سبائنا پارک 1976: کرکٹ کی تاریخ کا سب سے عجیب و غریب ڈکلیریشن، جب ویسٹ انڈیز نے سنیل گواسکر کو ’باڈی لائن‘ بولنگ کروائی

مائیکل ہولڈنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمائیکل ہولڈنگ
    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

سنہ 1970 کی دہائی میں سبائنا پارک کنگسٹن کی پچ ویسٹ انڈیز کی تیز ترین پچ سمجھی جاتی تھی۔

سنہ 1976 میں پورٹ آف سپین ٹیسٹ ہارنے کے بعد ویسٹ انڈیز نے اپنے تین سپنرز میں سے دو کو ہٹا کر فاسٹ بولر وین ڈینیئل اور ویبرن ہولڈر کو ٹیم میں شامل کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میزبان ٹیم آخری ٹیسٹ میچ میں چار فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اُتری۔

کلائیو لائیڈ نے ٹاس جیت کر پہلے پچ استعمال کرنے کے لیے اپنے فاسٹ بولرز کو موقع دیا لیکن اوپنرز سنیل گواسکر اور انشومن گائکواڈ زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔

مائیکل ہولڈنگ ہر گیند پر بلے بازوں کو اچھلنے پر مجبور کر رہے تھے اور جب کافی دیر بعد انھوں نے ایک ’فُل لیتھل بال‘ کی تو گواسکر نے اسے مِڈ وکٹ باؤنڈری کے پار چار رنز کے لیے ڈرائیو کر دیا۔

اس کے بعد ہولڈنگ نے جو باؤنسر ڈالا اس نے تقریباً گواسکر کا سر ہی اتار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

گواسکر نے کسی طرح خود کو گیند کی لائن سے ہٹایا۔ یہ کرتے کرتے ان کی ٹوپی گر گئی مگر خوش قسمتی سے وکٹ پر نہیں گری۔

باڈی لائن سیریز کی یاد تازہ

اُس دن ویسٹ انڈیز کے بولرز نے ایسی خطرناک بولنگ کا مظاہرہ کیا کہ سنہ 1933 کی باڈی لائن سیریز کی یاد تازہ ہو گئی۔

اس وقت انگلینڈ کے کپتان ڈگلس جارڈین نے ڈان بریڈمین کو قابو میں رکھنے کے لیے ہیرولڈ لاروڈ کی قیادت میں خصوصی حکمت عملی تیار کی تھی۔

جارڈین کی طرح لائیڈ بھی ہر قیمت پر انڈیا کے خلاف یہ میچ جیتنا چاہتے تھے۔

سنہ 1932 میں جس طرح انگلش ٹیم کا اصل ہدف بریڈمین تھے اسی طرح سنہ 1976 میں ویسٹ انڈیز ٹیم کے نمبر ون دشمن سنیل گواسکر تھے۔

جب ویسٹ انڈیز کے بالروں نے وحشی پن کی انتہا پار کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھانے کے وقفے کا ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی جب ویسٹ انڈیز کو کامیابی نہیں ملی تو پھر لائیڈ نے اپنے ٹرمپ کارڈ مائیکل ہولڈنگ کو دوبارہ بولنگ کے لیے دعوت دی۔

انھوں نے گواسکر کے لیے ’امبریلا‘ فیلڈنگ سجائی اور جولین اور فریڈرکس دونوں کو لیگ سلپ پر کھڑا کیا۔

اس کے بعد ہولڈنگ نے امپائر کو مطلع کیا کہ وہ راؤنڈ دی وکٹ گیند بال کروائیں گے۔

باؤنسر کے ساتھ بیمرز

سنیل گواسکر اور انشومن گائکواڈ نے خود کو باؤنسر کی بوچھاڑ کے لیے تیار کیا۔

لیکن ہولڈنگ اور ڈینیئل اس سے کئی قدم آگے نکلے۔

جب ویسٹ انڈیز کے بالروں نے وحشی پن کی انتہا پار کی

،تصویر کا ذریعہAMAZON.IN

انھوں نے باؤنسر کے ساتھ ساتھ بیمرز بھی پھینکنا شروع کیے جو اس رفتار پر مہلک ثابت ہوسکتے تھے۔

