آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیع چوہدری کا کالم: خوش بختی سے خجالت تک، چار ہی گیندوں میں
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جب شرمندگی حد سے گزر جائے تو خود بخود بے باکی اور بے خوفی میں بدل جاتی ہے۔ بسا اوقات ایسی صورت حال کسی فرد یا گروہ کے لیے ناگزیر ہو جاتی ہے ورنہ وہ کبھی بھی اپنی پوری صلاحیت سے واقف ہی نہ ہو پائیں۔
پاکستان کے دورے کے لیے زمبابوے کے سکواڈ کا اعلان ہوا تو اس میں خبری اعتبار سے صرف دو چیزیں نمایاں تھیں۔ پہلی یہ کہ اس بار قیادت چامو چھبھابھا کو دے دی گئی تھی اور دوسری چیز جو پہلی سے بھی نمایاں اور بڑی شہ سرخی تھی، وہ تھی بلیسنگ مزربانی کی واپسی۔
زمبابوے چونکہ مین سٹریم کرکٹ کی دنیا سے ذرا پیچھے کی جانب واقع ہوا ہے، اس لیے بلیسنگ مزربانی کی واپسی عمومی شائقین کرکٹ کے لیے کوئی سنسنی خیز خبر نہیں تھی مگر بجائے خود زمبابوے کی ٹیم کے لیے یہ اہم بھی تھی اور پُر جوش بھی۔
اپنے شانوں پہ توقعات کا بوجھ اٹھائے مزربانی جب اس سیریز میں داخل ہوئے تو زمینی حقائق نے ان کی توقعات میں کوئی خاص دلچسپی نہ دکھائی۔ پہلے میچ میں انہوں نے دو وکٹیں ضرور لیں مگر ان کی دو وکٹیں ممبا کے اکانومی ریٹ کی گرد میں دب گئیں۔
پاکستان بمقابلہ زمبابوے: سمیع چوہدری کے دیگر کالم
دوسرے میچ میں بھی مزربانی نے ایک قلیل ہدف کے دفاع میں بظاہر اچھی بولنگ کی مگر سکور بورڈ کی کم مائیگی یہ بتانے کو کافی ہے کہ ان کے مخالف بلے بازوں کا پلہ کیوں بھاری رہا۔
اس میچ میں مگر صورت حال خاصی مختلف تھی۔ پاکستان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا، سیریز فتح ہو چکی تھی، بینچ کو بھی بھرپور مواقع مل چکے تھے اور جاتی بہاروں کا آخری فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے خوشدل شاہ کا ڈیبیو بھی کروا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ساتھ ہی طویل مدت سے بینچ پہ منتظر بیٹھے فخر زمان اور محمد حسنین کو بھی میلہ لوٹنے کا موقع دے دیا۔
ادھر زمبابوے کے پاس تو کھونے کو بالکل بھی کچھ نہیں تھا۔ چودہویں نمبر کی رینکنگ والی ٹیم اگر مسلسل اپنا گیارہواں ون ڈے بھی ہار جاتی تو ایسا کیا بگڑ جاتا جو پیچھے دس بار نہیں بگڑا۔
یہ شرمندگی کا وہ بند ہے کہ جس کے پار ہوتے ہی خود بخود بے خوفی اور بے باکی نظر آنے لگتی ہے۔
اگر اس بے باکی میں غصہ حاوی ہو جائے تو کلہاڑی اپنے ہی پاؤں پہ لگتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن اگر اس بے خوفی میں گیم پلاننگ شامل ہو جائے تو حریف خود ہی اپنے وزن تلے دب جاتا ہے۔
پاکستان کی ٹیم کے لیے بظاہر یہ میچ کوئی بوجھ نہیں تھا مگر کچھ کھلاڑیوں کے لیے یہ بوجھ ضرور تھا۔ فخر زمان کو اپنی حیثیت ثابت کرنا تھی، خوشدل شاہ کو اس ایک اننگز میں سے مستقبل کی راہ کھوجنا تھی اور محمد حسنین کو یہ یقینی بنانا تھا کہ وہ وقار یونس کے نئے بولنگ پلان کا فعال حصہ بن جائیں۔
محمد حسنین نے تو واقعی یہ واضح کر دیا کہ جو پیس اور کنٹرول ان کے پاس ہے، وہ کسی بھی بولنگ اٹیک کے لیے اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مختلف سپیلز کا موازنہ کیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے ون ڈے گیم کے مختلف مراحل کے مطابق اپنی توانائیوں کو ڈھالنے کا سبق سیکھ لیا ہے۔
دوسری جانب تھے مزربانی جنہیں توقعات اور اپنی واپسی کی شہ سرخیوں کی توضیح پیش کرنا تھی۔
اور پھر انہوں نے پہلے ہی اوور کی تیسری گیند پہ یہ واضح کر دیا کہ آگے کی منزلیں فخر زمان اور ان کی ٹیم کے لیے ہرگز آسان نہ ہوں گی۔ جس مہارت سے انہوں نے امام الحق کو ڈرائیو پہ آمادہ کیا، وہاں خود امام بھی یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ کسی زمبابوین بولر کی گیند بھی ایسی پھرتی سے اندر آئے گی اور سٹمپس لے اڑے گی۔
حارث سہیل اور عماد وسیم کی عدم موجودگی بھی مزربانی کے لیے ایک اور تسلی بخش پہلو تھا۔ مستحکم مڈل آرڈر بلے بازوں کی عدم موجودگی مزربانی اور ان کی ٹیم کے لیے خوش بختی کی نوید بن گئی۔
پاکستان میچ کے پہلے بیس اوورز کے سوا باقی تمام وقت زمبابوے سے پیچھے ہی رہا۔ محمد حسنین کے سوا کوئی بھی بولر حریف بلے بازوں کے لیے پریشان کن ثابت نہیں ہوا۔ لیکن اس کے باوجود کھیل کے کسی مرحلے پہ پاکستان نے چیزیں اپنی گرفت سے باہر نہیں ہونے دیں۔
پاکستان برا ہرگز نہیں کھیلا، جہاں جہاں ضرورت پڑی، بھرپور مزاحمت اور لڑائی کی۔ جبھی قسمت نے پاکستان کو سپر اوور کی شکل میں ایک اور موقع دے دیا۔
مگر زمبابوے کی محنت اور مزربانی کی بولنگ میچ پہ اس قدر حاوی ہو چکی تھی کہ قسمت بھی پاکستان کی یاوری نہ کر سکی۔ پاکستان نے پے در پے غلط فیصلے کر ڈالے۔ سپر اوور کا سامنا کرنے کے لیے سینچورین کپتان نے خود آنے کی بجائے دو ناتجربہ کار لوئر آرڈر بلے بازوں کا انتخاب کر لیا۔ کیوں؟
اگر لمبے شاٹس ہی چاہیے تھے تو حیدر علی میں کیا کمی تھی؟ اور نہیں تو وہاب ریاض ہی سہی، جو تجربہ بھی رکھتے ہیں اور آدھ گھنٹہ پہلے یہیں سے ففٹی بنا کر پلٹے تھے۔
سپر اوور کا سامنا مستند اور بہترین بلے بازوں کو کرنا چاہیے وگرنہ خوش نصیبی سے خجالت تک کا سفر منٹوں گھنٹوں نہیں، چار ہی گیندوں میں طے ہو جاتا ہے۔
پاکستان نے اس میچ کو سپر اوور تک زندہ رکھا، قابلِ تعریف بات ہے۔ لیکن سپر اوور میں جو کچھ ہوا، قابلِ غور بھی ہے اور باعثِ ندامت بھی۔