٹیموں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو کووڈ ٹیسٹ کی منفی رپورٹ آنے کے بعد تین روز کے قرنطینہ کے لیے جمعرات کی صبح کراچی اور لاہور کے ہوٹلوں میں چیک ان ہونا تھا لیکن انھیں چیک ان ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن غیر ملکی کرکٹرز کو پاکستان آ کر یہاں چارٹرڈ فلائٹس میں شامل ہونا تھا ان میں متعدد کھلاڑی اپنے ملکوں میں ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے یا پہنچنے والے تھے کہ انھیں مطلع کیا گیا کہ وہ ابھی پاکستان روانہ نہ ہوں۔
واضح رہے کہ لیگ میں حصہ لینے والی ٹیموں کو 22 مئی کو دو چارٹرڈ فلائٹس سے ابوظہبی روانہ ہونا ہے۔
غیرملکی کرکٹرز کی ویکسینیشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابوظہبی کے حکام سے اس بارے میں بھی تحریری یقین دہانی مانگی ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں حصہ لینے والے غیر ملکی کرکٹرز کو ویکسینیشن سے مستثنی قرار دیا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی پاکستان میں ویکسینیشن ہورہی ہے لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کسی غیر ملکی کرکٹر کی ویکسینیشن کی ضمانت کیسے دے سکتا ہے؟
انڈین اور جنوبی افریقی براڈکاسٹنگ عملے کو ابوظہبی میں داخلے کی اجازت
پاکستان کرکٹ بورڈ جس براڈ کاسٹر کے ذریعے پی ایس ایل میلہ سجانے کا خواہشمند ہے اس کے عملے میں شامل انڈین اور جنوبی افریقی سٹاف ہی اب اس ایونٹ کی راہ میں ایک اور رکاوٹ بن گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کووڈ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے انڈیا اور جنوبی افریقہ سے آنے والے عام مسافروں کو متحدہ عرب امارات میں داخلے کی اجازت نہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کی کوریج کرنے والی براڈ کاسٹنگ کمپنی کے کریو میں شامل انڈین اور جنوبی افریقہ کے افراد کو اس پابندی سے مستثنی قرار دیا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابوظہبی کی حکومت سے کہا ہے کہ جس طرح لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے لاہور اور کراچی سے ابوظہبی پہنچیں گے اسی طرح کوریج کرنے والے براڈ کاسٹر کے دو گروپ بھی جنوبی افریقہ اور انڈیا سے چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے ابوظہبی پہنچیں گے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نہیں چاہتا کہ جنوبی افریقی اور انڈین کریو سٹاف کو ابوظہبی پہنچ کر وہاں داخلے کی اجازت نہ ملے اور بورڈ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے لہذا اس نے ابوظہبی حکومت سے اس بارے میں تحریری یقین دہانی مانگی ہے۔
اب یہ لیگ کب ہوگی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ مارچ میں یہ ایونٹ کراچی میں ملتوی ہونے کے بعد اسے یکم سے بیس جون تک کرانا چاہتا تھا کیونکہ اس کے فوراً بعد پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ کے دورے پر جانا ہے لیکن اب دوسری مرتبہ لیگ ملتوی ہونے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے اتنا آسان نہیں ہو گا کہ وہ اسے ری شیڈول کرے کیونکہ اس سال اس کا انٹرنیشنل کلینڈر مصروف ہے۔
اکتوبر میں اسے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کھیلنی ہے۔ پھر اکتوبر نومبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو گا اس کے بعد پاکستانی ٹیم بنگلہ دیش جائے گی اور پھر ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئے گی۔
اس صورتحال میں ستمبر میں یہ لیگ ممکن ہو سکتی ہے ۔ ستمبر میں پاکستانی ٹیم کو افغانستان کے خلاف صرف محدود اوورز کی سیریز کھیلنی ہے۔
ابوظہبی کا انتخاب کیوں ہوا تھا؟