بیمر پھینکنے کے بعد دونوں باؤلرز یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے کہ غلطی سے گیند ان کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ لیکن یہ واضح تھا کہ وہ جان بوجھ کر یہ کام کر رہے تھے۔

ہولڈنگ اور ڈینیئل کو نہ صرف ان کے کپتان کی حمایت حاصل تھی بلکہ میچ دیکھنے والے شائقین بھی چیخ چیخ کر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔

گواسکر اپنی سوانح عمری ’سنی ڈیز‘ میں لکھتے ہیں: ’جمیکا کے ناظرین کو تماشائی کہنا غلط ہوگا۔ ان کے لیے ’ہجوم‘ لفظ کا استعمال بہتر ہو گا۔

جب ہولڈنگ ہمارے اوپر باؤنسرز کی بوچھار کر رہے تھے تو سٹینڈز سے ’کِل ہم مین! ہِٹ ہم مین! ناک ہِز ہیڈ آف مائیک!‘ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کا رُخ اتنا متعصبانہ تھا کہ انھوں نے ایک بار بھی ہمارے شاٹس پر تالیاں نہیں بجائیں۔ ایک بار جب میں نے ڈینیئل کی گیند پر چوکا لگایا تو میں نے باقاعدہ ان سے تالی بجانے کو کہا۔ وہاں سے مجھے صرف قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔‘

سبینا پارک کنگسٹن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تمام فیلڈرز وکٹ کے پیچھے

بعد میں انشومن گائکواڈ نے اس میچ کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’پچ اتنی سخت تھی کہ ہمارے جوتوں کے سپائکس اس میں نہیں جا رہے تھے۔ ویسٹ انڈین بولرز مستقل طور پر شارٹ گیندیں ڈال رہے تھے، لیکن وہ ہمیں آؤٹ نہیں کر پا رہے تھے۔ انھوں نے ایک بھی فیلڈر وکٹ کے سامنے نہیں رکھا۔

’مجھے یاد ہے کہ ڈینیئل کے لیے لائیڈ نے چار سلپ، دو گلی، ایک ڈیپ فائن لیگ، ایک شارٹ لیگ اور ایک پوائنٹ کی فیلڈ لگائی تھی۔ ہولڈنگ کی طرح ڈینیئل بھی تقریباً ہر اوور میں بیمر پھینک رہے تھے اور شاک گیند کی شکل میں یارکر کا استعمال کر رہے تھے۔

'ہر اوور میں تین یا چار باؤنسر پھینکے جانے کے بعد گواسکر اس قدر پریشان ہوئے کہ انھوں نے ڈرنکس کے وقفے میں امپائر سے اس بات کی شکایت کی۔ امپائر نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ شاید آپ اس طرح کی بولنگ کے عادی نہیں ہیں۔ یہ سنتے ہی گواسکر کو غصہ آگیا۔ جب میں نے انھیں پرسکون کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ میں اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔‘

پہلی وکٹ کے لیے سنچری کی شراکت

سنیل گواسکر بال کو ہُک کرنے کے خلاف نہیں تھے۔

لیکن ایک اوور میں آپ ایک آدھ باؤنسر کو تو ہُک کر ہی سکتے ہیں۔ لیکن جب اوور کی تقریباً ہر گیند باؤنسر ہو تو آپ کیا کریں گے۔

