جنوبی افریقہ بمقابلہ پاکستان: حسن علی اور شاہین آفریدی کی شاندار بولنگ، پاکستان نے راولپنڈی ٹیسٹ اور سیریز جیت لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے راولپنڈی میں کھیلے جانے والے دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو 95 رنز سے شکست دے کر ٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیت لی ہے۔
پاکستان 18 برس کے وقفے کے بعد جنوبی افریقہ کو کسی سیریز میں شکست دینے میں کامیاب ہوا ہے۔
پیر کو کھیل کے پانچویں اور آخری دن جنوبی افریقہ کی ٹیم 370 رنز کے ہدف کے تعاقب میں دوسرے سیشن میں 274 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔جنوبی افریقہ کی آخری سات وکٹیں سکور میں صرف 33 رنز کا اضافے کے دوران گریں۔
جنوبی افریقہ نے ٹاپ آرڈر نے پہلی اننگز کے مقابلے دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز کا زیادہ ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن نئی گیند ملنے کے بعد حسن علی اور شاہین آفریدی نے مہمان ٹیم کے بلے بازوں کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔
پانچویں روز کھیل کے آغاز میں پاکستان کو حسن علی نے دو وکٹیں دلوائیں۔ انھوں نے پہلے وین ڈیوسن کو بولڈ کیا جس سے ان کی مارکرم کے ساتھ 94 رنز کی شراکت ختم ہوئی۔ ڈیوسن نے 48 رنز بنائے۔
حسن علی کی اگلی وکٹ فاف ڈوپلیسی بنے جو صرف پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ڈوپلیسی اس سیریز میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم اس کے بعد ایڈن مارکرم اور باووما نے چوتھی وکٹ کے لیے 106 رنز کی اہم شراکت قائم کی اور اس دوران اوپنر ایڈن مارکرم نے جہاں سنچری مکمل کی وہیں باووما نے بھی نصف سنچری بنائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کھانے کے وقفے کے بعد حسن علی نے ایک مرتبہ پھر دو گیندوں پر دو وکٹیں لے کر میچ دلچسپ بنا دیا۔ انھوں نے پہلے مارکرم کو 108 کے سکور پر سلپ میں کیچ کروایا اور پھر اگلی ہی گیند پر آؤٹ آف فارم کپتان کوئنٹن ڈی کاک کی وکٹ لے لی۔
پاکستان کو چھٹی کامیابی شاہین آفریدی نے باووما کی اہم وکٹ کی شکل میں دلوائی جو نصف سنچری بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ یہ اس اننگز میں شاہین کی دوسری وکٹ تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسن علی کی اننگز میں پانچویں اور میچ میں دسویں وکٹ لنڈے بنے جنھیں فہیم اشرف نے ایک خوبصورت کیچ لے کر پویلین کی راہ دکھائی۔
حسن علی راولپنڈی میں کسی ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں لینے والے دوسرے بولر ہیں۔ ان سے قبل 1996 میں محمد زاہد نے نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں 11 وکٹیں لی تھیں۔
اس کے بعد شاہین آفریدی نے ایک ہی اوور میں پہلے کیشو مہاراج اور پھر ربادا کو آؤٹ کر کے اننگز میں اپنی وکٹوں کی تعداد چار کر لی۔ جنوبی افریقہ کی گرنے والی آخری وکٹ نورجے کی تھی جنھیں یاسر شاہ نے بولڈ کیا۔
یہ بھی پڑھیے
حسن علی کو دس وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ خیال رہے کہ حسن علی زخمی ہونے کی وجہ سے ایک طویل وقفے کے بعد پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔ میچ کے بعد بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ نے ان کی ٹیم میں واپسی میں بہت مدد کی۔
وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو اس ٹیسٹ سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
حسن علی: میری پرفارمنس ہونے والی بیٹی کے نام، بیوی کو بھی تو خوش کرنا ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے تیز بولر حسن علی نہ صرف بلے بازوں کو آؤٹ کر کے شہ سرخیوں میں جگہ بنا لیتے ہیں بلکہ وکٹ لے کر ان کا 'جنریٹر چلانے والے' انداز سے خوشی منانا بھی شائقین کے دلوں کو بھاتا ہے۔
جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں دس وکٹیں حاصل کر کے حسن علی نے ایک بار پھر شائقین کے دلوں میں جگہ بنالی ہے لیکن ساتھ ہی ان کا ایک نیا انداز بھی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
حسن علی نے جب بھی وکٹ حاصل کی تو ’جنریٹر سٹائل‘ کے ساتھ ساتھ بچے کو جھولے میں جھولانے والے انداز کے ذریعے سب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ’آخر یہ کیا ماجرا ہے؟‘
میچ کے اختتام پر پریس ٹاک کے دوران بی بی سی اردو کے استفسار پر حسن علی نے بتایا ’میرے ہاں بیٹی کی ولادت متوقع ہے اور میں نے اس شاندار پرفارمنس میں اپنی ہونے والی بیٹی کو یاد رکھا ہے۔ یہ بچی یقیناً میرے لیے اللہ کی رحمت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسن علی نے جو اپنی بذلہ سنجی کے لیے بھی مشہور ہیں کہتے ہیںʹ پنڈی ٹیسٹ کے پانچوں دن میری بیگم بھی میچ دیکھنے آتی رہی ہیں۔ آپ کو تو پتا ہی ہے کہ بیگم کو بھی تو خوش کرنا ہوتا ہے۔‘
حسن علی کا کہنا ہے ’میچ کے آخری دن جب کھانے کے وقفے پر ٹیم ڈریسنگ روم میں گئی تو بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا کہ ہمت نہیں ہارنی، اگر جنوبی افریقی ٹیم اچھا کھیل کر جیت گئی تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہم نے آخری وقت تک مقابلہ کرنا ہے۔‘
