حوالدار اور (اعزازی کیپٹن) محمد یونس: چیمپیئن اور ریکارڈ یافتہ ایتھلیٹ جن کی زندگی ایک حادثے نے بدل دی

،تصویر کا ذریعہM. Younis
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
1970 کی دہائی میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی ایتھلیٹ محمد یونس کو ٹریک پر دوڑتے دیکھنا ایک خوبصورت منظر ہوتا تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ایسا لگتا تھا کہ ان کے پیروں میں بجلی بھری ہوئی تھی۔
پاکستانی ایتھلیٹکس کی تاریخ سنہ 1974 کے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے حوالدار محمد یونس کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے۔
محمد یونس نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مجموعی طور پر 24 طلائی تمغے اور تین نقرئی تمغے جیتے۔ ایشین گیمز میں انھوں نے ایک گولڈ میڈل اور چاندی کے دو تمغے جیتے جبکہ اٹلی میں منعقدہ ورلڈ ملٹری گیمز میں بھی انھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔
محمد یونس نے اپنے کریئر میں 11 قومی ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لیا اور ان تمام مقابلوں میں 1500 میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغے جیتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج سے سنہ 1995 میں بطور اعزازی کیپٹن ریٹائر ہونے والے محمد یونس کی عمر اب 71 برس ہو چکی ہے اور وہ تلہ گنگ کے ایک گاؤں میں اپنے تین بیٹوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کا ذریعہ معاش جنوبی پنجاب کے ضلع بھکر میں زرعی زمین ہے جس کی دیکھ بھال کے لیے انہیں اپنے گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔
محمد یونس نے ایتھلیٹکس کی دنیا میں پاکستان کے لیے جو کارنامے انجام دیے اب وہ بھولی بسری یادوں کے ساتھ ان کا کل سرمایہ ہیں اور اپنی انھی یادوں میں انھوں نے بی بی سی اردو کو بھی شریک کیا۔
گاؤں میں دوڑ لگاتے لگاتے انٹرنیشنل ٹریک تک پہنچ گئے
محمد یونس کہتے ہیں ’میں مئی 1966 میں پاکستان آرمی میں سپاہی بھرتی ہوا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم تین بھائی ایک ساتھ ایک ہی یونٹ میں تھے۔
’جنرل عثمانی جو بعد میں کراچی کے کورکمانڈر بنے اس وقت ملتان یونٹ میں تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ سپورٹس میں دلچسپی ہے، میں نے جواب دیا کہ گاؤں میں کبڈی کھیلتا رہا ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب میں فوج میں آیا تو عبدالخالق اور دوسرے ایتھلیٹس کو دوڑتے دیکھا کرتا تھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ کام میں بھی یہ کر سکتا ہوں۔
’میرے گاؤں سے تعلق رکھنے والے کیپٹن کریم 1500 میٹرز کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔ ان کےعلاوہ حوالدار سنگھر خان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دیکھ کر مجھے بھی ایتھلیٹکس کا شوق ہوا۔ جنرل عثمانی نے مجھے کراس کنٹری ریس میں موقع دیا اور میری کارکردگی سے متاثر ہوئے اور اجازت دے دی کہ میں ایتھلیٹکس پر توجہ دیتا رہوں۔‘
محمد یونس کہتے ہیں وہ اس میدان میں جسے اپنا کوچ تسلیم کرتے ہیں وہ لانگ جمپ کے ریکارڈ ہولڈر حوالدار رمضان علی تھے جنھوں نے ان کی بہت بڑی حوصلہ افزائی کی۔
ملکھا سنگھ سے ملاقات
مشہور انڈین ایتھلیٹ ملکھا سنگھ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے محمد یونس نے بتایا کہ وہ 1970 میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ان سے ملے تھے۔

