آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیع چوہدری کا کالم: کیا وسیم اکرم تاحیات پابندی کے ہی مستحق تھے؟
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
میچ فکسنگ کو روکنے کے لیے ’کریمینل ایکٹ پاس کروانا پڑے گا اسمبلی میں، جب تک یہ ایکٹ پاس نہیں کرواؤ گے، یہ لوگ ڈریں گے نہیں، یہ کرتے جائیں گے میچ فکسنگ، کرتے جائیں گے۔‘
یہ حاصلِ کلام تھا شعیب اختر کی اس یوٹیوب ویڈیو کا، جس کے جواب میں پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے ہتکِ عزت پر انھیں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا ہے۔
مزید برآں تفضل رضوی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ یہ متوقع وصولی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے میڈیکل سینٹر کو عطیہ کریں گے۔
یہ تو واضح نہیں کہ آیا تفضل رضوی پاکستان کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کورونا کی تاریخ میں بھی امر ہو جانا چاہتے ہیں مگر یہ بالکل واضح ہے کہ شعیب اختر کو یہ نوٹس فکسنگ کے خلاف قانون سازی کے مطالبے پر نہیں بھیجا گیا بلکہ اس زبان و بیاں پر جاری کیا گیا ہے جو شعیب اختر نے اپنی ویڈیو میں موصوف تفضل رضوی کے بارے میں استعمال کی ہے، جیسے ’نالائق‘، اور ’نہایت گرا ہوا‘ اور ’گھٹیا قسم کا‘ لیگل ڈپارٹمنٹ وغیرہ وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر صرف زبان کی نوعیت دیکھی جائے تو واقعی تفضل رضوی کا شکوہ قابلِ فہم ہے لیکن شعیب اختر نے دلائل کا جو انبار لگایا ہے، ان کے تناظر میں پی سی بی کی میچ فکسنگ کے حوالے سے پالیسی پر کئی اہم سوال اٹھتے ہیں۔
عمر اکمل پر پابندی نرم ہے یا سخت، یہ تو کوئی قانونی ماہر ہی بتا سکتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ احسان مانی کے فکسنگ کے خلاف قانون سازی کے بارے میں حالیہ مطالبے سے پہلے تک تو پی سی بی اس معاملے میں کڑی سزاؤں کی نظیر قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کیا 10 سال پہلے محمد عامر کا ٹرائل ہی اس ادارے کے لیے مشعلِ راہ نہیں بن جانا چاہیے تھا کہ جہاں برطانوی قانونی نظام نے انھیں کم سِنی کے باوجود بھی جیل سے استثنیٰ نہ دیا؟
اس کے برعکس ہمارے پورے کرکٹنگ ڈھانچے نے ان کی بحالی کے لیے دوڑ دوڑ کر پیر تھکا لیے۔
اس سطح پر فکسنگ اور قمار بازی جیسے جرائم کی روح میں جھانک کر دیکھا جائے تو دراصل ایک شخص محض اپنے مالی فائدے کے لیے نہ صرف کھیل، بلکہ کروڑوں شائقین کے جذبات سے بھی کھلواڑ کر رہا ہوتا ہے۔
جو قوم کرکٹ سے جس قدر لگاؤ رکھتی ہے، وہاں اتنے ہی کڑے قوانین ہیں۔ سری لنکا ہو، برطانیہ ہو کہ آسٹریلیا، فکسنگ پر سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور ان کا اثر متعلقہ کرکٹ کلچر میں جھلکتا بھی ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ ماضی بعید میں جھانک کر بھی ہم آسٹریلوی کرکٹ کلچر میں مالی بد عنوانی کی چند مثالیں اکٹھی نہیں کر سکتے؟
شعیب اختر نے اپنی ویڈیو میں جس ’تپ چڑھی ہوئی تھی‘ کا ذکر کیا ہے، 90 کی دہائی کے کرکٹ شائقین اکثر اس ’تپ‘ سے گزرتے رہے ہیں کیونکہ یہ وہ کرکٹ کلچر ہے جہاں آج تک کوئی نہیں جان پایا کہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میچ سے صرف پانچ منٹ پہلے ہی اچانک کپتان کے کندھے میں درد کیوں پڑ جاتا ہے۔
عامر سہیل کا بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے مگر پی سی بی نے کبھی رک کر اس میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی۔
یہ وہ کرکٹ کلچر ہے جہاں ایک کھلاڑی دوسرے پر تین لاکھ کی فکسنگ آفر کا الزام عائد کرتا ہے، پھر مُکر جاتا ہے اور پھر دعویٰ کرتا ہے کہ چیئرمین بورڈ نے بیان بدلنے کے لیے اس پر دباؤ ڈالا تھا۔
وہ چیئرمین اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس معاملے پر چپ رہتا ہے مگر 20 سال بعد ایک دن اچانک بول پڑتا ہے کہ عطاء الرحمان کا الزام درست تھا۔
یہی نہیں، وہ 1999 کے ورلڈ کپ فائنل سمیت تین میچز کو بھی مشکوک قرار دیتا ہے۔ اپنے عہد میں وسیم اکرم کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے چیئرمین خالد محمود اب کیوں یہ کہہ رہے ہیں کہ عطاء الرحمان بیان نہ بدلتے تو وسیم اکرم پر بھی تاحیات پابندی لگ جاتی؟
یہ کیسا کرکٹ کلچر ہے کہ جہاں ایک سزا یافتہ سابق کھلاڑی پی سی بی میں نوکری کے لیے ویڈیوز بنا رہا ہے اور اس کے کئی ’بیچ میٹ‘ ماضی، حال اور مستقبل میں بھی پی سی بی کی خدمات کے لیے وقف ہوئے بیٹھے ہیں۔ جسٹس قیوم رپورٹ کے لگ بھگ سبھی سزا یافتگان پی سی بی کے لیے اپنی خدمات ادا کر چکے ہیں۔
اور اس سارے فسانے کے بیچ سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے ایک اور پٹاری کھول چھوڑی ہے کہ 2010 میں عمر اکمل نے انھیں جنوبی افریقہ کے خلاف برا پرفارم کرنے کے لیے ڈرایا دھمکایا تھا۔
ان کی کہانی یہ بھی بتاتی ہے کہ ہیڈ کوچ وقار یونس نے معاملے کو اس قدر ’رفع دفع‘ کروایا کہ انھیں جان کی امان پا کر انگلینڈ بھاگنا پڑا۔ کیا پی سی بی ان الزامات کو پھر پرکھنے کی زحمت کرے گا؟
گو چیئرمین پی سی بی کے سامنے یہ سارے سوال ایک بحران کی مانند کھڑے ہیں لیکن یہ امکان بہرطور موجود ہے کہ احسان مانی اس قضیے کو بھی بس آخری بار نمٹا ہی ڈالیں۔
آخر کیوں ہر بار کوئی پرانی قبریں کھود کر بھولے بھٹکے زخم تازہ کرتا ہے اور پھر اچانک چپ سادھ لیتا ہے؟
کیوں جاوید میانداد الزام لگانے کے چار دن بعد صلح جُو بن کر شاہد آفریدی کو چھوٹا بھائی بنا لیتے ہیں؟ بھلا کیوں کوئی بھی کچھ بھی کہہ چھوڑتا ہے اور ثبوت لائے بغیر ہی ہاتھ جھاڑ کر نکل لیتا ہے؟
فکسنگ کے اس بدنما داغ نے پچھلے 35 برسوں میں بار بار پاکستان کرکٹ کے چہرے کو داغ دار کیا ہے۔ اب جب کہ 92 کا کپتان قانون ساز اسمبلی کا سربراہ ہے تو کیوں نہ 90 کی دہائی کے سارے حساب ایک ہی بار بے باق کر دیے جائیں؟