ʹیہ سوچا تھا کہ نئی گیند سے جنوبی افریقی ٹیم کے لیے مشکلات پیدا کریں گے لیکن درحقیقت نئی گیند سے بہت کچھ ہوگیا۔‘
دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نچلے نمبر کے بلے بازوں سے اچھی کارکردگی کی کمی محسوس کرتے تھے لیکن اس سیریز میں لوئیر آڈر بلے بازوں نے کمال کی پرفارمنس دی ہے جو خوش آئند ہے۔
’خاص کر فہیم اشرف نیوزی لینڈ کے دورے سے مسلسل بیٹنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں۔‘
بابراعظم نے وکٹ کیپر رضوان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اننگز کی وجہ سے ہم تین سو ستر رنز کی برتری لینے میں کامیاب ہوسکے ’ورنہ ایک موقع پر ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا تھا۔‘
بابراعظم نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اس سیریز میں ٹاپ آرڈر بلے باز بڑا سکور نہ کرسکے لیکن انھیں اس پر تشویش نہیں ہے کیونکہ ایسا ہوجاتا ہے۔
’ہمیں اپنی غلطیوں کو دیکھنا ہوگا اور انھیں دور کرنا ہوگا۔ عمران بٹ نے ابھی صرف دو ٹیسٹ کھیلے ہیں انھیں ڈراپ نہیں کیا جاسکتا۔
بابراعظم نے اپنی انفرادی کارکردگی کے بارے میں کہا کہ ان کی کارکردگی اس طرح نہیں رہی جو وہ چاہتے تھے۔ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں گے اور انھیں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
بابراعظم اس بات پر بہت خوش ہیں کہ پاکستانی ٹیم آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر آگئی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اس میں مزید بہتری لائی جائے۔
’حسن علی پر تنقید کرنے والے آج ان کی تعریف کر رہے ہیں‘
سوشل میڈیا پر پاکستانی فاسٹ بولر حسن علی اس وقت ٹرینڈ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے راولپنڈی ٹیسٹ میں کل 10 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کی جیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
بہت سے لوگ حسن علی کے ان سپیلز کی تعریف کر رہے ہیں جن میں انھوں نے تیز رفتار ریورس سوئنگ بولنگ کی اور جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا۔
ٹوئٹر صارف شاہزیب علی نے لکھا کہ حسن علی کی کہانی بہت متاثرکن ہے۔ 'انھوں نے کئی بار ٹیم میں واپسی کی کوشش کی لیکن انجری کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔۔۔ ہم میں سے کئی لوگ سوچتے رہے کہ اب وہ ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔ لیکن انھوں نے اپنی پرفارمنس کے ذریعے سب کو غلط ثابت کیا۔'

،تصویر کا ذریعہTWITTER
صحافی فیضان لکھانی کے مطابق حسن علی وہ دوسرے پاکستانی فاسٹ بولر ہیں جنھوں نے گذشتہ 15 برسوں کے دوران ایک ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان سے پہلے محمد عباس نے 2018 میں اور محمد آصف نے 2006 میں ایسا کیا تھا۔
صارف علی حسن کہتے ہیں کہ 'حسن علی پر جتنی تنقید کی جاتی تھی۔۔۔ آج وہی حضرات تعریف کے پل باندھ رہے ہیں۔'
ایمن نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انھیں حسن علی کو 'حسن علی والی چیزیں کرتا دیکھ بہت لطف آتا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTWITTER
بعض لوگوں نے حسن علی کے اس سٹائل پر بھی بات کی جو وہ وکٹ لینے کے بعد اپناتے ہیں۔ فدا حسانی نے لکھا 'جہاں بجلی نہیں ہوتی وہاں (حسن علی کا) جنریٹر ہی کام آتا ہے۔'
اور کچھ صارفین طنزیہ ایسے ٹویٹس کرتے رہے جن میں کہا گیا کہ اب سیاسی جماعتیں اس بات کا کریڈٹ بھی لیں گی کہ حسن علی ’ان کے دور میں ٹیم میں شامل ہوئے۔‘
وقاص نامی صارف نے لکھا کہ حسن علی کی انجری اور پھر ان کی شادی کے بعد اس وقت کافی طنزیہ میمز بنے اور ان پر تنقید ہوئی جب وہ ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔ 'میں حسن علی کے لیے بہت خوش ہوں۔۔۔ یہ بہترین کم بیک ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTWITTER
اس فتح کے نتیجے میں پاکستانی کپتان بابر اعظم بطور کپتان اپنے کریئر کی پہلی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب رہے۔ وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پانچویں پاکستانی کپتان ہیں۔ ان سے قبل فضل محمود، مشتاق محمد، جاوید میانداد اور سلیم ملک نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
اس فتح کے بعد پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں دو درجہ ترقی کے بعد پانچویں نمپر پر پہنچ گیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کا نمبر ایک درجہ تنزلی کے بعد اب چھٹا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بازی کا فیصلہ کیا تھا اور پاکستان نے پہلی اننگز میں 272 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 201 رنز بنا سکی تھی۔
دوسری اننگز میں پاکستان نے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے کریئر کی پہلی ٹیسٹ سنچری کی بدولت 298 رنز بنا کر مہمان ٹیم کو فتح کے لیے 370 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی ٹیم: عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی
جنوبی افریقہ کی ٹیم: ڈین ایلگر، ایڈن مارکرم، راس وین ڈیوسن، فاف ڈو پلیسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور ویان ملڈر













