سمیع چوہدری کا کالم: رضوان نے بحران کا رستہ روک دیا

رضوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

قسمت ہمیشہ دلیروں کی یاوری کرتی ہے۔ اگرچہ کھیل میں عموماً زورِ بازو فیصلہ کن قوت ثابت ہوتا ہے مگر قسمت کا بہرحال اپنا ایک کردار ہے۔ یہ مختلف پہلوؤں میں مختلف انداز سے اجاگر ہوتا ہے۔

بالفرض ایک وکٹ نمی سے بھرپور ہو اور سیمرز وہاں پہلے اٹیک کرنے کو مچل رہے ہوں مگر کپتان ٹاس ہار جائے تو یقیناً یہ قسمت کا دوش ہو گا کیونکہ بولرز تو وہی ہوں گے۔ وکٹ بھی وہی ہو گی مگر ایک اننگز مکمل ہونے کے بعد وکٹ کے مزاج میں بہتیرا بدلاؤ آ چکا ہو گا۔

پہلے دونوں میچز میں ٹاس جیتنا شاداب خان کی خوش قسمتی تھی مگر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنا بارآور ثابت نہ ہوا۔ آج کے میچ میں اگر ولیمسن ٹاس جیت جاتے تو یقیناً وہ بھی پہلے بولنگ کا فیصلہ ہی کرتے کیونکہ دوسری اننگز میں اوس پڑنے کے پیشِ نظر بولنگ کرنا خاصا مشکل ہونا تھا۔

مگر قسمت ایک بار پھر شاداب کے ہم رکاب تھی اور پہلے بولنگ کے فیصلے نے اسے دوآتشہ کر دیا۔ اگر ایک بار پھر شاداب پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر بیٹھتے تو شاید نتیجہ بھی پہلے دونوں میچز جیسا ہی نکلتا۔

یہ بھی پڑھیے

شاداو خان اور رضوان اپیل کرتے ہوئے

،تصویر کا ذریعہMARTY MELVILLE

دو میچز کا تجربہ حاصل کرنے کے بعد شاداب کی فیصلہ سازی میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی اور بار بار بولنگ چینجز کرنے کی بجائے وہ ایک واضح پلان لے کر چلے جس نے نہ صرف بولرز کو ذہنی استحکام فراہم کیا بلکہ کیویز کے لئے رنز کے حصول کو بھی مشکل بنایا۔

اس وکٹ پہ فاسٹ بولرز کے لئے زندگی مشکل تھی۔ سیم اور سوئنگ کی عدم موجودگی میں بلے بازوں کا رستہ روکنا کافی مشکل تھا۔ شاہین آفریدی اور حارث رؤف کے ابتدائی سپیل خاصےمہنگے ثابت ہوئے۔

حسین طلعت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر تب فہیم اشرف کام آ گئے۔ فہیم گزشتہ عرصے میں پاکستان کے ٹی ٹونٹی یونٹ کا جزوِ لازم رہے ہیں۔ بنیادی وجہ اس کی یہ رہی کہ وہ پیس کے بدلاؤ کے ساتھ کٹر پھینکنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔

جو بریک تھرو پاکستان کو پاور پلے میں درکار تھا، وہ فہیم کے پہلے سپیل نے فراہم کیا۔ اس سپیل نے کیوی اننگز کا مومینٹم کچھ اس طرح سے چھیڑا کہ دوبارہ سنبھلتے سنبھلتے کئی اوور گزر گئے۔

لیکن اس وکٹ کے اعتبار سے کیویز پھر بھی ایک مسابقتی ہدف تشکیل دینے میں کامیاب رہے اور بہتر بولنگ پلان کے ساتھ یہ ہدف ناقابلِ تسخیر ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر پاکستان کا بیٹنگ پلان کیوی بولرز کے لئے بھاری ثابت ہوا۔

پہلے دونوں میچز کے برعکس پاکستان نے زیادہ متوازن الیون کا انتخاب کیا۔ محمد رضوان ویسے تو اپنے کرئیر کی بہترین فارم میں ہیں لیکن پچھلے دونوں میچز میں ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ماہرین پھر ان کے پیچھے پڑ گئے اور سرفراز کی واپسی کی صدائیں لگانے لگے۔

پاکستان مینیجمنٹ کے لئے بہرحال یہ بہت مشکل فیصلہ تھا۔ چار روز بعد رضوان ٹیسٹ سائیڈ کی قیادت کرنے والے تھے اور اگر اس میچ میں سرفراز کو ان پہ ترجیح دی جاتی تو پوری ٹیم کا ہی مورال پست ہونے کا امکان تھا۔

نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رضوان نے مگر اس بحرانی صورتِ حال کو اپنے اعتماد کی بحالی کے لئے مہمیز کے طور پہ استعمال کیا اور خوب کھل کر کھیلے۔ جو کردار بابر اعظم نبھاتے رہے ہیں، رضوان نے اس کا بوجھ اٹھایا اور خوش قسمتی سے کامیاب ٹھہرے۔

بیٹنگ آرڈر کی تبدیلی میں سب سے اچھا فیصلہ محمد حفیظ کی ون ڈاؤن پوزیشن پہ ترقی تھا۔ یہی وہ پوزیشن تھی کہ جس کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال پہلے دونوں میچز میں پاکستان کو مہنگی پڑی تھی۔

کرکٹ کسی بھی فارمیٹ کی ہو، ون ڈاؤن پوزیشن سب سے اہم تصور ہوتی ہے۔ یہ بیٹنگ نمبر ابتدائی نقصان کے بعد اننگز کی سمت متعین کرتا ہے۔ اس نمبر پہ کسی تجربہ کار سٹروک میکر کی موجودگی ضروری ہے۔

اس تناظر میں حفیظ کو اس نمبر پہ کھلانا پاکستان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوا۔ اور جوں جوں اننگز آگے بڑھی، قسمت نے ایک بار پھر اوس کی شکل میں پاکستان کی طرف داری کی اور ایک مشکل ہدف خاصی آسانی سے طے ہو گیا۔

یہ جیت پاکستان کے لئے نہایت ضروری تھی۔ پیش آمدہ ٹیسٹ سیریز پاکستانی ٹیلنٹ کے لئے کڑا امتحان ثابت ہونے والی ہے اور اگر یہ ایک جیت بھی پاکستان کے پلے نہ ہوتی تو خود اعتمادی کا بہت بڑا بحران پیدا ہو سکتا تھا۔

مگر آخرِ کار رضوان کی جرات مندی اور شاداب کی بہتر فیصلہ سازی نے اس بحران کا راستہ روک دیا۔