پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: دوسرے دن کا کھیل ختم، جنوبی افریقہ کے 106 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ

فہیم اشرف

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفہیم اشرف کے 78 رنز کی اننگز نے پاکستان کے سکور کو 272 تک پہنچایا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین ناکام ہوجائیں تو ایسے میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے فہیم اشرف ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکال کر لے جاتے ہیں ۔یہ منظر ہم پچھلے چند برسوں کے دوران متعدد بار دیکھ چکے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے دن بھی پاکستانی ٹیم کو اسی طرح کی صورتحال کا سامنا تھا جب صرف 149 رنز پر اس کی 5 وکٹیں گرچکی تھیں لیکن فہیم اشرف نے اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کی مدد سے پاکستان کا سکور 272 تک پہنچا دیا۔

فہیم اشرف کو اگر اپنے ان ساتھیوں سے مزید مدد مل جاتی تو وہ وہ اپنی 78 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کو پہلی ٹیسٹ سنچری میں بدل سکتے تھے جو پہلے بھی دو بار قریب آکر ان سے دور ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے 106 رنز بنائے ہیں جبکہ اس کے چار کھلاڑی پویلین واپس لوٹ چکے ہیں۔

'نصیب میں لکھا ہوگا تو سنچری بھی بن جائے گی'

فہیم اشرف کہتے ہیں ʹسنچری نہ ہونے کا افسوس ضرور ہوتا ہے لیکن میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ اگر یہ میرے نصیب میں لکھی ہے تو ضرور ہوگیʹ۔

یاد رہے کہ فہیم اشرف نے سنہ 2018 میں آئرلینڈ کے خلاف ڈبلن میں اپنے ٹیسٹ کریئر کی ابتدا کی تھی اور آٹھویں نمبر پر 83 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی تھی۔ اس وقت بھی پاکستانی ٹیم 159 رنز پر چھ وکٹیں گنوا چکی تھی اور فہیم اشرف نے شاداب خان کے ساتھ ساتویں وکٹ کی شراکت میں 117 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

دوسری مرتبہ فہیم اشرف سنچری کے قریب آکر اس وقت دور ہوئے جب گزشتہ دسمبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہیں جیمی سن نے صرف 9 رنز کی کمی سے تین ہندسوں تک نہیں پہنچنے دیا۔ اتفاق دیکھیے کہ اس اننگز میں بھی پاکستان کی چھ وکٹیں صرف 80 رنز پر گرچکی تھیں اور پھر فہیم اشرف نے محمد رضوان کے ساتھ سکور میں 107 رنز کا اضافہ کیا تھا۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ فہیم اشرف کو دباؤ میں اعتماد سے بیٹنگ کا فن آتا ہے۔

اس بارے میں وہ کہتے ہیں ʹفرسٹ کلاس کرکٹ میں متعدد بار میں اس صورتحال سے گزر چکا ہوں۔ میری دو فرسٹ کلاس سنچریاں آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے بنی ہیں۔ آپ پر کپتان کا بھی اعتماد ہوتا ہے جو آپ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہےʹ۔

اس حقیقیت کے باوجود کہ فہیم اشرف تواتر کے ساتھ بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں وہ خود کو پہلے بولر اور پھر بیٹسمین سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہےʹ جب میرا کریئر ختم بھی ہورہا ہوگا اس وقت بھی میں یہی کہہ رہا ہوں گا کہ میں بولنگ آل راؤنڈر ہوں۔ بیٹنگ میری اضافی خصوصیت ہے۔ اس میں محنت کی ہے اس لیے اچھی پرفارمنس ہو رہی ہےʹ۔

فہیم اشرف یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ پاکستانی ٹیم کی ٹیل (ٹیل اینڈرز) لمبی ہے۔

وہ کہتے ہیںʹ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ٹیل ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو حسن علی، یاسر شاہ اور نعمان علی سب ہی نے رنز کر رکھے ہیں بلکہ مجھے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے اچھا کھیل رہے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ کھیلتے ہوئے مجھے اعتماد محسوس ہوتا ہےʹ۔

فہیم اشرف

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفہیم اشرف کا کہنا ہے کہ حسن علی، یاسر شاہ اور نعمان علی سب ہی نے رنز کر رکھے اس لیے یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان کی ’ٹیل‘ لمبی ہے

فہیم اشرف کا کہنا ہے ʹجب آپ نچلے نمبر کے بیٹسمینوں کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں تو آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا زیادہ سکور کرسکتے ہیں وہ کرلیں تاکہ حریف ٹیم کو دباؤ میں لے سکیں۔ اب جو کرکٹ ہے اس میں آپ زیادہ دفاعی انداز اختیار نہیں کرسکتے اور جو بھی خراب گیند ملتے ہیں اس پر آپ نے اٹیک کرنا ہےʹ۔

