آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سلیم ملک: ’میچ فکسنگ کی نہیں تو اعتراف کیوں کروں؟‘
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے میچ فکسنگ کی ہی نہیں تو اعتراف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سلیم ملک نے منگل کو روز ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہوں نے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی ہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر بالکل غلط ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک ایک ہفتے کے دوران دو بار میڈیا کو جاری کی گئی ویڈیوز کے ذریعے کرکٹ میں واپسی کی اپیل کرچکے ہیں۔ اپنی دوسری ویڈیو میں انھوں نے شائقین سے معافی بھی مانگی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
سلیم ملک سے جب یہ کہا گیا کہ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹر کے لیے واپسی کی شرط یہی ہے کہ وہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت پہلے اپنے جرم کا اعتراف کرے اور اس کے بعد ان کی بحالی کا پروگرام شروع ہوگا، جس پر سلیم ملک کا کہنا تھا کہ عدالت انہیں کلیئر کر چکی ہے۔ عدالت نے ان پر عائد تاحیات پابندی اٹھانے کا حکم 2008 میں دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کی واپسی میں تاخیری حربے استعمال کرتا رہا ہے اور ’اب اس نے آئی سی سی کی جانب سے ملنے والے ٹرانسکرپٹ کی بات کی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیم ملک نے سوال کیا کہ اگر آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان سے متعلق کوئی ٹرانسکرپٹ دیا تھا تو اس نے وہ مسودہ عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا؟
سلیم ملک نے کہا کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس طرح کا کوئی بھی ٹرانسکرپٹ نہیں دیا لیکن اگر انہیں اس طرح کا کوئی مسودہ دیا گیا تو وہ یقیناً آئی سی سی یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے پیش ہو کر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2013 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو 25 صفحات کا ایک ٹرانسکرپٹ دیا تھا جو دراصل سلیم ملک کی انگلینڈ میں کسی مشکوک شخص کے ساتھ گفتگو تھی اور ایک سٹنگ آپریشن کے ذریعے بالکل اسی انداز میں ریکارڈ کی گئی تھی جیسے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ مظہر مجید کے ساتھ ہوا تھا۔
سلیم ملک کا کہنا ہے کہ یہ ان کی بڑی کامیابی تھی کہ عدالت نے انہیں کلیئر کرتے ہوئے تاحیات پابندی اٹھالی تھی جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ان کا روکا ہوا پراویڈنٹ فنڈ بھی جاری کرنا پڑا تھا۔
سلیم ملک نے جسٹس ملک محمد قیوم رپورٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس رپورٹ کی بات کرتے ہیں وہ اسے غور سے پڑھیں کیونکہ اس میں واضح طور پر جن کھلاڑیوں کے بارے میں سفارشات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد نہیں ہوا اور وہ سارے کرکٹرز کسی نہ کسی حیثیت میں کرکٹ میں واپس آئے اور صرف ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور انہیں نشانہ بنایا گیا۔
سلیم ملک کا کہنا ہے کہ پچھلے چند روز سے ان کی جانب سے میڈیا میں بیانات کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس میں پس پردہ کوئی محرک نہیں اور نہ ہی انہیں کسی نے کوئی اشارہ دیا ہے۔ ان کے مطابق انضمام الحق اور ثقلین مشتاق نے ان کے لیے مثبت سوچ اختیار کرتے ہوئے جو باتیں کیں تو ان میں بھی دوبارہ حوصلہ پیدا ہوگیا کیونکہ انیس سال سے اپنا کیس لڑتے لڑتے وہ دلبرداشتہ ہوگئے تھے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ انصاف ہو۔
پاکستانی کرکٹ میں سابق کپتان کی واپسی کتنی آسان؟
سابق پاکستانی کرکٹر سلیم ملک کا نام تین تحقیقاتی رپورٹس میں شامل ہوا۔ تو کیا یہ سب کچھ اتنا آسان ہے کہ اس کے بعد سلیم ملک کسی نہ کسی حیثیت میں کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں؟ اور کیا ان کی واپسی کے لیے ’اعتراف جرم‘ ضروری نہیں؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سلیم ملک کرکٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ان کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں سلیم ملک، ہنسی کرونیے اور اظہرالدین پر پابندیاں لگی تھیں اس زمانے میں آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کا ضابطہ اخلاق موجود نہیں تھا اور آئی سی سی نے اس وقت متعلقہ کرکٹ بورڈ سے تحقیقات کے لیے کہا تھا۔
’لیکن اب چونکہ آئی سی سی کا باقاعدہ اینٹی کرپشن ضابطہ اخلاق موجود ہے، لہذا جو بھی کرکٹر میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد واپس آنا چاہتا ہے یا واپس آیا ہے اسے ایک عمل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں پہلے وہ اپنے کیے گئے جرم کا باقاعدہ اعتراف کرتا ہے۔ معافی مانگنے کے بعد قواعد و ضوابط کے تحت بحالی کا پروگرام شروع ہوتا ہے۔‘
تفضل حیدر رضوی کہتے ہیں کہ اگر سلیم ملک واپس آنا چاہتے ہیں تو انھیں بھی ’آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا ہوگا۔‘
سلیم ملک کی راہ میں ایک اور رکاوٹ موجود
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایک اور معاملے میں ان سے وضاحت طلب کر رکھی ہے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2013 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو 25 صفحات کا ایک ٹرانسکرپٹ دیا تھا جو دراصل سلیم ملک کی انگلینڈ میں کسی مشکوک شخص کے ساتھ گفتگو تھی اور ایک سٹنگ آپریشن کے ذریعے بالکل اسی انداز میں ریکارڈ کی گئی تھی جیسے سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ مظہر مجید کے ساتھ ہوا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک سے متعدد بار اس معاملے کی وضاحت کرنے کے لیے کہا لیکن ان کی طرف سے خاموشی رہی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ یہ وہ معاملہ ہے جس کی اب تک باقاعدہ تحقیقات نہیں ہوئی اور اگر سلیم ملک کرکٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں تو انھیں اس معاملے کی بھی وضاحت کرنی پڑے گی اور کئی سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے کیونکہ اس معاملے کا تعلق آئی سی سی سے ہے۔
’سلیم ملک کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا گیا‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا اس بات کے حق میں ہیں کہ جس طرح دوسرے کرکٹرز میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ میں سزائیں مکمل کرنے کے بعد کسی نہ کسی حیثیت میں واپس آچکے ہیں تو سلیم ملک کو بھی ایک موقع ملنا چاہیے۔
یاد رہے کہ لیفٹننٹ جنرل توقیر ضیا نے مئی سنہ 2000 میں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی رپورٹ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر جاری کی تھی۔
توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کی واپسی یا تو کمنٹیٹر کے طور پر ہوسکتی ہے یا پھر وہ اپنی کرکٹ اکیڈمی شروع کر سکتے ہیں۔ لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ اس واپسی میں کوئی حرج نہیں کیونکہ سلیم ملک پر عائد تاحیات پابندی 2008 میں عدالت بھی اٹھا چکی ہے۔ ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ بھی اٹھا سکتا ہے۔‘
اس سوال پر کہ کیا سلیم ملک کی واپسی پر آئی سی سی کو اعتراض نہیں ہوگا، توقیر ضیا کہتے ہیں کہ انھیں نہیں معلوم کہ آئی سی سی کے قوانین کیا ہیں لیکن ’بظاہر آئی سی سی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کا اپنا معاملہ ہے۔‘
انھوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہوتے تو اس معاملے پر آئی سی سی سے رجوع نہ کرتے۔
توقیر ضیا سے جب پوچھا گیا کہ سلیم ملک ماضی میں یہ گلہ کرتے رہے ہیں کہ انھیں ’قربانی کا بکرا بنایا گیا‘ تھا تو اس پر ان کا جواب تھا کہ جب جسٹس قیوم کی رپورٹ ان کے پاس آئی تو وہ کسی بھی کھلاڑی کو نہیں جانتے تھے، لہذا کسی کو بچانے یا کسی کو ناحق سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ’بہت سی باتیں ہوا میں گھومتی رہیں ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔‘
توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ ’اگر سلیم ملک نے وسیم اکرم کی طرح اچھا وکیل کیا ہوتا تو وہ ان کا کیس مؤثر طریقے سے لڑسکتا تھا۔‘
سلیم ملک کا نام تین تحقیقاتی رپورٹس میں
سلیم ملک کا نام پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تین تحقیقات میں شامل ہے۔
سنہ 1994 میں جب آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن، مارک وا اور ٹم مے نے خراب کارکردگی دکھانے کے لیے مبینہ طور پر سلیم ملک کی جانب سے مالی پیشکش کا الزام عائد کیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس کی تحقیقات کے لیے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔
آسٹریلوی کرکٹرز نے پاکستان آکر بیان دینے سے انکار کر دیا جس پر کمیٹی نے عدم ثبوت پر سلیم ملک کو بری کر دیا۔
سنہ 1998 میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے جسٹس اعجاز یوسف کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سلیم ملک، اعجاز احمد اور وسیم اکرم کو پاکستان کی کرکٹ سے دور رکھا جائے۔
اور سنہ 2000 میں جسٹس قیوم کمیشن نے سلیم ملک کو میچ فکسنگ میں ملوث قرار دیتے ہوئے تاحیات پابندی کی سفارش کی تھی۔ لاہور کی ایک سول عدالت نے سابق کپتان پر میچ فکسنگ کے الزام میں عائد تاحیات پابندی ختم کر دی تھی۔