آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیع چوہدری کا کالم: عثمان قادر، وہ وعدہ جو وفا ہوا
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
مصباح الحق عموماً اپنی گیم اپروچ اور بسا اوقات اپنے بیانات کی وجہ سے بھی تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ پچھلے سال جب ان کی کوچنگ کے آغاز ہی میں پاکستان سری لنکا کی ایک ادھوری سی ٹیم سے ٹی ٹونٹی میں کلین سویپ ہوا تو ایک بار پھر سبھی توپوں کا رخ ان کی طرف ہو گیا۔
پریس کانفرنس میں کسی نے سوال اٹھایا کہ مسلسل گیارہ سیریز جیتنے والی ٹیم ایکا ایکی کلین سویپ کیسے ہو گئی تو مصباح کا کہنا تھا کہ دو سال تک پاکستان کے ناقابلِ شکست رہنے کی بنیادی وجہ بابر اعظم تھے جو طویل عرصہ تک ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے درجے پہ رہے۔
بعض مبصرین نے اس دلیل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ساری فتوحات کا کریڈٹ بابر اعظم کو دیتے وقت مصباح نے بولنگ کی تمام تر خدمات کو نظر انداز کیونکر کیا۔
ہوسکتا ہے مصباح کسی خاص پیرائے میں بات کر رہے ہوں لیکن پھر بھی یہ اعتراض بجا تھا کیونکہ اس سارے عرصے میں پاکستان کی ٹی ٹونٹی بولنگ اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ بہترین سے بہترین بلے بازوں کو بھی ہاتھ کھولنے کا موقع نہیں دیتی تھی۔
عماد وسیم اور محمد عامر پاور پلے میں ہی پریشر پیدا کر چھوڑتے۔ شاداب خان اور فہیم اشرف بیچ کے اوورز میں پے در پے وکٹیں گراتے اور وہاب ریاض ڈیتھ اوورز کے سپیشلسٹ تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ بیٹنگ لائن پہ بوجھ اتنا کم ہو جاتا کہ بابر اعظم کی فارم ہی اہداف حاصل کرنے کو کافی ہوتی۔
سمیع چوہدری کے دیگر کالم
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد وہ وقت آیا کہ یکے بعد دیگرے پاکستان ٹی ٹونٹی ہارنے لگا۔ عماد وسیم کے خلاف بلے باز محتاط ہوتے چلے گئے، شاداب خان کی فارم بالکل غائب ہو گئی اور جب مڈل اوورز میں ہی بولنگ کپتان میچ پہ اپنی گرفت کھو بیٹھے تو لامحالہ ڈیتھ اوورز کی بولنگ بھی دباؤ میں آ ہی جاتی ہے۔
ٹی ٹونٹی میں عمومی طور پہ مڈل اوورز ہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں فیلڈنگ ٹیم میچ کو قابو کر سکتی ہے۔ وہاں اگر وکٹیں گرتی رہیں تو میچ بولنگ کپتان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ لیکن اگر بلے باز جم جائیں تو رنز بھلے رک بھی جائیں، ڈیتھ اوورز میں ہی ایسی مار دھاڑ ہو جاتی ہے کہ میچ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
پچھلے ٹی ٹونٹی میں زمبابوے کی بیٹنگ لائن نے اگر توقعات سے بڑھ کر پرفارم کیا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ مڈل اوورز میں شاداب خان کی سی بولنگ دیکھنے کو نہ ملی اور فہیم اشرف بھی طویل غیر حاضری کے بعد اتنے خوش رنگ ثابت نہ ہو سکے۔
آج کے میچ میں زمبابوین بیٹنگ پھر کسی اچھے مجموعے کی تلاش میں تھی اور جب تک پچھلے میچ کے ہیرو ویزلے مدھویرے کریز پر موجود تھے، ایک اچھا مجموعہ خارج از امکان نہیں تھا۔ شرط یہ تھی کہ مدھویرے جیسا کوئی جرات مند بلے باز مڈل اوورز کا فائدہ اٹھاتا۔
