پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: یاسر شاہ مہمان ٹیم کو چوتھے دن جلد از جلد پویلین لوٹانے کے لیے پُرامید

یاسر شاہ

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیگ سپنر یاسر شاہ نے کہا ہے کہ اُن کی کوشش یہی ہوگی کہ چوتھے دن جتنا جلد ہوسکے جنوبی افریقہ کو آل آؤٹ کرسکیں کیونکہ اُن کے مطابق نیشنل سٹیڈیم میں چوتھی اننگز میں وکٹ سپنرز کے لیے سازگار ہوجاتی ہے۔

کراچی میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ میں تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسر شاہ نے کہا ہے کہ اُن کے نزدیک دوسرے اینڈ سے بھی مستند سپنر کی موجودگی اتنی ہی اہم ہے جتنی فاسٹ بولرز کی جوڑی۔

یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی اچھے سپنر کے ساتھ کھیلتے ہیں تو ایک اچھا کامبی نیشن بن جاتا ہے کیونکہ ایک طرف سے آپ وکٹیں لیتے ہیں تو دوسری طرف سے دوسرا بولر بھی وکٹیں لے رہا ہوتا ہے جیسا کہ میرا ذوالفقار بابر کے ساتھ اچھا کامبی نیشن بنا ہوا تھا اور ہماری بولنگ نے ٹیم کو میچز جتوائے تھے۔

یاسر شاہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں لیفٹ آرم سپنر نعمان علی کا ساتھ میسر آیا ہے جو اپنے کریئر کا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں یاسر شاہ نے تین وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ نعمان علی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں یاسر شاہ اب تک تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرچکے ہیں اور نعمان علی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا ہے۔

اب پاکستانی ٹیم میچ کے چوتھے دن مہمان ٹیم کو بڑے سکور سے روکنے کے لیے انہی دونوں سپنرز خصوصاً یاسر شاہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ʹجب جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز آئی تو وکٹ سلو ہوگئی تھی اور بیٹسمینوں کو کھیلنے کا وقت مل رہا تھا لیکن گیند بریک بھی ہو رہی ہے اور بولرز کو باؤنس بھی مل رہا تھا۔ ہم فائٹ بیک کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ہمیں چار وکٹیں مل گئیں۔‘

یاد رہے کہ کراچی ٹیسٹ سے قبل یاسر شاہ نے اب تک جو 44 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں ان میں 20 ٹیسٹ ایسے ہیں جن میں ان کے ساتھ دوسرا مستند سپنر بھی کھیلا ہے۔ ان 20 ٹیسٹ میچوں میں یاسر شاہ کا سب سے زیادہ ساتھ لیفٹ آرم سپنر ذوالفقار بابر کا رہا ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ 12 ٹیسٹ میچوں میں کھیلے ہیں جن میں ذوالفقار بابر کی 45 وکٹیں شامل ہیں جبکہ ان 12 ٹیسٹ میچوں میں یاسر شاہ کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 76 رہی تھی۔

یاسر شاہ نے ان 20 ٹیسٹ میچوں میں جن مستند سپنرز کے ساتھ بولنگ کی ہے ان میں ذوالفقار بابر کے علاوہ محمد نواز، شاداب خان اور بلال آصف شامل ہیں۔ ان 20 ٹیسٹ میچوں میں یاسر شاہ مجموعی طور پر 129 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ بولنگ کرنے والے سپنرز کی مجموعی وکٹیں 67 رہی ہیں۔

یاسر شاہ کو اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستانی بولرز نے بھی پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ کی ہے۔

یاد رہے کہ فہیم اشرف نے 64، حسن علی نے 21، نعمان علی نے 24اور یاسر شاہ نے 38 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی ہیں۔ یاسر شاہ اور نعمان علی کے درمیان آخری وکٹ کی شراکت میں 55رنز صرف47 منٹ میں بنے تھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پہلے ٹیسٹ میں تیسرے دن کی صورتحال

کراچی میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین جاری دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں تیسرے دن کا کھیل اب سے کچھ دیر قبل ختم ہو چکا ہے اور دوسری اننگز میں جنوبی افریقی بلے بازوں نے انتہائی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔

اب سے کچھ دیر قبل جنوبی افریقہ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے۔

جنوبی افریقہ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ڈین ایلگر تھے جو کہ 29 کے انفرادی سکور پر یاسر شاہ کی گیند پر وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم جمعرات کی صبح آخری وکٹ کے لیے نعمان علی اور یاسر شاہ کی 55 رنز کی شراکت کی بدولت پہلی اننگز میں 378 بنانے میں کامیاب رہی۔