سنیل گواسکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بعد میں سنیل گواسکر نے سپورٹس سٹار کے 13 اگست 1995 کے شمارے میں لکھا: ’ہولڈنگ کی ایک گیند نے میرے بائیں ہاتھ کی انگلی کو بیٹ کے ہینڈل کے درمیان کچل دیا۔ اس کے بعد اس ہاتھ سے بیٹ کو تھامنا مشکل ہوگیا۔ شارٹ پچ گیند کھیلتے ہوئے میرے نچلے ہاتھ نے بیٹ چھوڑنا شروع کردیا کیونکہ میں بیٹ کو مضبوطی سے تھامنے کے قابل نہیں تھا۔‘

تاہم گواسکر کریز پر جمے رہے اور ہولڈر کی گیند کو ہُک کر کے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ تھوڑی دیر بعد گواسکر ہولڈنگ کے یارکر پر آؤٹ ہوگئے۔ انھوں نے اس گیند کو اپنے سٹمپس پر ہی کھیل دیا اور انڈین ٹیم کی پہلی وکٹ 136 کے اسکور پر گری۔ پہلے دن صرف 67 اوورز کی بولنگ ہوئی اور دن کے کھیل کے اختتام پر انڈیا کا سکور ایک وکٹ کے نقصان پر 178 رنز تھا۔

دوسرے دن ویسٹ انڈیز کے اخبار کی سرخی 'انڈیا کی سست بیٹنگ' تھی۔

گائکواڑ کے کان کے پیچھے گیند لگ گئی

اگلے دن جب سکور ایک وکٹ پر 199 رنز تک پہنچا تو لائیڈ نے دوسری نئی گیند لے لی۔

اسی درمیان ہولڈنگ نے ایک ایسی گیند ڈالی کہ مہیندر امرناتھ کو اپنے چہرے کو بچانے کے لیے اس گیند کو منھ کے سامنے کھیلنا پڑا اور جولین نے آسان سا کیچ لیا۔

نئے بلے باز وشوناتھ کا استقبال بھی شارٹ پچ گیند سے کیا گیا۔ وہ خوش قسمت تھے کہ انھیں کوئی چوٹ نہیں لگی۔ لیکن گائکواڈ کی قسمت اتنی اچھی نہیں تھی۔

ہولڈنگ نے اس قدر تیز باؤنسر ڈالا کہ وہ ان کے کان کے پیچھے جا لگا۔ ان کی عینک اچھل گئی اور گائیکواڈ نیچے گر گئے۔ ان کے کان سے خون نکل رہا تھا۔

اس منظر پر پریشان ہونے کے بجائے سبینا پارک کے ناظرین اچھل رہے تھے اور خوشی میں تالیاں بجا رہے تھے۔ جب گائیکواڈ پویلین پہنچے تو کوئی بھی انھیں ہسپتال لے جانے کو تیار نہیں تھا۔

کافی دیر بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔ ٹیم منیجر پالی امریگر ان کے ہمراہ تھے۔

مائیکل ہولڈنگ کتاب

،تصویر کا ذریعہAMAZON.IN

بعد میں انھوں نے لکھا: ’میں گراؤنڈ پر واپس آنے کے لیے کار میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ مجھے فون آیا کہ میں وہیں رہوں کیونکہ ایک اور کھلاڑی ہسپتال آرہا ہے۔ پہلے وشوناتھ ہسپتال آئے اور ان کے بعد برجیش پٹیل کو بھی وہاں لے جایا گیا۔ واضح طور پر یہ بولنگ ڈرا دینے والی تھی اور امپائر نے رول 46 کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

وشوناتھ اور پٹیل بھی زخمی ہوئے

وشوناتھ کی درمیانی انگلی اس وقت ٹوٹ گئی جب وہ ایک بہت ہی تیز گیند اور بلے کے ہینڈل کے درمیان آ گئی۔

اور اس پر مزید یہ ہوا کہ گیند ان کے بلے کو چھوتی ہوئی سلپ کی طرف چلی گئی جہاں اسے لپک لیا گیا۔

ایک طرف شارٹ گیند برجیش پٹیل کے چہرے پر لگی جس کی وجہ سے ان کے ہونٹ پر تین ٹانکے لگے اور انھیں سخت محنت کے ساتھ تیار کی جانے والی اپنی مونچھیں کٹوانی پڑیں۔