ٹی ٹونٹی میں پاور ہٹرز کی بہت اہمیت ہے۔ ہر ٹیم اپنے لوئر مڈل آرڈر میں ایسے بلے بازوں کو ترجیح دیتی ہے جو گیند کو باونڈری پار پہنچا سکیں۔ زمبابوے کی اس ٹیم میں تین کھلاڑی ایسے ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔ مدھویرے، سکندر رضا اور ایلٹن چگمبرا میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بے خوف لمبی ہٹنگ کر سکتے ہیں۔
فیلڈنگ کپتان ایسے مراحل میں کنٹرول کے لیے اپنے لیگ سپنرز کی جانب دیکھتے ہیں۔ بابر اعظم سے پہلے سرفراز احمد بھی ہمیشہ شاداب خان سے امیدیں باندھا کرتے تھے اور کچھ میچز کے سوا ہمیشہ شاداب ان توقعات پہ پورا اترتے رہے۔
یہاں بابر اعظم کے پاس شاداب خان تو تھے نہیں، سو بابر کی تمام امیدیں عثمان قادر سے وابستہ تھیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ عثمان قادر کی پاکستان واپسی سے بہت امیدیں بندھی تھیں لیکن اس میچ سے پہلے تک ان کے نہایت مختصر کرئیر میں وہ وعدہ وفا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا جو ان کے ٹیلنٹ سے وابستہ تھا۔
آج مگر عثمان قادر بہت بدلے ہوئے بولر دکھائی دیے۔ گو کہ ان کے سپیل کا آغاز متاثر کن نہیں تھا۔ پہلی ہی گیند پیچھے ڈال دی اور ایک شاندار چھکا بھی پڑ گیا، مگر اس چھکے نے ان کے اوسان خطا نہیں کئے۔
وہ فوراً اپنے ردھم میں واپس آئے اور یکے بعد دیگرے ایسی گیندیں پھینکیں کہ زمبابوین بلے بازوں کو کریز میں باندھ کر رکھ دیا۔ جب ٹی ٹونٹی میں رنز کا ایسا قحط پڑ جائے تو بلے بازوں کو مجبوراً اپنے سٹانس کو توڑنا پڑتا ہے، بسا اوقات کریز سے نکلنا بھی پڑتا ہے اور کہیں شفل کر کے بھی سٹروک بنانا پڑتا ہے۔
لیگ بریک بولر کی جیب میں کافی جادو ہوتے ہیں۔ وہ لیگ بریک کر سکتا ہے، ایکسٹرا فلائٹ سے غیر متوقع باؤنس پیدا کر سکتا ہے، ٹاپ سپن پھینک سکتا ہے اور گگلی بھی کر سکتا ہے۔ عموماً لیگ بریک میں گگلی بلے بازوں کے لیے مہلک ترین گیند ثابت ہوتی ہے مگر یہ منحصر اس پہ ہے کہ بولر کب اور کن حالات میں اس کا استعمال کرتا ہے۔
کرکٹ کی زبان میں ایک محاورہ ہے، بلے باز کو باندھنا۔ سپنرز کے لیے بہترین طریقۂ واردات یہ ہوتا ہے کہ پہلے لائن اور لینتھ سے بلے باز کو کریز میں ایک جگہ باندھیں پھر اسے فلائٹ دے کر لبھائیں اور چھکا مارنے پہ آمادہ کریں۔ جب وہ لمبے شاٹ کے لیے ذہنی طور پہ تیار ہو جائے، تب سپنر اپنی خاص جادوئی ڈلیوری پھینکتا ہے اور بلے باز کو غلطی پہ مجبور کر چھوڑتا ہے۔
عثمان قادر کے سپیل کی نمایاں ترین بات یہ رہی کہ پہلے انھوں نے رنز کا قحط پیدا کیا اور بلے بازوں کے ذہن میں شکوک اور لالچ پیدا کیا اور جب لوہا گرم ہوا تو اپنی گگلیوں کا استعمال کیا۔
عثمان کے اس بہترین سپیل نے مدھویرے، سکندر رضا اور چگمبرا کی شکل میں پاکستان کو وہ تین وکٹیں لے ڈالیں کہ جن پہ ساری زمبابوین اننگز کا انحصار تھا۔ جہاں زمبابوے ڈیڑھ سو سے زائد مجموعے کا سوچ رہا تھا، وہاں 134 کا مجموعہ بھی بمشکل ممکن ہو پایا۔
اور یہ مجموعہ کوئی ایسا پریشان کن نہیں تھا کہ بابر اعظم کسی خدشے کا شکار ہوتے۔ سکور بورڈ سے دباؤ ہٹا کر انھوں نے نوآموز حیدر علی کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع دیا اور یوں ایک طویل عرصے بعد پاکستان کوئی ٹی ٹونٹی سیریز جیتنے میں کامیاب ٹھہرا۔