پی ایس ایل 6 میں روایتی حریف لاہور اور کراچی مدِ مقابل: لاہور نے کراچی کو کانٹے کے مقابلے کے بعد چھ وکٹوں سے شکست دے دی

،تصویر کا ذریعہPCB
آج پاکستان سپر لیگ کے چھٹے سیزن میں روایتی حریفوں کے درمیان ایک کانٹے کے مقابلے کے بعد لاہور نے کراچی کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
یہ مقابلہ اس لیے بھی خاصا دلچسپ تھا کیونکہ اس میچ کے اندر کھلاڑیوں کے درمیان بھی چھوٹے چھوٹے مقابلے ہوتے رہے۔ وہ شاہین آفریدی بمقابلہ بابر اعظم ہو، یا محمد عامر بمقابلہ شاہین۔
شرجیل خان اور فخر زمان کی قومی ٹیم تک رسائی کے لیے نمایاں بیٹنگ پرفارمنس بھی ایک مقابلے کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
ان تمام مقابلوں کے باوجود کراچی کی بیٹنگ کے آغاز اور اختتام پر شاہین شاہ آفریدی کے شاندار بولنگ سپیل نے میلہ لوٹ لیا۔
اس طرح اب تک اس سیزن میں کھیلے گئے تمام 11 میچوں میں پہلے فیلڈنگ کرنے والی ٹیم ہی فاتح رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے چار اوورز میں تین آؤٹ کیے، لیکن ان کا سپیل یقیناً دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
شاہین آفریدی کا سپیل
کراچی کنگز کی اننگز کا آغاز خاصا ڈرامائی تھا، جارحانہ بیٹنگ کرنے والے شرجیل خان نے شاہین آفریدی کو پہلے اوور میں دو چوکے مارے، اور پھر لاہور کے کپتان سہیل اختر نے مڈ آن پر ان کا آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔
اپنے اگلے اوور میں شاہین آفریدی نے ایک مرتبہ پھر عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور بابر اعظم کے بلے کا باہری کنارہ بھی لیا لیکن فخر زمان نے انھیں ڈراپ کر دیا۔
اسی اوور میں شاہین نے ایک ان سوئنگنگ گیند کرائی اور بابر اعظم کو بولڈ کر دیا۔ یہ منظر یقیناً دلکش تھا، کیونکہ یہ بلاشبہ پاکستان کی موجودہ ٹیم کے بہترین بولر اور بلے باز کا ٹاکرا تھا۔ آؤٹ کرنے کے بعد شاہین آفریدی نے قومی ٹیم کے کپتان کو گلے لگا لیا۔
شاہین جب اپنے آخری دو اوور کے لیے واپس آئے تو لاہور کو کراچی کا ٹوٹل محدود کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ ایسے میں انھوں نے عمدہ یارکرز کروائے اور جارحانہ انداز بھی اپنائے رکھا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
شرجیل کے ایک ٹانگ پر چھکے اور محمد نبی کی نصف سنچری
پانچواں اوور دوبارہ حفیظ کو دینا لاہور کے لیے کارگر ثابت نہ ہو سکا، کیونکہ شرجیل خان شاید ان ہی کے انتظار میں تھے۔
ان کے اوور میں شرجیل خان نے دو چھکے اور ایک چوکا مار کر اس بات کو یقینی بنایا کہ کراچی پاور پلے کے دوران اچھے رنز کر لے۔ چھ اوورز میں 53 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر پاور پلے کا اختتام ہوا۔
شرجیل خان نے پہلے احمد دانیال اور پھر حارث رؤف کو اپنے روایتی انداز میں ایک ٹانگ پر چھکے مار کر پی ایس ایل کے اس سیزن میں اپنی بہترین فارم جاری رکھی۔ یاد رہے کہ شرجیل خان اس سے قبل اس سیزن کی اکلوتی سنچری بھی کر چکے ہیں۔
اسی طرح محمد نبی بھی کریز پر ایک ایسے موقع پر آئے جب تین وکٹیں گر چکی تھیں۔ انھوں نے 12 گیندوں پر 12 رنز بنائے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کراچی ایک اچھے ہدف تک پہنچ سکے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
محمد عامر کی نئی گیند سے شاندار بولنگ
لاہور کی اننگز کا آغاز ہوا تو ایسا لگا کہ محمد عامر ایک عرصے سے گیند اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے بیتاب تھے۔ انھوں نے پہلے اوور میں نئی گیند کا بھرپور استعمال کیا اور جو ڈینلی کو بولڈ کر دیا۔
