پاکستان بمقابلہ زمبابوے: دوسرے ٹیسٹ کا ’گویا نتیجہ طے ہو چکا، بس اعلان باقی ہے‘

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک گِری پڑی ٹیم کو اگر ایک قابلِ اعتماد بلے باز اور ایک کاٹ دار بولر میسر آ جائے تو پوری ٹیم کی ہئیت بدل جاتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ باصلاحیت کھلاڑی اپنے اردگرد اننگز بُننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
زمبابوے کو بلیسنگ مزربانی کی شکل میں ایک ایسا ہی تیکھا بولر میسر آ چکا ہے جو اپنی صلاحیت سے کھیل کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اکیلے مزربانی کب تک بدل لیں گے اور کتنا؟
پہلے روز ابتدائی بریک تھرو انھوں نے ہی فراہم کیا مگر سُست رو وکٹ پہ دیگر ساتھیوں کی طرف سے کوئی خاص سہارا ملتا نہ دکھائی دیا۔ عابد علی اور اظہر علی کی شراکت داری محتاط طریقے سے بڑھتی چلی گئی اور دھیرے دھیرے پاکستان میچ پہ حاوی ہوتا چلا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ZimCricketv
لیکن شام کے سیشن میں جب نیا گیند میسر آ گیا تو مزربانی ایک بار پھر اپنی کاٹ کے ساتھ واپس آئے اور اوپر تلے تین وکٹیں گرا کر میچ کا مومینٹم کسی حد تک زمبابوے کے حق میں پلٹا دیا۔ یہ امید بھی جاگ اٹھی کہ زمبابوے پاکستان کو چار سو رنز کے مجموعے تک نہ پہنچنے دے گا۔
دوسرے روز صبح کے سیشن میں بھی مزربانی نے سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں گذشتہ شام ٹوٹا تھا۔ یہ کہنے میں عار نہیں کہ پہلے سیشن میں مزربانی اور نگروا کا ابتدائی سپیل سست وکٹ پہ اچھی فاسٹ بولنگ کا عملی نمونہ تھا۔ لیکن نائٹ واچ مین ساجد علی نے انھیں تھکا ڈالا۔
ٹیسٹ میچ کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ اس میں ایک نہیں، کئی ایسے لمحے آ جاتے ہیں جب کمزور ٹیم کے پاس پورا موقع ہوتا ہے کہ وہ اگر دو گھنٹے بہترین کرکٹ کھیل لیں تو میچ میں واپس آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زمبابوے کو صبح کے مایوس کن سیشن کے بعد پھر ایک ایسا ہی لمحہ میسر آیا جب مختصر سے دورانیے میں انھیں ساجد علی، محمد رضوان اور حسن علی کی وکٹیں مل گئیں۔
وہاں زمبابوے کے پاس موقع تھا کہ پاکستانی اننگز کے آگے بند باندھ دیتے اور مقابلے کو ایسا یکطرفہ نہ ہونے دیتے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
لیکن بعض اوقات کشتی وہیں ڈوبتی ہے جہاں پانی کم ہو۔ نعمان علی کسی بھی لحاظ سے زمبابوین بولرز کے لیے متوقع خطرہ نہیں تھے۔ اصل الجھن تو عابد علی بنے ہوئے تھے جو کسی بھی طور سے اپنی وکٹ نہ دینے پہ اڑے ہوئے تھے۔
مگر طرفہ تماشا دیکھیے کہ جہاں متوقع تھا، عابد علی اننگز کا چارج سنبھالیں گے اور دوسرے اینڈ کے لوئر آرڈر بلے بازوں کو سہارا فراہم کریں گے، وہاں نعمان علی ہی سب سے بڑی الجھن بن گئے۔ جس برق رفتاری سے نعمان علی نے پاکستانی اننگز کو آگے بڑھایا، وہ پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے سیر حاصل تفریح بن گئی۔
دوسری جانب یہی اننگز برینڈن ٹیلر کے بولرز کے لیے اذیت کا سبب بن گئی کہ نعمان علی نے کسی بھی لمحے مدافعانہ انداز اختیار ہی نہ کیا۔ پاکستان کی اس پوری اننگز میں چھ چھکے شامل تھے جن میں سے پانچ نعمان علی کے بلے سے نکلے۔
جب میچ پہ کسی ٹیم کی گرفت اتنی بڑھ جائے تو پھر اس کے پاس اختیار آ جاتا ہے کہ وہ اپنے حریف کو تھکا تھکا کر مارے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
ٹیسٹ کرکٹ میں شام کا سیشن عموماً بلے بازی کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ دھیمی پڑتی روشنی میں دن بھر کی دھوپ خوردہ وکٹ پہ اپنے سٹمپس کا دفاع اکثر کارِ دشوار ثابت ہوا کرتا ہے۔ بالخصوص جب مخالف بولنگ اٹیک اس قدر تغیر سے معمور ہو جو پاکستان کو حاصل ہے۔
زمبابوین بلے بازوں نے گرتے پڑتے کچھ نہ کچھ ساکھ بچانے کی کوشش تو کی لیکن پاکستانی بولنگ کی کاٹ اور ڈھلتے سورج کے سائے یوں آڑے آئے کہ پہلے تیس اوورز میں ہی عملی طور پہ آدھی زمبابوین اننگز نمٹ گئی۔
دوسرے ٹیسٹ میں دوسرے روز کے اختتام تک پاکستان نے 510 رنز اور آٹھ وکٹوں کے نقصان پر اننگز ڈکلیئر کی اور اس کے جواب میں زمبابوے کو محض 52 رنز پر چار وکٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔
تابش خان اور ساجد علی نے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹیں حاصل کی ہیں اور باقی دو وکٹیں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی کے نام ہوئی ہیں۔
اب فقط ناگزیر کے انتظار کو طول دینے کی کوشش ہوتی رہے گی۔ گویا شکست طے ہو چکی، فقط اعلان باقی ہے۔











