پاکستان بمقابلہ زمبابوے: نحیف سے ہدف نے بھی پاکستان کو کیوں لڑکھڑا دیا؟

زمبابوے، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

بسا اوقات قابل ترین لوگوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اُنھیں آسان چیزیں پسند نہیں آتیں۔ اُنھیں ہر وقت کسی نہ کسی چیلنج کی تلاش رہتی ہے تا کہ وہ مشکل صورت حال میں طبع آزمائی کر کے اپنی صلاحیتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

آج کے میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن پر بھی مشکل پسندی کا کوئی ایسا ہی بھوت سوار دکھائی دیا۔

ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ اگرچہ درست ثابت ہوا اور پاکستانی بولرز نے حریف بلے بازوں کو کریز کے اندر باندھے رکھا۔ نتیجتاً جو مجموعہ زمبابوین ٹیم سکور بورڈ پر جڑنا چاہ رہی تھی، اس سے خاصی پیچھے رہ گئی۔

اضافی الجھن یہ بھی تھی کہ جہاں ایک طرف برینڈن ٹیلر کی واپسی زمبابوین ٹیم کے لیے حوصلہ افزا تھی، وہیں شان ولیمز کی انجری اور پچھلے میچ کے تقریباً ہیرو کریگ ایروِن کا ان فٹ ہونا بھی میزبان ٹیم کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

میچ سے پہلے ہی اور پھر پہلی اننگز کے اختتام پر بھی پاکستان اس میچ میں فتح کے لیے فیورٹ تھا۔

مخالف ٹیم کی رینکنگ، دو تجربہ کار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی اور سکور بورڈ پر جڑا ہوا نحیف سا ہدف، یہ سبھی عوامل پاکستان کی بھاری بھر کم فتح کی پیش گوئی کر رہے تھے۔

پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ پاکستان ایسے کمزور سے حریف کے خلاف ایسے قلیل سے ہدف کے تعاقب میں شکست کھا گیا؟

عمومی زبان میں کہا جائے تو اسے تساہل پسندی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ تساہل پسندی ہمیں ٹاپ آرڈر کی شاٹ سلیکشن میں نظر بھی آئی۔ مگر تساہل پسندی سے ماورا کوئی چیز تھی جو سکور بورڈ کے اعداد و شمار میں تو نہیں جھلک رہی مگر پاکستانی اننگز کے تحت الشعور میں ہمیں بخوبی دکھائی دی۔

جہاں کوئی پریشر سرے سے موجود ہی نہیں تھا، وہاں پاکستانی بلے بازوں نے پے در پے ڈاٹ بالز کھیل کر بذاتِ خود پریشر پیدا کیا اور آسان سے ہدف کو مشکل بناتے چلے گئے۔

زمبابوے، پاکستان

،تصویر کا ذریعہZimbabwe Cricket

پچھلے میچ کے بعد بھی محمد رضوان بتا رہے تھے کہ بابر اعظم اور ان کے بیچ ایک انڈرسٹینڈنگ سی ہے کہ اگر کوئی ایک جلدی گر جائے تو دوسرا آخر تک رکے رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ جملہ بین السطور مڈل آرڈر کی کمیوں کوتاہیوں کی چغلی کھا رہا تھا۔

ویسے مڈل آرڈر کی کوتاہیاں تو جنوبی افریقی دورے کے اوائل سے ہی نظر تو سب کو آ رہی تھیں مگر کبھی تفصیل سے زیرِ بحث یوں نہ آ سکیں کہ نتائج عموماً پاکستان کے حق میں آتے رہے اور جیت کی خوشی میں کوئی بھی خامیوں کا تذکرہ سننا پسند نہیں کرتا۔

مگر کبھی تو ضبط کا بند ٹوٹنا ہی ہوتا ہے۔ اور جب ایسا موقع آتا ہے تو پھر حالات و واقعات اور زمان و مکاں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ہدف کتنا ہے، حریف کیسا ہے اور عوامل کیا ہیں۔

ہرارے میں آج اس مڈل آرڈر کی پوری طرح قلعی کھل گئی کہ اگر اوپر کے تین بلے باز اننگز کو آخر تک لے کر نہ چلیں تو اس بیٹنگ لائن میں اتنا دم خم بھی نہیں کہ زمبابوے جیسی بولنگ کے خلاف سو رنز بھی کر پائے۔

حیدر علی کی ناکامیوں سے سبق سیکھ کر یہ تو نہ کیا گیا کہ ان کا بیٹنگ نمبر اوپر لایا جاتا، البتہ اُنھیں ٹیم سے بے دخل کر کے ایک اور آزمودہ ناکامی آصف علی کو پھر سے موقع دے دیا گیا۔ جتنا کام آصف علی نے کیا، اتنا تو حیدر علی بھی کر ہی رہے تھے۔ پھر اتنے تردد کی کیا ضرورت تھی۔

سیریز کے آغاز سے پہلے بھی ہم کہہ رہے تھے کہ چھوٹی ٹیموں کے خلاف جیت بھلے بڑی بات نہ ہو مگر شکست بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس یہاں موقع تھا کہ وہ سیریز جیت کر اگلے میچ میں اپنی سیکنڈ الیون کو پوری طرح آزماتا۔

لیکن اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی رسم یوں ادا کی گئی کہ ایک سیدھی سی وکٹ پر نہایت آسان سے ہدف کو پہلے بے وجہ احتیاط کے طفیل مشکل بنایا گیا اور پھر اسی مشکل ہدف کے تلے دب کر پاکستانی بیٹنگ ایسی ڈھیر ہوئی کہ 11 بلے باز مل کر بھی سو رنز تک نہ بنا سکے جو ٹی ٹوئنٹی میں عموماً ٹاپ تھری بلے باز ہی کر لیا کرتے ہیں۔

یہ تساہل پسندی ہرگز نہیں تھی بلکہ بے جا مشکل پسندی کا شوق تھا جو ایک ناتواں حریف کے سامنے ایک فیورٹ ٹیم کی ہزیمت پر منتج ہوا۔