سمیع چوہدری کا کالم: زمبابوے کی قسمت کب کھلے گی؟

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

کرکٹ کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ بجائے خود آئی سی سی کا وہ انتظامی ڈھانچہ ہے جس کا زیادہ تر وقت تین چار بڑی ٹیموں میں ہی بٹا رہتا ہے۔

پچھلی صفوں میں گرتی پھسلتی ٹیموں کو کیسے سنبھالا دینا ہے، اس کے لئے نہ وقت بچتا ہے اور نہ ہی پیسہ۔

جن بھلے دنوں میں عمران خان تازہ تازہ ورلڈ کپ جیت کے لائے تھے، انہی دنوں زمبابوے دنیائے کرکٹ کی دسویں انٹرنیشنل ٹیم کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی تھی۔

عمران خان اس سارے عرصے میں جدوجہد کرتے کرتے وزیرِ اعظم بھی بن گئے مگر زمبابوے کی ٹیم آج بھی دسویں نمبر کی ٹیم ہی شمار ہوتی ہے۔ بلکہ افغانستان اور آئرلینڈ تو اب اسے دسویں نمبر کی ٹیم کا اعزاز بھی برقرار نہیں رکھنے دیتے۔

یہ بھی پڑھیے

اگر زمبابوے کی ٹیم 28 سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی رکن رہ کر بھی ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکی تو اس سے یقیناً کونسل کی اپنی قابلیت بھی مشکوک ٹھہرتی ہے۔

وہاس لیے کیونکہ اس کونسل کا بنیادی مقصد محض بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے انعقاد کو ممکن بنانا ہی نہیں ہے بلکہ کرکٹ کی ترویج اور ترقی پذیر ٹیموں کی کھلے دل سے مدد کرنا بھی ہے اور زمبابوے کی ٹیم ہے کہ اکثر سیریز دستیاب ہوتی ہیں مگر کھلاڑی نہیں۔

اس وقت اس ٹیم کا عالم یہ ہے کہ بھلے اس میں سکندر رضا، شون ولیمز اور برینڈن ٹیلر جیسے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں مگر انتظامی سطح پر انتشار کچھ ایسا ہے کہ ہر روز، ہر میچ میں یہ ٹیم سنبھلتے سنبھلتے اچانک گر جاتی ہے اور کوئی یہ جان بھی نہیں پاتا کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے۔

اب تو جیسے ہر سیریز سے پہلے عارضی بنیادوں پر کپتان کا انتخاب ہوتا ہے۔

اب ایک کپتان جو ہو ہی عبوری بنیادوں پہ، وہ پورے ڈریسنگ روم کا بوجھ کیسے اپنے کندھوں پہ اٹھائے۔ آخر چامو چبھابھا کیسے یہ گتھی سلجھائیں کہ شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کی سی برق رفتاری کا جواب کس نے دینا ہے اور کس طرح دینا ہے۔

اوپننگ کرکٹ میں سب سے مشکل پوزیشن ہے اور اگر اوپننگ کے ساتھ ساتھ کپتانی کا بوجھ بھی سر پر ہو تو مشکل سوا ہو جاتی ہے۔ چبھابھا اگر یہ سوچ کر اوپننگ کر رہے ہیں کہ وہ اپنی بیٹنگ لائن کو سہارا دے سکیں گے تو یہ شاید ان کے بس کی بات نہیں۔

اگر زمبابوے کسی نامعلوم وجہ کی بنا پہ شون ولیمز کو مختصر فارمیٹ کی قیادت تھمانے سے خائف ہی ہے تو چبھابھا کے سوا بھی آپشنز موجود ہیں۔ یہ اب ڈائریکٹر زمبابوے کرکٹ ہیملٹن مساکدزا کو سوچنا ہے کہ وہ چونتیس سالہ 'نئے' کپتان کی بجائے واقعی کچھ نیا کر سکتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان نے پچھلے میچ کے برعکس یہاں بہترین کرکٹ کھیلی۔ تینوں شعبوں میں اپنے حریف پہ میلوں کی برتری دکھائی اور بجا طور پہ سیریز کی جیت کا حقدار ٹھہرا۔ پاکستان نے مقابلتی فضا کی کم مائیگی کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور حیدر علی اور موسیٰ خان کو ڈیبیو بھی کروایا۔

بابر اعظم کے لئے یہ سیریز کی جیت ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ون ڈے کپتانی کی افتتاحی سیریز جیتنا بہت معنی رکھتا ہے۔ اور اگر افتخار احمد کی شکل میں ایک آل راؤنڈرز کی پرفارمنس ہی میچ جتوا جائے تو جیت کا نشہ دوبالا ہو جاتا ہے۔

اس ہنستے مسکراتے ڈریسنگ روم کے اُس پار ایک اور ڈریسنگ روم ہے جو آج بھی اداس ہے اور خلاؤں میں گُھورے یہ سوچ رہا ہے کہ کبھی تو قسمت بنے گی میری؟