،تصویر کا ذریعہM.Younis
محمد یونس بتاتے ہیں ’ایڈنبرا کامن ویلتھ گیمز کے موقع پر ملکھا سنگھ نے مجھے دوڑتے دیکھا تو کہنے لگے کہ اسی طرح محنت کرتے رہے تو بہت بڑے ایتھلیٹ بنو گے۔ ملکھا سنگھ کی بیگم بھی ان کے ساتھ تھیں وہ مجھ سے کہنے لگیں آپ کا دوڑنے کا انداز ملکھا سنگھ سے ملتا جلتا ہے۔
’اس واقعے کے چند روز بعد ہی میں نے جرمنی میں ہونے والی انٹرنیشنل چیمپیئن شپ میں 1500 میٹر دوڑ میں نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا جو آج تک برقرار ہے۔‘
ایشین گیمز میں گولڈ میڈل
محمد یونس نے بتایا کہ انھوں نے ایڈنبرا کے مقابلوں سے ایک برس قبل 1969 میں پہلی بار فرانس میں ہونے والی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
’جب میں نے پہلی بار پاکستان کا گرین بلیزر پہنا تو میری خوشی کی انتہا نہ تھی۔ میں 1970 میں بنکاک میں ہونے والے ایشین گیمز میں 1500 میں گولڈ میڈل جیت جاتا لیکن اپنی غلطی کی وجہ سے محروم رہا۔ جب تین چار میٹرز رہتے تھے تو میں سمجھا کہ میں پہلے نمبر پر آگیا ہوں اور میں تھوڑا سست ہو گیا جس کا فائدہ جاپانی ایتھلیٹ نے اٹھایا اور مجھ سے پہلے فنشنگ لائن عبور کر لی جس کا مجھے آج تک دکھ ہے‘۔
محمد یونس کہتے ہیں کہ یہ شکست ان کے لیے اگلے ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کے لیے ایک مہمیز ثابت ہوئی۔ ’اسی جاپانی ایتھلیٹ سے میرا دوبارہ سامنا 1974 کے تہران ایشین گیمز میں ہوا اور میں نے اسے دس میٹر کے واضح فرق سے شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا تھا‘۔
بھٹو صاحب نے پوچھا یونس کہاں ہے؟
محمد یونس نے بتایا کہ اس کامیابی کے بعد انھیں تہران میں ہی اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا مبارکباد کا پیغام موصول ہوا اور واپسی پر انھیں ملاقات کا موقع بھی ملا۔
’جب ہم واپس آئے تو ایئرمارشل نورخان فاتح ہاکی ٹیم کو وزیراعظم بھٹو سے ملوانے لے گئے۔ وزیراعظم بھٹو نے اس موقع پر مجھے یاد کیا اور کہا کہ ایشین گیمز میں محمد یونس نے بھی گولڈ میڈل جیتا ہے وہ کہاں ہیں، انھیں کیوں نہیں بلوایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہM. Younis
’دراصل جب ہم ایتھلیٹس حسن ابدال میں ایشین گیمز کی ٹریننگ کر رہے تھے تو بھٹو صاحب وہاں آئے تھے۔ وزیر کھیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے مجھے ان سے ملوایا تھا کہ ایشین گیمز میں ان سے ہمیں بڑی امیدیں ہیں جس پر بھٹو صاحب نے پوچھا تھا کہ کیا کرو گے؟۔ میں نے جواب دیا کہ محنت کی ہے آپ دعا کریں۔
’بعد میں میری ان سے ملاقات ملتان میں نواب صادق حسین قریشی کے گھر کروائی گئی۔ بھٹو صاحب بولے کہ کیا چاہیے، میں نےجواب دیا آپ کی دعا چاہیے۔ اس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہر وقت تم یہی کہتے ہو کہ دعا چاہیے جس کے بعد انھوں نے میرے لیے زمین کی الاٹمنٹ کا حکم دیا‘۔
کیا تم وہی محمد یونس ہو؟
محمد یونس کو ان کی خدمات کے اعتراف میں 1991 میں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی دینے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ایوانِ صدر میں ہونے والی تقریب میں صدر غلام اسحق خان نے یہ ایوارڈ دیا۔ جب میرا نام پکارا گیا تو میں ان کے قریب گیا تو وہ بولے کیا تم وہی پرانے والے محمد یونس ہو؟ میں نے جواب دیا جی سر، میں وہی یونس ہوں‘۔
مصنوعی ٹانگ ہی لگوا لیتے