فہیم اشرف کہتے ہیں ʹوکٹ سپنرز کے لیے مددگار ہوتی جا رہی ہے اور نعمان علی چونکہ اس گراؤنڈ پر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے ہیں لہذا وہ اپنے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیںʹ۔

راولپنڈی ٹیسٹ: دوسرے دن کا کھیل ختم، جنوبی افریقہ کے 106 رنز پر چار کھلاڑی آوٹ

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر جنوبی افریقہ نے 106 رنز بنا لیے جبکہ اس کے چار کھلاڑی پویلین واپس لوٹ چکے ہیں۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ایڈن ماکرم اور ڈین ایلگار نے اننگز کا آغاز کیا۔ پہلے آوٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی ڈین ایلگار تھے جو کہ حسن علی کی گیند پر کیپر رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس کے بعد اگلی ہی گیند پر ہی راسی وان ڈرڈیوسن کو حسن علی نے کلین بولڈ کر دیا۔ آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی فاف ڈوپلسی تھے۔

چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ایڈن ماکرم ہیں جو نعمان علی کی گیند پر ایک آسان کیچ تھما بیٹھے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنحسن علی نے اب تک جنوبی افریقہ کی دو وکٹیں حاصل کی ہیں

اس سے پہلے پاکستان نے اپنی اننگز 272 رنز پر مکمل کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف 78 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے ہیں۔

دوسرے دن کے آغاز پر پہلے اوور میں ہی بابر اعظم انریچ نورتہے کی گیند پر دوسری سلپ میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

اس کے بعد فواد عالم 45 کے انفرادی سکور پر رن آوٹ ہوگئے اور گذشتہ روز شاندار شراکت بنانے والے دونوں پاکستانی بلے باز آج صبح جلد ہی آؤٹ ہوگئے۔

ان دو جھکٹوں کے بعد فہیم اشرف اور محمد رضوان نے 41 رنز کی شراکت کی تاہم وکٹ کیپر رضوان 18 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوگئے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد رضوان کے آؤٹ ہونے کے بعد فہیم اشرف نے ٹیم کے آخری کھلاڑیوں کے ساتھ ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے مجموعی طور پر ٹیم کے سکور میں 82 رنز کا اضافہ کیا۔

پہلے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 145 رنز بنائے تھے۔ پہلے دن چائے کے وقفے کے بعد بارش کی وجہ سے میچ کو روکنا پڑ گیا اور دن کا تیسرا سیشن نہیں کھیلا جا سکا تھا۔

بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور فواد عالم کے ساتھ مل کر ان دونوں نے کے درمیان 123 رنز کی شراکت ہوئی۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ سے پہلے یہاں کھیلے گیے دس ٹیسٹ میچوں میں سے پانچ میں جیتنے والی ٹیم کی کامیابی ایک اننگز کے فرق سے زیادہ مارجن سے تھی۔ ان دس میچوں میں صرف ایک مرتبہ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کامیاب رہی ہے، 6 مرتبہ دوسری بیٹنگ کرنے والی ٹیم جیتی اور تین میچ برابر رہے۔

اس گراؤنڈ پر پہلی اننگز کا اوسط سکور 299 رنز ہے جبکہ دوسری اننگز کا اوسط سکور 398 ہے۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے تو پہلے دن کے پہلے سیشن میں ہی ٹیم کے ٹاپ تین بلے باز ناکام ہو کر پویلین لوٹ آئے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان کوئنٹن ڈی کاک نے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ساتویں اوور میں ہی سپنر کیشو ماہراج کو متعارف کروا دیا اور بظاہر یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی ہے۔

پاکستان کی جانب سے عابد علی اور عمران بٹ نے اننگز کا آغاز کیا ہے۔ اپنا دوسرا میچ کھیل رہے عمران بٹ پاکستان کی جانب سے آؤٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے۔ وہ 15 کے انفرادی سکور پر کیشو ماہراج کی گیند پر کوئنٹن ڈی کاک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ٹیم میں پاکستان کے سب سے تجربہ کار بلے باز اظہر علی آج صفر کے سکور پر ہی ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔ اظہر علی کی وکٹ بھی کیشو ماہراج نے لی۔

آؤٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی عابد علی تھے جو کہ انریچ نورتہے کی گیند پر ماکرم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

کھانے کے وقفے تک پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 63 رنز بنائے تھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یاد رہے کہ پاکستان نے سیریز کے پہلے کرکٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی تھی۔

بحیثیت کپتان اپنے پہلے ٹیسٹ میں جیت سے ہمکنار ہونے والے بابر اعظم اس کامیابی کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم صرف اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی ٹیسٹ میچز جیتے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بابر اعظم نے کراچی ٹیسٹ کے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے دورے میں شکست کے بعد یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ جیت ہمارے لیے بہت ضروری تھی۔

پاکستان کی ٹیم:

عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی

جنوبی افریقہ کی ٹیم:

ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو ماہراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور ویان ملڈر