پاکستان سپر لیگ 6 کا آغاز کراچی میں 20 فروری کو ہوا تھا لیکن چار مارچ کو اسے اس وقت ملتوی کرنا پڑا جب شریک ٹیموں کے چند کھلاڑیوں کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آئے تھے، اُس وقت تک لیگ کے 14 میچز کھیلے جا چکے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے چھ فرنچائز ٹیموں کے مالکان کے ساتھ رابطے میں رہنے کے بعد پی ایس ایل کے باقی ماندہ میچوں کو جون میں کراچی میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ملک میں کووڈ کی مجموعی خراب صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ لیگ یہاں منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس یہی ایک راستہ باقی رہتا تھا کہ وہ اس ایونٹ کو متحدہ عرب امارات لے جائے۔
پاکستان سپر لیگ کے مارچ میں ملتوی کیے جانے کے بعد یہ بات یقینی ہو گئی تھی کہ اگر یہ لیگ دوبارہ ہوئی تو اس میں شامل غیرملکی کرکٹرز اپنی بین الاقوامی مصروفیات کے سبب شامل نہیں ہو سکیں گے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ماہ متبادل کھلاڑیوں کا ڈرافٹ تیار کیا تھا جس کے ذریعے نئے غیرملکی کھلاڑیوں کی شمولیت ہوئی تھی۔
لیگ کے جون میں ہونے کی صورت میں جن نئے کھلاڑیوں کو چھ ٹیموں نے اپنے سکواڈ میں شامل کیا تھا ان میں قابل ذکر نام نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل، ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل، سری لنکا کے تشارا پریرا، جنوبی افریقہ کے یانیمن ملان اور آسٹریلیا کے عثمان خواجہ تھے۔
بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، لٹن داس اور محمود اللہ بھی پی ایس ایل کھیلنے والے تھے لیکن انھوں نے بعد میں یہ کہہ کر دستبرداری اختیار کر لی کہ وہ 31 مئی سے شروع ہونے والی ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔
بائیو سکیور ببل کے لیے غیرملکی کمپنی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل کے ملتوی شدہ بیس میچوں میں کسی قسم کی سیفٹی بے ضابطگی سے بچنے کے لیے ایک برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں کہ وہ ایک مؤثر بائیوسکیور ببل تیار کرے۔
یہ وہی کمپنی ہے جس نے گذشتہ سال دبئی میں کھیلی گئی آئی پی ایل میں بائیو سکیور ببل تیار کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مارچ میں لیگ جس انداز سے ختم ہوئی اس صورتحال سے بچا جائے کیونکہ ان چودہ میچوں کے دوران سیفٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے جن میں ایک کپتان اور کوچ کا اپنے فرنچائز مالک سے ملنا جو بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں تھے۔
کھلاڑیوں کا ہوٹل میں باہر سے کھانے منگوانا، سالگرہ منانا، فیملیز سے ملاقاتیں کرنا، باہر کے لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنوانا جیسے واقعات شامل ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایس او پیز اور سیفٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے ڈاکٹر فیصل محمود اور ڈاکٹر سلمی عباس پر مشتمل دو رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ اگرچہ اس کمیٹی کی رپورٹ کو منظرعام پر نہیں لایا گیا تاہم کمیٹی نے ایونٹ کے دوران متعدد نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔
پاکستان سپر لیگ کے اس طرح ملتوی کیے جانے کے پس منظر میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیکل ڈاکٹر سہیل سلیم کا مبینہ استعفی بھی شہ سرخیوں میں رہا جن پر پی ایس ایل کے دوران بائیو سکیور ببل پر عملدرآمد نہ ہونے کی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی۔
ڈاکٹر سہیل سلیم ابتدا میں خاموش رہے لیکن بعد میں انھوں نے میڈیا میں آ کر کہا کہ انھوں نے خود استعفی نہیں دیا بلکہ ان سے لیا گیا تھا۔