محمد یونس کی زندگی ایک ٹریفک حادثے کے بعد تبدیل ہوئی جس کا ذکر وہ یوں کرتے ہیں ’1979 میں اپنے ایک دوست کے ساتھ میں موٹر سائیکل پر جارہا تھا کہ آرمی کی ایک گاڑی نے ہمیں ٹکر ماردی۔ ہم دونوں دوست بری طرح زخمی ہو گئے، میری دائیں ٹانگ دو، تین جگہ سے ٹوٹ گئی۔

،تصویر کا ذریعہM.Younis
’مجھے ہسپتال لے جایا گیا اور جب میں ہوش میں آیا تو مجھ سے ایک فوجی افسر نےپوچھا کہ یونس صاحب کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا، کچھ نہیں تو وہ بولے بہت کچھ ہوچکا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ کچھ نہیں ہوا۔ میں نے اُٹھنے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور بازو میں بھی فریکچر ہوا ہے۔ میرے دونوں بھائی جو میری یونٹ ہی میں ہوا کرتے تھے میرے سامنے کھڑے تھے اور رو رہے تھے‘۔ محمد یونس بتاتے ہیں کہ پاکستان میں علاج کے باوجود ان کی ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی تو انھیں حکومت نے علاج کے لیے برطانیہ بھیج دیا۔
’میرا پاکستان میں کافی علاج ہوا لیکن ٹانگ ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس واقعے کے ڈھائی سال بعد صدر ضیاالحق نے مجھے علاج کے لیے انگلینڈ کے سینٹ میری ہسپتال بھیجا جہاں میں ایک ماہ رہا۔ واپس آنے کے بعد بھی میں آرمی کے ہسپتال میں علاج کے لیے جاتا رہا۔
’ایک دن مجھے وہاں تعینات ایک ڈاکٹر نے طنزیہ کہا کہ یونس تم نے ہمارے لیے کیا مصیبت کھڑی کر رکھی ہے کہ ہر ماہ آ جاتے ہو۔ یہ ٹانگ کٹوا کر مصنوعی ٹانگ لگوالی ہوتی تو زندگی آسانی سے بسر کر لیتے۔ مجھے اس ڈاکٹر کی بات پر سخت غصہ آیا اور میں نے اسے کہا کہ آپ نے تو یہ بات بڑی آسانی سے کہہ دی۔ میں اسی ٹانگ سے مانٹریال اولمپکس میں دوڑ کر آیا ہوں‘۔
مانٹریال اولمپکس میں غلط انٹری
محمد یونس کو آج بھی بات کا قلق ہے کہ 1976 کے مانٹریال اولمپکس میں اس دوڑ کے لیے ان کی انٹری نہیں بھیجی گئی جس کے وہ ماہر تھے۔
ان مقابلوں میں محمد یونس کا انتخاب 1500 میٹرز کی بجائے 800 میٹر دوڑ کے لیے کیا گیا جبکہ اور ایک ایتھلیٹ محمد صدیق کا نام 1500 میٹر دوڑ کے لیے بھیجا گیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کا دانستہ عمل تھا۔

،تصویر کا ذریعہM. Younis
’پہلے تو یہ لوگ مجھے اولمپکس میں بھیج ہی نہیں رہے تھے۔ وہ ایک اور ایتھلیٹ محمد صدیق کو بھیجنا چاہتے تھے۔ میں نے فیڈریشن کو چیلنج دیا کہ میں ایشیئن گولڈ میڈلسٹ ہوں، میرا محمد صدیق کے ساتھ ٹرائل کروایا جائے۔
’میں اولمپکس میں چلا تو گیا لیکن میرا دل دوڑنے کو نہیں چاہتا تھا تاہم چیف ڈی مشن ملک معراج خالد کے کہنے پر میں نے ریس میں حصہ لیا۔ اگرچہ میں ابتدائی ریس میں ہی ہار گیا لیکن اس کے باوجود میں نے آٹھ سو میٹرز کا نیا قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔‘
محمد یونس کے مطابق مانٹریال اولمپکس کے بعد ایک دن مشہور ایتھلیٹ مبارک شاہ سے ان کی بحث کے دوران مبارک شاہ نے بڑے فخر سے کہا کہ ’وہ مائیں ہی مر گئی ہیں جو ایسے بیٹے پیدا کریں جو ان کا پانچ ہزار میٹر کا ریکارڈ توڑ سکیں‘۔
یونس کہتے ہیں ’یہ بات میرے دل کو لگ گئی۔1977 میں جرمنی میں ہونے والی ایتھلیٹک میٹ کے موقع پر میں نے اپنے کوچ سے کہا کہ میں پانچ ہزار میٹرز کی ریس میں حصہ لینا چاہتا ہوں جس پر وہ حیران ہوئے۔ میں نے اس دوڑ میں مبارک شاہ کا وہ قومی ریکارڈ توڑ دیا۔ آج 43 برس ہو گئے ہیں کوئی بھی میرے اس ریکارڈ کے قریب نہیں پہنچ سکا ہے۔‘
۔









