مصباح الحق کے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفیٰ ہونے پر سوشل میڈیا ردعمل

،تصویر کا ذریعہASIF HASSAN
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بحیثیت ہیڈ کوچ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
مصباح الحق نے یہ اعلان بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ 30 نومبر تک چیف سلیکٹر ہیں اور زمبابوے کے خلاف اسکواڈ کا انتخاب وہی کریں گے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کی وجہ سے مصروفیات بڑھ جائیں گی لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے پاکستانی ٹیم پر اپنی مکمل توجہ مرکوز رکھیں اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں۔
مصباح الحق نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم تینوں فارمیٹ میں صف اول کی تین بہترین ٹیموں میں آئے۔
مصباح الحق نے اپنی ایک سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سال اچھا رہا ہے اور اس میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے۔
مصباح نے کہا کہ ان کی پوری کوشش تھی کی کہ جو بھی فیصلے کریں وہ پاکستانی کرکٹ کے بہترین مفاد میں ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ان کے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا تعلق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور کرکٹ بورڈ کی ناراضی سے قطعاً نہیں ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تردید کہ ساتھی سلیکٹرز سے ان کے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
مصباح الحق نے ایک ایسے وقت چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے جب وہ 19 اکتوبر کو زمبابوے کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کے لیے پاکستانی سکواڈ کا اعلان کرنے والے تھے اور اس سلسلے میں ان کی ساتھی سلیکٹرز سے مشاورت جاری تھی۔
یاد رہے کہ مصباح الحق کے بارے میں پچھلے کچھ عرصے سے ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں تواتر کے ساتھ آ رہی تھیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے پاس موجود دو عہدوں میں سے ایک واپس لینے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس فیصلے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ انھوں نے چیف سلیکٹر کا عہدہ کسی دباؤ کے تحت چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں یہ کہہ رکھا تھا کہ جب تک وہ سمجھتے ہیں چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کے دونوں عہدوں پر کام کرتے رہیں اور اگر سمجھتے ہیں کہ دونوں عہدوں پر وہ کام نہیں کر سکتے تو وہ خود اس بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
مصباح الحق نے گذشتہ دنوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی اور محمد حفیظ کے ساتھ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جس کا مقصد انھیں ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم کیے جانے سے پیدا شدہ مسائل سے آگاہ کرنا اور اس فیصلے کو تبدیل کرنے کی درخواست کرنا تھا۔
تاہم بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان تینوں کی وزیراعظم سے اس ملاقات پر خوش نہیں تھا حالانکہ اس ملاقات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹیو وسیم خان بھی موجود تھے۔
ملاقات کے بعد مصباح الحق اور اظہرعلی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام کے سامنے وضاحت پیش کرنی پڑی تھی کہ انھوں نے یہ ملاقات پاکستان کرکٹ بورڈ کی اجازت یا انھیں علم میں لائے بغیر کیوں کی تھی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مصباح الحق نے اپنی طرف سے تو بات واضح کر لی لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں کیا یہ ممکن ہے کہ بات وہیں ختم ہو جائے؟ یہ خبر آتے ہی ظاہر ہے ٹوئٹر پر ردعمل بھی آنا شروع ہو گیا۔
ٹوئٹر صارف عبداللہ نے لکھا کہ ’مصباح نے زمبابوے ٹور سے پہلے بطور چیف سلیکٹر استعفی دے دیا ہے۔ صحیح فیصلہ مگر غلط وقت پر!‘
کرنل ہارڈسٹون نامی ٹوئٹر ہینڈل کی ہی طرح کچھ لوگ بطور چیف سلیکٹر مصباح کے کام سے زیادہ خوش نظر نہیں آئے۔
انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’مصباح الحق چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ وہ ہنر کو پرکھنے میں کتنے برے تھے اس بات کا اندازہ اس بات سے ہو جاتا ہے کہ انھوں نے پی ایس ایل 1 میں بابر اعظم کو ڈراپ کر دیا تھا کیوںکہ انھیں لگا تھا کہ وہ اس قابل نہیں!‘

،تصویر کا ذریعہ@Col_Hardstone
سپورٹس صحافی سلیم خالق نے لکھا کہ مصباح کے لیے دہری ذمہ داری سنبھالنا مشکل تھا۔ ’ہم لوگ تو شروع سے کہہ رہے تھے کہ مصباح الحق کے لیے دہری ذمہ داری سنبھالنا درست نہیں مگر پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے منفرد تجربہ کیا اور مسلسل وضاحتیں بھی دیتے رہے، ٹیم کی رینکنگ کو نیچے لانے کے بعد بورڈ کو غلطی کا احساس ہوا اور اب مصباح صرف کوچ رہیں گے، چیف سلیکٹر کوئی اور بنے گا۔‘
مصباح الحق نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ڈومیسٹک کرکٹ کے بارے میں ملاقات کی تھی اور کچھ لوگوں نے اس ملاقات کو مصباح کے اس فیصلے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی، تاہم سپورٹس صحافی عالیہ رشید نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’یہ دو الگ باتیں ہیں۔ ایک ہی شخص کو جلد بازی میں دو چیلینجنگ ذمہ داریاں دینے کا پی سی بی کا فیصلہ غلط تھا۔ یہ وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کی سزا نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ فیصلہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@aaliaaaliya
مصباح الحق نے کب عہدہ سنبھالا تھا؟
مصباح الحق گذشتہ سال چار ستمبر کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے۔ اس سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر تھے۔
پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ایک شخص کو بیک وقت یہ دو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
جس کمیٹی نے مکی آرتھر کا کوچ کی حیثیت سے معاہدہ تجدید نہ کرنے کی سفارش کی تھی، مصباح الحق اس کمیٹی کا حصہ تھے جبکہ اُن سے قبل چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں انضمام الحق نبھا رہے تھے۔
مصباح الحق کی بطور چیف سلیکٹر کارکردگی کیسی رہی؟
مصباح الحق کی بحیثیت چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ پہلی سیریز سری لنکا کے خلاف تھی جس میں پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا البتہ پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز دو صفر سے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز کے سلیکشن میں مصباح الحق اور کپتان سرفراز احمد کے درمیان اختلاف رائے سامنے آیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصباح الحق نے اس سیریز میں عمراکمل اور احمد شہزاد کو پاکستانی ٹیم میں واپس لانے کا فیصلہ کیا جس پر کپتان سرفراز احمد خوش نہیں تھے۔
مصباح الحق کا یہ فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا اور عمراکمل اور احمد شہزاد دونوں ان کے اعتماد پر پورے نہیں اترے لیکن اس کا خمیازہ سرفراز احمد کو بھگتنا پڑا تھا اور اسی سیریز کے نتیجے کو بنیاد بنا کر ان کی کپتانی چلی گئی تھی۔
مصباح الحق کو بحیثیت چیف سلیکٹر اُس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب آسٹریلیا کے اہم دورے سے قبل تجربہ کار فاسٹ بولرز محمد عامر اور وہاب ریاض نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے سے معذرت کرلی جس پر نوجوان فاسٹ بولرز محمد موسیٰ اور نسیم شاہ کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرنا پڑا تھا۔
مصباح الحق نے بحیثیت چیف سلیکٹر ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پانچ کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع فراہم کیا جن میں خوشدل شاہ، احسان علی، محمد موسی، حارث رؤف اور حیدرعلی شامل ہیں۔
مصباح الحق کی سلیکشن کے معاملے میں یہ سوچ کارفرما رہی کہ فوری طور پر سینئر کھلاڑیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کی پالیسی اپنائی وہیں محمد حفیظ، شعیب ملک اور وہاب ریاض جیسے سینئیر کھلاڑیوں پر بھی ان کا اعتماد برقرار رہا۔












