پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کو جنوبی افریقہ پر 200 رنز کی برتری حاصل، چھ وکٹوں کا نقصان

حسن علی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے 2019 کے عالمی کپ میں انڈیا کے خلاف میچ کھیلا تو وہ کارکردگی کے لحاظ سے ان کے لیے انتہائی مایوس کن میچ ثابت ہوا تھا جس میں ان کے 9 اوورز میں 84 رنز بنے اور وہ روہت شرما کی وکٹ ان کے 140 رنز کے بعد حاصل کر سکے۔

لیکن حسن نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ اس میچ کے بعد ان کا بین الاقوامی کیریئر خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

حسن علی کمر کی تکلیف میں ایسے مبتلا ہوئے کہ کوئی بھی یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں ان کی واپسی کب ممکن ہوسکے گی مگر اب وہ نہ صرف دوبارہ پاکستانی ٹیم کا حصہ بن چکے ہیں بلکہ بولنگ میں وہی پرانی جھلک دکھانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

حسن علی تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیم سے باہر رہنے کے بعد کا عرصہ ان کے لیے بڑا تکلیف دہ رہا۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے تیسرے دن کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حسن علی نے بتایا: ʹمیرے لیے سولہ سترہ ماہ بہت سخت تھے۔ میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنی فٹنس کی بحالی پر کام کررہا تھا اور قریب واقع قذافی سٹیڈیم میں میرے ساتھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے تھے اور میں دُکھ کی کیفیت میں تھا لیکن اس تمام عرصے میں میں نے دن رات سخت محنت کی۔

'ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس آیا اپنی فٹنس اور پرفارمنس دکھائی جس کا نتیجہ میری ٹیم میں واپسی کی شکل میں سب کے سامنے ہے۔'

حسن علی کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا کہ وہ ان فٹ ہوکر ٹیم سے باہر تھے لیکن سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک رہے۔ اس بارے میں وہ ایک واضح سوچ رکھتے ہیں۔

'آپ کی زندگی میں اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں لیکن آپ کو چاہیے کہ مطمئن رہیں اور مسکراتے رہیں۔ اللہ نے زندگی ایک ہی بار دی ہے اسے ہنس کر گزاریں۔

’سوشل میڈیا اسی لیے ہے کہ آپ کو اپنے پرستاروں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ میرے حوصلے بلند ہیں اور اپنی سخت محنت جاری رکھی ہوئی ہے۔‘

حسن علی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پاکستان کے جانب سے حسن علی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں

حسن علی کے بارے میں یہ بات بھی کہی جارہی تھی کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کی واپسی بتدریج ہونی چاہیے تھی اور انھیں براہ راست ٹیسٹ میچ کھلانے سے قبل محدود اوورز کے میچوں میں کھلایا جانا چاہیے تھا۔

حسن علی اس بارے میں کہتے ہیں ʹمجھے ٹیسٹ کرکٹ بہت پسند ہے۔ مجھے شروع ہی سے ٹیسٹ کرکٹر بننے کا بہت شوق تھا اور میں ٹیسٹ کرکٹر بنا۔ میں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنے کے لیے اپنی فٹنس پر بہت زیادہ محنت کررہا تھا۔‘

’ٹیم مینجمنٹ کا یہی خیال تھا کہ مجھے آہستہ آہستہ واپس لائیں لیکن جس طرح میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلا اور میری کارکردگی رہی تو میں نےانھیں کہا تھا کہ آپ مجھے جس فارمیٹ میں بھی موقع دیں گے میں اس کے لیے تیار ہوں اور اپنی سو فیصد کارکردگی دکھاؤں گا۔‘

یاد رہے کہ حسن علی نے اس سال قائداعظم ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 وکٹیں حاصل کیں جو اس سال کسی بھی فاسٹ بولر کی سب سے بہترین کارکردگی تھی۔ فائنل میں انھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ ناقابل شکست سنچری بھی سکور کی تھی جس میں سات چھکے اور دس چوکے شامل تھے۔

حسن علی راولپنڈی ٹیسٹ میں اپنی پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بارے میں کہتے ہیں ʹاس کارکردگی میں رفتار اور لینتھ کے ساتھ ساتھ ریورس سوئنگ کا عمل دخل شامل تھا۔

حسن علی ٹیسٹ میچ کے ممکنہ نتیجے کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلے بازوں کے لیے صورتحال اس وقت مشکل ہے۔

'وکٹ سلو ہے اس لیے بولرز حاوی نظر آرہے ہیں اور رنز آسانی سے نہیں بن پا رہے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کی 200 رنز کی برتری ہے اور اس وکٹ پر ’ہمارے سپنرز کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بھی آسان نہیں ہے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ زیادہ سے زیادہ رنز کا اضافہ کرسکیں تاکہ بولنگ کرتے وقت ہم پر دباؤ نہ ہو۔‘

راولپنڈی ٹیسٹ: پاکستان کی جنوبی افریقہ پر 200 رنز کی برتری

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو جنوبی افریقہ پر 200 رنز کی سبقت حاصل ہے۔

تیسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں 51 اوورز کے بعد چھ وکٹوں کے نقصان پر 129 رنز بنائے ہیں، اور اس وقت کریز پر محمد رضوان اور حسن علی موجود ہیں۔

پاکستانی ٹاپ آرڈر میں کوئی بھی بلے باز لمبی اننگز نہ کھیل سکا۔ اظہر علی نے اپنے 33 رنز کے ساتھ مزاحمت دکھائی۔ جنوبی افریقی بولرز میں سے جارج لنڈے نے تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔

پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

پاکستان کو پہلا نقصان عمران بٹ کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا جو بغیر کوئی رن بنائے ربادا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے جبکہ دوسری وکٹ عابد علی کی گری جو کیشو مہاراج نے حاصل کی۔

اظہر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناظہر علی نے دوسری اننگز میں اپنے 33 رنز کے ساتھ مزاحمت دکھائی

عمران بٹ اور عابد علی کی جوڑی اس سیریز کے دوران خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پائے۔ عمران بٹ نے چار اننگز میں 35 رنز بنائے، جبکہ عابد علی نے 33 رنز بنائے۔

اوپنرز کے پویلین لوٹنے کے بعد بابر بھی چائے کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر لیفٹ آرم آف سپنر کیشو مہاراج کی بولنگ پر ایک مرتبہ پھر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ انھوں نے آٹھ رنز بنائے۔ یہ اس سیریز میں تیسرا موقع ہے جب کپتان بابر اعظم کیشو مہاراج سے آؤٹ ہوئے ہیں۔

اظہر علی کافی دیر تک جنوبی افریقی بولرز کے سامنے ڈٹے رہے، تاہم وہ بھی 33 رنز بنانے کے لیفٹ آرم آف سپنر، جارج لنڈے کا شکار بنے۔ جبکہ سپنر جارج لنڈے کی گیند پر فواد عالم اور فہیم اشرف کیچ آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں پاکستان کے جانب سے حسن علی نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ انھوں نے پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کے ذریعے وکٹیں حاصل کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی سبقت کم کرنے کی تمام کوششیں ناکام بنائیں۔

مہاراج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس سے قبل، پاکستان کو تیسرے دن کے آغاز میں ہی ڈی کاک کی وکٹ کی شکل میں ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی تھی جس کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم نے محتاط انداز اپنا لیا تھا۔

ڈی کاک نے صرف 20 گیندوں پر 29 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور وہ شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیمبا باووما اور ویان ملڈر نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو آغاز میں نقصان کے بعد سنبھالا دیا۔

دونوں بلے بازوں کے درمیان 49 رنز کی شراکت قائم ہوئی ہی تھی کہ ہچھلے ٹیسٹ میچ کی طرح اس مرتبہ بھی جنوبی افریقہ کی ٹیم رن آؤٹ کروا بیٹھی۔ شاہین آفریدی کی تھرڈ مین باؤنڈری سے عمدہ تھرو کے نتیجے میں ویان ملڈر آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 33 رنز بنائے۔

کچھ ہی اوورز کے بعد جارج لنڈے بھی حسن علی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ کھانے کے وقفے کے بعد حسن علی نے پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کا خوب فائدہ اٹھایا اور کیشو مہاراج کو بھی بولڈ کر کے چوتھی وکٹ حاصل کی۔

اس کے بعد عابد علی کی عمدہ تھرو نے ربادا کی اننگز تمام کی اور اگلے ہی اوور میں حسن علی نے نورکیا کو بولڈ کر کے جنوبی افریقہ کو 201 رنز پر آل آؤٹ کر دیا۔

آج دن کے آغاز میں پاکستان کے نعمان علی اور شاہین آفریدی نے بولنگ کا آغاز کیا، جس کے بعد ایک اینڈ سے حسن علی اور فہیم اشرف کو بھی بولنگ کا موقع دیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران متعدد اوورز بارش یا خراب روشنی کے باعث ضائع ہوئے ہیں جس کے باعث دن کا آغاز آدھا گھنٹہ جلدی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور گذشتہ دو روز سے کھیل 9 بج کر 45 منٹ پر شروع ہو رہا ہے۔

گذشتہ روز کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے چار وکٹوں کے نقصان پر 106 رنز بنائے تھے۔ دوسرے دن کا کھیل پاکستانی آلراؤنڈر فہیم اشرف کے نام رہا تھا، جنھوں نے 78 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیلی تھی اور پاکستان 272 رنز کے ٹوٹل تک پہنچنے میں مدد کی تھی۔

پاکستان کی ٹیم:

عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی

جنوبی افریقہ کی ٹیم:

ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور ویان ملڈر