مہندر سنگھ دھونی: سابق انڈین کپتان نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی نے سنیچر کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
گذشتہ 16 سال سے انڈین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے والے دھونی نے انسٹاگرام پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ کیریئر کے دوران وہ اپنے مداحوں کے پیار اور ساتھ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ’سات بج کر 29 منٹ (انڈیا کے مقامی وقت) سے انھیں ریٹائرڈ سمجھا جائے۔‘
’میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘ کے گانے کے ساتھ اس ویڈیو پوسٹ میں انھوں نے انڈین ٹیم میں ابتدا سے لے کر آخری تک گزارے گئے یادگار لمحوں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
یاد رہے کہ ایم ایس دھونی پہلے ہی سنہ 2014 میں ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ اس کے بعد سے وہ انڈیا کی قومی ٹیم میں محض ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے۔
بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے باوجود وہ رواں سال متحدہ عرب امارات میں منعقد انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں چنائی سپر کنگز کی قیادت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایم ایس دھونی انڈیا کے بہترین کپتانوں میں سے ایک
ایم ایس دھونی کو بطور کرکٹر پہلی ملازمت انڈین ریلویز میں ٹکٹ کلیکٹر کے طور پر ملی تھی۔ اس کے بعد وہ ایئر انڈیا کی نوکری کرنے لگے۔ بعد میں وہ این شری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹ میں افسر بن گئے۔
دھونی کو انڈیا میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جنھوں نے سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں انڈیا کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دھونی نے سنہ 2007 سے 2017 تک انڈین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی۔ مہندر سنگھ دھونی واحد ایسے کپتان ہیں جن کی قیادت میں ٹیم نے آئی سی سی کی تینوں بڑی ٹرافیاں جیتی ہیں۔
انڈیا دھونی کی کپتانی میں آئی سی سی کی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی (2007 میں)، کرکٹ ورلڈ کپ (2011 میں) اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی (2013 میں) کا خطاب جیت چکا ہے۔
ان کے بعد ورات کوہلی انڈین ٹیم کے کپتان مقرر ہوئے۔ ورات اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انڈیا کو دھونی کی کمی ضرور محسوس ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیم میں سب سے تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور ان کا تجربہ انمول ہے۔
مہندر سنگھ دھونی 2011 میں انڈین فوج میں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر سرفراز کیے گئے تھے۔ دھونی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ انڈین فوج میں شامل ہونا ان کے بچپن کا خواب تھا۔
کپتان، بلے باز اور وکٹ کیپر بھی
دھونی نے پہلی مرتبہ انڈین کرکٹ ٹیم کی نمائندگی 2004 میں بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے میچ میں کی تھی۔ وہ کپل دیو کے بعد دوسرے انڈین کپتان ہیں جنھوں نے کرکٹ ورلڈ کپ میں جیتا۔
ایم ایس دھونی نے انڈیا کے لیے 350 ون ڈے میچ کھیلے اور 10 ہزار 773 رنز بنائے۔ جبکہ ان کی اوسط 50 سے زیادہ رہی اور انھوں نے 10 سنچریاں اور 73 نصف سنچریاں بنائیں۔
وکٹ کیپنگ میں بھی وہ انڈیا میں اپنی مثال آپ تھے۔ انھوں نے وکٹ کیپر ہوتے ہوئے 321 کیچ پکڑے اور 123 بلے بازوں کو سٹمپ کیا۔
دوسری طرف ٹیسٹ کرکٹ میں انھوں نے 90 میچز کھیلے جن میں 38 سے زیادہ کی اوسط کے ساتھ ان کے 4876 رنز تھے۔ دھونی ٹیسٹ میچوں میں چھ سنچریاں اور 33 نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب رہے۔
انڈیا کے مایہ ناز سابق بلے باز سچن تندولکر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انڈیا کی کرکٹ کے لیے دھونی کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ ’ایک ساتھ 2011 کا ورلڈ کپ جیتنا میری زندگی کا بہترین لمحہ رہا ہے۔‘
سابق پاکستانی کرکٹر رمیز راجہ نے دھونی کو بہترین رہنما قرار دیا۔ ’ایم ایس کو انڈین کرکٹ میں سب سے زیادہ اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ وہ یادگار لمحات میں سربراہ تھے۔‘
انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر اور سابق انڈین کپتان سارو گنگولی نے اس موقع پر کہا کہ ’ہر اچھی چیز اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔۔۔ انھوں نے آنے والے وکٹ کیپرز کے لیے معیار طے کر دیا ہے۔۔۔ وہ فیلڈ پر بغیر کسی پچھتاوے کے واپس آ رہے ہیں۔‘