جب ہندوستان کا سکور 6 وکٹوں پر 306 تک پہنچا تو بیدی نے اننگز کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

بعد میں لائیڈ نے ایک بیان میں کہا: ’دراصل اس پچ پر ایک ایسی جگہ بن گئی تھی جہاں پر گر کر گیند خطرناک ڈھنگ سے اٹھ رہی تھی۔ بولرز کی کوئی غلطی نہیں تھی کیونکہ اس پچ پر رنز بھی بنے تھے۔‘

ونگسرکر نے گواسکر کے ساتھ دوسری اننگز کا آغاز کیا

جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم بیٹنگ کرنے آئی تو روئے فریڈرکس کے پیڈ پر گیند لگی لیکن امپائر گوسائيں کی انگلی نہیں اٹھی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 391 رنز بنائے۔ اس طرح اسے پہلی اننگز میں 85 رنز کی برتری حاصل ہوگئی۔

جب ویسٹ انڈیز کے بالروں نے وحشی پن کی انتہا پار کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چندر شیکھر نے ٹوٹے ہوئے انگوٹھے سے بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

اپنی ہی گیند پر لائیڈ کا کیچ پکڑنے کی کوشش کے دوران چندر شیکر کا بائیں انگوٹھا ٹوٹ گیا تھا۔

بشن سنگھ بیدی نے بھی اپنی زخمی انگلی کے باوجود دو وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں گائکواڑ کی بیٹنگ کا سوال ہی نہیں تھا۔ ان کے بائیں کان کی ایک نس زخمی ہوئی تھی اور انڈیا واپس آنے کے بعد بھی کئی دنوں تک انھیں کان سے سیٹی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

وشوناتھ اور پٹیل کے بھی زخمی ہونے کا مطلب یہ بھی تھا کہ اس میچ کو بچانے کے لیے باقی انڈین بلے بازوں کو اپنی زندگی کی بہترین اننگز کھیلنی پڑے گی۔

بہت دنوں بعد دلیپ وینگسرکر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں نے پہلی اننگز میں پانچ نمبر پر بیٹنگ کی تھی۔ دوسری اننگز میں سنیل گواسکر کے ساتھ میں اوپن کرنے آیا تھا۔ میں نے گواسکر سے درخواست کی کہ مجھے پہلے سٹرا‏‏ئیک لینے کی اجازت دی جائے۔ گواسکر نے یہ کہتے ہوئے ماننے سے انکار کردیا کہ سینیئر کھلاڑی کا فرض ہے کہ وہ پہلی گیند کھیلے۔

’آپ کو یقین نہیں ہوگا کہ ہولڈنگ کی پہلی گیند نہ صرف گواسکر کے سر سے اوپر سے نکلی بلکہ وہ وکٹ کیپر کے سر سے بھی اوپر ہوتی ہوئی چار رنز کے لیے باؤنڈری کے باہر چلی گئی۔ اگر میں وہ گیند کھیلتا تو وہ شرطیہ میرے منہ پر پڑتی کیونکہ میں گواسکر سے لمبا ہوں۔‘

بیدی نےپانچ وکٹوں کے نقصان پر 97 رنز پر ہی اننگز ڈکلیئر کردی

سنیل گواسکر دوسری اننگز میں صرف دو رنز بناسکے۔

بعد میں بیدی نے کہا: ’جب انڈیا کی پہلی وکٹ 5 کے اسکور پر گری تب سکور دراصل 4 وکٹ پر پانچ رنز تھا کیونکہ گائکواڑ، وشواناتھ اور برجیش پٹیل تینوں ہی زخمی تھے۔‘

لیکن درحقیقت اس وقت سکور چھ وکٹ پر پانچ رنز تھا کیونکہ بیدی اور چندر شیکھر دونوں کی انگلیاں زخمی تھیں اور وہ بیