گوادر سٹیڈیم: کرکٹ کی دنیا کے ایسے سٹیڈیم جو دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں

،تصویر کا ذریعہISPR
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر کرکٹ سٹیڈیم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہر کوئی اس کا گرویدہ دکھائی دے رہا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا شمار دنیا کے سب سے دلکش میدانوں میں کیا جانا چاہیے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی گوادر کرکٹ سٹیڈیم کی تصویریں اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہیں۔ ساتھ ہی آئی سی سی نے لوگوں سے یہ بھی پوچھا کہ ’ہمیں مزید کھیلوں کے خوبصورت سٹیڈیمز دکھائیں جو بلوچستان کے گوادر کرکٹ سٹیڈیم سے زیادہ دلکش ہوں۔ ہم انتظار کریں گے۔‘
اس ٹویٹ کے جواب میں بہت سے صارفین اور کرکٹ شائقین نے آئی سی سی کو اپنے اپنے پسندیدہ گراؤنڈز کے بارے میں ناصرف بتایا بلکہ ان گراؤنڈز کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔
دنیا بھر میں ایسے متعدد کرکٹ گراؤنڈز ہیں جو اپنے محل وقوع اور خوبصورتی کے اعتبار سے دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان خوبصورت کرکٹ گراؤنڈز میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
کوئنز ٹاؤن، نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوٹاگو میں کوئنز ٹاؤن کا ایونٹس سینٹر متعدد کھیلوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں کرکٹ، رگبی، ٹینس، گالف اور تیراکی قابل ذکر ہیں۔
کرکٹ گراؤنڈ کے پس منظر میں واقع پہاڑ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
اس گراؤنڈ میں 19 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جن میں سے چھ ہزار مستقل نشستیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئنز ٹاؤن کی وجہ شہرت یہ ہے کہ سنہ 2014 میں نیوزی لینڈ کے بلے باز کورے اینڈرسن نے اس میدان میں پاکستان کے شاہد آفریدی کا 37 گیندوں پر تیز ترین ون ڈے سنچری کا عالمی ریکارڈ صرف ایک گیند کے فرق سے توڑا تھا۔ بعد میں اینڈرسن کا یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنے نام کر لیا تھا۔
اس گراؤنڈ میں سنہ 2003 سے انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے۔
دھرمشالہ کرکٹ سٹیڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دھرمشالہ کی وجہ شہرت پہلے دلائی لامہ کی وجہ سے رہی تھی لیکن اب دنیا اس علاقے کو ایک انتہائی خوبصورت سٹیڈیم کی وجہ سے بھی پہچانتی ہے۔
ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن سٹیڈیم کی سحرانگیزی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کی وجہ سے قائم ہے۔ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں اس کی خوبصورتی مزید بڑھا دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سٹیڈیم اب انڈیا کے اہم بین االاقوامی کرکٹ مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے علاوہ باقاعدگی سے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میچز ہوتے ہیں۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم اس سٹیڈیم میں انڈیا اے کے خلاف میچ کھیل چکی ہے تاہم سنہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان یہاں ہونے والا میچ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر کلکتہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
نیولینڈز، کیپ ٹاؤن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں واقع نیو لینڈز کرکٹ گراؤنڈ میں داخل ہوتے وقت کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی توجہ پس منظر میں واقع ٹیبل ماؤنٹین سے ہٹا سکے۔ اسی وجہ سے اس میدان کو دنیا کے سب سے خوبصورت کرکٹ گراؤنڈز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس گراؤنڈ میں میچز دیکھنے والے ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ایک ایسی تصویر بنوائے جس میں ٹیبل ماؤنٹین اور ڈیولز پیک ضرور دکھائی دے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیولینڈز سنہ 1889 سے ٹیسٹ کرکٹ کا اہم مرکز ہے۔ اس کے علاوہ اس گراؤنڈ میں کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھی کھیلے جا چکے ہیں۔
گال کرکٹ سٹیڈیم، سری لنکا
سری لنکا کے شہر گال میں واقع گال کرکٹ سٹیڈیم سونامی میں تباہ ہو گیا تھا جسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سٹیڈیم کی اصل خوبصورتی اس کے ساتھ واقع قلعے اور سمندر کی وجہ سے ہے۔ اس قلعے کو یونیسیف نے ثقافتی ورثے کا درجہ دے رکھا ہے۔
پالیکلے سٹیڈیم، کینڈی
سری لنکا کے پہاڑی شہر کینڈی میں پالیکلے سٹیڈیم نے پرانے اسگیریا سٹیڈیم کی جگہ لی ہے۔ یہ سٹیڈیم شہر سے باہر واقع ہے تاہم اپنے محل وقوع کی وجہ سے خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سٹیڈیم کو شہرۂ آفاق سپنر مرلی دھرن کے نام سے منسوب کرنے کا پروگرام تھا لیکن پھر اس پر عمل نہ ہو سکا۔
اس سٹیڈیم کو سنہ 2011 کے عالمی کپ کے میچوں کے لیے تیار کیا گیا تھا جس کے بعد یہاں سنہ 2012 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز بھی کھیلے گئے تھے۔