اس سے ایک گیند پہلے ہی عماد وسیم کی شاندار فیلڈنگ کی بدولت لاہور کے کپتان سہیل اختر رن آؤٹ ہوئے تھے۔ محمد عامر کا یہ اوور میڈن رہا اور اس میں ہمیں پرانے محمد عامر کی جھلک بھی دکھائی دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
آغاز میں دوہرے نقصان کے باوجود فخر زمان اور محمد حفیظ نے بیٹنگ کو سہارا دیا لیکن وقاص مقصود نے آتے ہی حفیظ کو پویلین کی راہ دکھا دی۔
تاہم فخر زمان اور بین ڈنک نے اس موقع پر عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے محتاط اور پھر موقع کی مناسبت سے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کے لاہور کے لیے آخری اوورز میں تعاقب کے لیے بہت زیادہ رنز باقی نہ رہ جائیں۔
دونوں نے نصف سنچریاں سکور کیں اور بین ڈنک تو آخر تک کریز پر موجود رہے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
سنسنسی خیز اختتامی مراحل اور ڈیوڈ ویسا
میچ کے اختتامی مراحل میں جب لاہور کو دو اوورز میں 30 رنز درکار تھے اور محمد عامر بولنگ کے لیے آئے تو صورتحال خاصی دلچسپ تھی اور یہاں تک لگ رہا تھا کہ شاید لاہور کے ہاتھ سے یہ میچ جاتا رہے۔
تاہم عامر کے اوور میں تین چوکے اور ایک چھکا لگا جس نے میچ کا پانسا لاہور کی جانب پلٹ دیا۔ عامر اس اوور کے آغاز میں تو خاصے بدقسمت رہے لیکن ڈیوڈ ویسا نے انھیں چھکا مار کر اوور میں 20 رنز کر لیے۔
آخری اوور میں ڈین کرسچن کے لیے اوور میں 10 رنز بچانا تقریباً ناممکن تھا اور ڈیوڈ ویسا پہلی دو گیندوں میں ہی دو چھکوں کی مدد سے ہدف تک رسائی حاصل کر لی۔
’قسمت لاہور کے ساتھ تھی‘
میچ کے اختتام پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دونوں ہی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا جاتا رہا اور روایتی حریفوں کے مدِمقابل ہونے کے باوجود شائقین اپنے مخالفین کی اچھی کرکٹ کی داد دیتے ہوئے نظر آئے۔
صارف انجینیئر عمران نے لکھا کہ عامر نے اوور اتنا بُرا نہیں کیا تھا پر قسمت نے لاہور کا ساتھ دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@EngrImrann
ٹوئٹر صارف آمنہ شعبان نے مشہور بالی وڈ فلم گینگز آف واسع پور کا ایک منظر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ کراچی کی حمایت کرنے والے اپنے دوست سے یہ کرنا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@amnashaban6
صارف عمران حسن نے لاہور قلندرز کی پی ایس ایل سکس میں مسلسل فتوحات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب لاہور کو ہرانا مشکل ہی نہیں، کافی مشکل ہے۔‘
بظاہر اُن کا اشارہ امیتابھ بچن کی فلم ڈان کی طرف تھا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/imranhworld
صارف ماہ رُخ نے اس میچ کو فائنل سے پہلے فائنل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ ویسا نے دکھایا ہے کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@mahru_aana
اور لاہور اور کراچی کے درمیان مقابلہ ہو اور ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑایا جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
صارف طٰہٰ عمران نے لکھا ’لاہور سے پنگا ناٹ چنگا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@tahabeast3
ایک اور صارف نے لکھا کہ یہ میچ پاکستان سپر لیگ کے تاج میں ایک ہیرا ہے اور یہ رات یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ChangeofPace414













