انڈیا بمقابلہ آسٹریلیا: نوجوان انڈین ٹیم کی برسبین ٹیسٹ اور سیریز میں فتح، بورڈ کا پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان

شبھمن گِل، آسٹریلیا، انڈیا، ٹیسٹ سیریز، گابا

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈیا کی ایک نسبتاً ناتجربہ کار کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں دو ایک سے شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

برسبین میں کھیلے جانے والے چار میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں آسٹریلیا نے مہمان ٹیم کو فتح کے لیے 328 رنز کا ہدف دیا تھا جو انڈیا نے سات وکٹوں کے نقصان پر میچ کے آخری سیشن میں اس وقت حاصل کیا جب محض تین اوورز کا ہی کھیل باقی تھا۔

انڈیا نے پانچویں روز اپنی دوسری اننگز بغیر کسی نقصان کے چار رنز پر شروع کی تو اسے آغاز میں ہی روہت شرما کی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا تاہم پھر 21 سالہ انڈین اوپنر شبھمن گِل نے 91 رنز کی پُراعتماد اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی جیت کی راہ ہموار کی۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلیا، انڈیا، ٹیسٹ سیریز، گابا

،تصویر کا ذریعہReuters

تجربہ کار بلے باز چیتیشور پُجارا نے اپنی نصف سنچری سے انڈین لوئر مڈل آرڈر کو یہ موقع دیا کہ وہ آخری سیشن میں جارحانہ انداز میں کھیل کر کامیابی سے ہدف کا تعاقب حاصل کر سکیں۔

انڈیا کی فتح میں اہم کردار وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پانٹ کا رہا جنھوں نے آخری دم تک ہمت نہیں ہاری اور نصف سنچری بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹ کمنز چار وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ جاش ہیزل وڈ نے دو اور نیتھن لائن نے ایک وکٹ حاصل کی۔

انڈین ٹیم کی فتح کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اس سیریز کے چار میں سے تین میچوں کے لیے اسے اپنے ریگولر کپتان اور سٹار بلے باز ویرات کوہلی کی خدمات حاصل نہیں تھیں، جو اپنی بیٹی کی پیدائش کی وجہ سے انڈیا واپس چلے گئے تھے۔

انڈیا، آسٹریلیا، ٹیسٹ سیریز

،تصویر کا ذریعہReuters

اس سیریز میں انڈین ٹیم کو اہم کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے بھی مشکلات درپیش رہیں اور آخری دو ٹیسٹ میچوں میں ایک نوجوان مگر ناتجربہ کار ٹیم میدان میں اتاری گئی۔

تاہم برسبین ٹیسٹ میں یہ نوجوان کھلاڑی مینجمنٹ کی امیدوں پر پورے اترے۔ بولنگ کے شعبے میں اپنا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے محمد سراج نے اپنے کیریئر میں پہلی بار اننگز میں پانچ وکٹیں لیں تو بلے بازی میں دوسرا ٹیسٹ کھیلنے والے شبھمن گِل جبکہ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے واشنگٹن سندر اور شاردل ٹھاکر نے نصف سنچریاں بنائیں۔

چار میچوں کی اس سیریز کا پہلا میچ آسٹریلیا نے جیتا تھا جبکہ دوسرے میچ میں انڈیا نے فتح حاصل کر کے سیریز برابر کر دی تھی اور تیسرا میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا تھا۔

’میچ کے ہر سیشن میں انڈیا کو ایک نیا ہیرو ملا‘

میچ ختم ہونے کے فوراً بعد انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے سوش میڈیا پر اپنے کھلاڑیوں کے لیے پانچ کروڑ روپے انعام (ٹیم بونس) کا اعلان کیا ہے۔

ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا پر انڈیا کی جیت پر تبصرے ہو رہے ہیں۔ اس دوران صارفین اس نوجوان ٹیم کی فتح پر ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

سچن

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سابق انڈین بلے باز سچن تندولکر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’ہر سیشن میں، ہمیں ایک نیا ہیرو ملا۔۔۔ ہم نے بے خوف کرکٹ کھیلی، نہ کہ غیر ذمہ دارانہ کرکٹ۔۔۔ یہ عظیم فتوحات میں سے ایک ہے۔‘

سوشل میڈیا صارف ریحان الحق نے لکھا کہ یہ نئے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرنے کا نتیجہ ہے۔

ریحان

،تصویر کا ذریعہTWITTER

انڈیا نے اس جیت کے ساتھ آئی سی سی کی ٹیسٹ ٹیم رینکنگز میں دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے لکھا کہ کرکٹ میں نئی نسل مختلف انداز میں سوچتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجنکیا رہانے انڈیا کے ایک خاموش لیکن جارحانہ لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔

انڈیا، آسٹریلیا، ٹیسٹ سیریز

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ہرشا نے لکھا کہ ’انڈیا کی نوجوان نسل نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔۔۔ ہماری نسل سوچتی ہے کہ شکست مت کھانا (یعنی میچ ڈرا کرنے کی طرف جاؤ)۔

’لیکن یہ (نئے لوگ) کسی اور ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ یہ فتح اور موقع دیکھتے ہیں۔‘

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ انڈیا کی ٹیم پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران 36 پر آل آؤٹ ہوگئی تھی جبکہ اس کے پاس اپنے چھ سے سات ریگولر کھلاڑی دستیاب نہیں تھے۔

ٹوئٹر پر حسن چیمہ نے لکھا کہ اس نوجوان انڈین کرکٹ ٹیم کی شہرت جانچنے کے لیے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اسے کافی زیادہ پاکستانیوں کی بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