پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس سال ممکن نہیں، دورہ انگلینڈ کے لیے کوئی خطرہ مول نہیں لیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کے مطابق اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کی فنانس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ جانتے ہیں کہ اس ٹورنامنٹ کا انعقاد اس برس ممکن نہیں ہو سکے گا۔
انھوں نے کہا کہ اب سوال صرف یہ ہے کہ اگر اس سال یہ ایونٹ نہیں ہوتا ہے تو پھر اگلے سال اس کی میزبانی کون کرے گا کیونکہ اگلے سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میزبان انڈیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی بھی اس نکتے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کرکٹ کووڈ 19 کی وبا کے دور میں کیسے تبدیل ہو گی اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے انگلینڈ کے دورے کو اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں
احسان مانی کا کہنا ہے کہ اس دورے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی بھی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہے اور اگر تھوڑی بھی فکر لاحق ہوئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ دوبارہ سوچے گا لیکن انھیں پوری امید ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اطمینان بخش انتظامات کیے ہیں۔
احسان مانی کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا انگلینڈ کا دورہ دونوں بورڈز کی مشترکہ کوشش ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس دورے پر جانے والے پورے سکواڈ کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا اور انگلینڈ پہنچ کر بھی یہ سکواڈ ’بایو سکیور‘ ماحول میں رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ سکواڈ باہر کے کسی بھی شخص سے نہیں ملے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا میں کرکٹ نہیں ہو رہی ہے انگلینڈ یہ سمجھتا ہے کہ وہاں کرکٹ ممکن ہے تو ایسے میں ہمارے کرکٹرز کو کھیلنے کے مواقع مل رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس سال ممکن نہیں
احسان مانی نے رواں برس ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے متعلق فیصلوں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کووڈ 19 کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا چکا ہے لیکن آسٹریلوی حکومت اس بارے میں بہت محتاط ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’بائیو ببل‘ اور بغیر تماشائیوں کے کرکٹ دو طرفہ سیریز کی حد تک تو صحیح ہے لیکن یہ زیادہ ٹیموں کے سلسلے میں ممکن نہیں ہے۔
احسان مانی کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آئندہ سال تک مؤخر کر دیا جائے گا۔
’یہ بہت بڑا خطرہ ہو گا کہ کسی بڑے ٹورنامنٹ کے دوران کسی کھلاڑی کو انفیکشن ہو جائے جس سے پریشانی بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بارے میں فیصلہ کرنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کئی سٹیک ہولڈرز ہیں اور اس کا براڈ کاسٹر سٹار گروپ ہے اس کے علاوہ ایسوسی ایٹس کی رائے بھی اہم ہے لہٰذا امید ہے کہ اگلے تین چار ہفتوں میں فیصلہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب اس مشکل صورتحال میں ہم انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی مدد کررہے ہیں۔ یہ دورہ انگلینڈ کرکٹ اور ورلڈ کرکٹ کے لیے بہت ضروری ہے ۔انگلینڈ کرکٹ بورڈ کو ایک طرح سے لائف لائن مل رہی ہے۔
احسان مانی کا کہنا ہے کہ اس دورے کے عوض وہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو اس بات پر مجبور نہیں کررہے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم جوابی دورے پر پاکستان بھیجے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے اعلی حکام سے بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 2022ءمیں اپنی خوشی سے پاکستان کے دورے پر آئے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی سی سی کی چیرمین شپ میں دلچسپی نہیں
احسان مانی کا کہنا ہے کہ سنہ 2006 میں جب انھوں نے آئی سی سی کے چیرمین کی حیثیت سے اپنی مدت مکمل کی تھی تو اس وقت ان کا یہی خیال تھا کہ وہ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے وہ کئی برس تک کرکٹ سے دور رہے پھر جب عمران خان کی حکومت آئی تو انھوں نے ان سے کہا کہ آپ آئیں اور پاکستانی کرکٹ کی مدد کریں۔
وہ جس مقصد کے تحت واپس آئے ہیں وہ پاکستان کی وجہ سے ہے نا کہ آئی سی سی کی وجہ سے۔
احسان مانی کا کہنا ہے کہ ان کی مکمل توجہ پاکستان کی کرکٹ کی بہتری کے لیے ہے اور وہ اس سے باہر نہیں دیکھ رہے ہیں۔
آئی سی سی کے کچھ ممبرز یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا چونکہ آئی سی سی کا تجربہ ہے لہٰذا انھوں نے ان سے ضرور درخواست کی ہے لیکن آئی سی سی کی چیئرمین شپ ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے۔
میچ فکسنگ پر قانون سازی
احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان سے معمول کی ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔
انھوں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ سری لنکا نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی طرح پاکستان میں بھی میچ فکسنگ کے بارے میں قانون سازی ہونی چاہیے کیونکہ کرپٹ لوگوں کی گرفت کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس قانونی اختیارات نہیں ہیں یہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔
قانون پاس ہونے کے بعد حکومت کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک مسودہ حکومت کو بھیجا ہے کہ وزارت قانون اس کا جائزہ لے تاکہ یہ معاملہ منظوری کے لیے پارلیمان میں آ سکے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
اس قانون کا یہ فائدہ ہو گا کہ کرپٹ افراد کو سزائیں ہو سکیں گی اور ملوث افراد جیل میں جا سکیں گے۔
ایشیا کپ کا کیا ہو گا؟
احسان مانی کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا سے کہا ہے کہ اگر وہاں ستمبر تک حالات بہتر ہوجاتے ہیں تو وہ اس کی میزبانی کر لے اور پاکستان 2022 میں اس کی میزبانی کر لے گا۔
ایشیا کپ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک سے زیادہ ایمرجنگ ممالک کے لیے اہم ایونٹ ہے کیونکہ اس ایونٹ سے ان ممالک کو اپنے ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے مالی مدد ملتی ہے۔
اگر اس سال ایشیا کپ نہ ہوا تو اس سے ان ممالک کا زیادہ نقصان ہو گا۔