تیسرے دن کا کھیل شروع ہوا تو دن کے دوسرے اوور میں ہی جنوبی افریقہ کو نویں کامیابی مل گئی جب حسن علی 21 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوگئے۔ یہ جنوبی افریقہ کے بولر ربادا کی ٹیسٹ میچوں میں 200ویں وکٹ بھی تھی۔

میچ میں دوسرے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستانی ٹیم نے پہلی اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 308 رنز بنائے تھے۔ اس دن کی خاص بات فواد عالم کی سنچری تھی جنھوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 109 رنز بنائے۔

ان کے علاوہ آل راؤنڈر فہیم اشرف نے 64 رنز کی باری کھیلی اور فواد کے ساتھ 102 رنز کی شراکت قائم کی جس نے ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل اظہر علی 51 رنز جبکہ محمد رضوان 33 کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے کیشو مہاراج، نورکیا، نگیڈی اور ربادا نے دو، دو وکٹیں حاصل کی ہیں۔

بدھ کی صبح جب دوسرے دن کے کھیل کا آغاز ہوا تو پاکستان نے 33 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ پر اپنی اننگز شروع کی تھی۔ منگل کے آخری سیشن میں پاکستان کی چار وکٹیں گِر چکی تھیں۔

میچ کے پہلے دن جب جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا آغاز کیا تو ان کے بلے بازوں کو کافی مشکلات رہیں اور پاکستانی بولرز ان پر حاوی رہے۔ مہمان ٹیم 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

مگر پھر پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا آغاز اچھا نہ تھا اور اس کے دونوں اوپنر 15 کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔ آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز عابد علی تھے جو چار رنز بنا سکے جبکہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے عمران بٹ کے ٹیسٹ کریئر کی پہلی اننگز صرف نو رنز پر تمام ہوئی۔ یہ دونوں وکٹیں ربادا نے حاصل کیں۔

عابد علی

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشناوپنر عابد علی محض چار رنز بنا سکے

نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں زخمی ہونے کی وجہ سے حصہ نہ لینے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم کا سکور بھی دوہرے ہندسوں تک نہ پہنچ سکا اور وہ سات رنز بنا کر کیشو مہاراج کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ یہ بابر اعظم کا بطور کپتان پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

چوتھی وکٹ نائٹ واچ مین شاہین شاہ آفریدی کی گری جو صرف چار گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور نورجے کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

پاکستان، جنوبی افریقہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیچ کے پہلے روز پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور مہمان ٹیم کو 70ویں اوور میں 220 رنز کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا

اس سے قبل منگل کی صبح نیشنل سٹیڈیم میں 14 برس کے وقفے کے بعد پاکستان آنے والی جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور مہمان ٹیم کو 70ویں اوور میں 220 رنز کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا۔

مہمان ٹیم کی جانب سے ڈین ایلگر کے علاوہ کوئی بھی بلے باز وکٹ پر جم نہ سکا۔ ایلگر نے 58 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ جارج لنڈے 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے سپنر یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ شاہین آفریدی کے علاوہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے نعمان علی نے دو، دو وکٹیں لیں جبکہ ایک وکٹ حسن علی کو ملی۔

پاکستانی فیلڈرز نے پہلی اننگز میں عمدہ فیلڈنگ کا مظاہرہ کیا اور جنوبی افریقہ کے دو کھلاڑی رن آؤٹ ہوئے۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشننیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں زخمی ہونے کی وجہ سے حصہ نہ لینے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم کا سکور بھی دوہرے ہندسوں تک نہ پہنچ سکا

مبصرین کے مطابق اس میچ میں سپنرز کی کارکردگی انتہائی اہم رہے گی اور دونوں ٹیموں کی جانب سے اس پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تجربہ کار یاسر شاہ اور اپنا پہلا میچ کھیل رہے نعمان علی کو بطور سپیشلسٹ سپنر شامل کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی افریقہ کی طرف سے بھی دو سپنر کیشو مہاراج اور جارج لد ٹیم میں شامل ہیں۔

اس میچ میں پاکستان کے دو کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کریئر کا آغاز ہوا ہے اور بلے باز عمران بٹ اور سپنر نعمان علی کو ٹیسٹ کیپ دی گئی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم:

عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی

جنوبی افریقہ کی ٹیم:

ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو ماہراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور لونگی نگیڈی