جب شکست پاکستان کے لیے 'افورڈیبل' نہ رہی

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

’انہونی‘ کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ عمومی استدلال اور منطق کو کچھ ایسے غیر متوقع انداز میں پچھاڑتی ہے کہ انگلیاں دانتوں تلے دبی رہ جاتی ہیں اور سارے عقلی تخمینے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

22 سال پہلے جب زمبابوے آخری بار پاکستان کے دورے پر کوئی میچ جیتا تھا تو پاکستانی ٹیم ان لیجنڈز پہ مشتمل تھی کہ جن کے بارے سوچنا بھی محال تھا کہ وہ کسی زمبابوے جیسی ٹیم سے بھی ہار سکتے ہیں۔

تین روز پہلے جب زمبابوے نے اپنا 22 سالہ ’ریکارڈ‘ توڑا، تب بھی پاکستانی ٹیم کوئی ایسے کھلاڑیوں پر مشتمل نہیں تھی کہ جن کی مسابقتی صلاحیتوں پر کوئی شک شبہ اٹھایا جا سکے لیکن پھر بھی زمبابوے نے اپنی ہار کی گردان بھلا ہی لی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی ٹونٹی میں پاکستان نے ماضی قریب میں دنیا پر حکومت کی ہے مگر اب نہ وہ کارواں رہا اور نہ ہی وہ راستے۔ اب پاکستان ایک مختلف کوچ اور ایک یکسر مختلف کپتان کی قیادت میں عہدِ رفتہ کے وہ سنہرے دن زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب ٹی ٹونٹی میں پاکستان کا مقابلہ کرتے ہوئے بڑی سے بڑی ٹیمیں مضطرب پائی جاتی تھیں۔

ایسا ہی کچھ اضطراب یقیناً آج کے دن چامو چبھابھا پر بھی طاری ہوتا اگر ون ڈے سیریز اپنے معمول کے متوقع نتیجے پر ختم ہوئی ہوتی۔ مگر آخری ون ڈے میں زمبابوے نے پاکستان کے ساتھ ’انہونی‘ کر ڈالی اور آج شام یقیناً زمبابوے پر اس قدر اضطراب طاری نہیں ہو گا جو تین دن پہلے تک متوقع تھا۔

گو سکور بورڈ کے اعدادوشمار اور ون ڈے سیریز کی سکور لائن زمبابوے کے ڈریسنگ روم کے لیے بہت خوش کن نہیں رہی مگر مہمان ٹیم کے لیے اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ وہ اس طرح سے ’روندے‘ بھی نہیں گئے جیسے نچلی رینکنگ کی ٹیمیں عموماً اوپری درجہ بندی کی ٹیموں سے توقع کیا کرتی ہیں۔

دوسری جانب یہی سکور لائن پاکستانی ڈریسنگ روم کے لیے بھی کسی اعتبار سے قابلِ فخر دکھائی نہیں دیتی۔ 2020 کی ماڈرن ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی بیٹنگ 300 کا ہندسہ نہ چھو پائی جبکہ آخری ون ڈے میں سپر اوور کی تذلیل نے تو معاملات مزید ابتر کر ڈالے۔

اب ایک طرف چامو چبھابھا اور ان کی ٹیم پر امید کا موسم طاری ہے تو دوسری طرف بابر اعظم اور ان کی الیون پر غصے کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں ایک ہلکا سا 'خوف' بھی موجود ہے کہ کہیں پھر نہ کچھ ویسا ہو جائے جو آخری ون ڈے میں ہوا تھا۔

ویسے بھی کمزور ٹیموں سے مقابلے کی خامی یہی ہے کہ اگر آپ اچھا بھی کھیل جائیں تو اس کی اہمیت کم تصور کی جاتی ہے کہ بھئی پانچویں درجے کے پہلوان نے اگر 13ویں رینکنگ والے کو چِت کر بھی دیا تو کون سا تیر مارا۔

مگر یہیں جب بازی پلٹ جائے تو کوئی بھی اسے نظر انداز کرنے پہ آمادہ نہیں ہوتا اور ہر کان پڑی آواز کا خلاصہ یہی ہوتا ہے کہ لو بھئی بچوں سے پِٹ گئے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ رینکنگ ٹیبل میں پاکستان اور زمبابوے کی ٹیمیں اتنی دوری پر ہیں کہ کسی مسابقتی ماحول کی توقع کرنا محال ہے۔ گو پاکستان کی پچھلے ڈیڑھ سال کی ٹی ٹونٹی فارم بھی کچھ خاص نہیں رہی لیکن بہرحال انگلینڈ کے خلاف آخری ٹی ٹونٹی میچ میں پاکستان ایک بار پھر وہی ٹیم بنتی نظر آئی جس نے متواتر 11 سیریز تک ناقابلِ شکست رہنے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ بابر اعظم کیسے اس بھولی بھٹکی ٹیم کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے راہ سُجھاتے ہیں۔ بابر کی ذمہ داری اب صرف اپنی ٹیم کی رینکنگ کو بہتر بنانا ہی نہیں بلکہ اس جیت کی بھولی بسری عادت کو پھر سے اپنے ڈریسنگ روم کے خمیر میں ڈالنا ہے جہاں ہار پاکستان کے لیے اتنی مہنگی ہو چکی تھی کہ سرفراز کی ٹیم 33 میں سے 29 میچز میں یہ 'افورڈ' ہی نہیں کر پائی تھی اور جیت پر ہی اکتفا کرتی رہی۔

کیا بابر اعظم اس ٹیم کو وہ بھولی عادت پھر سے سکھا پائیں گے؟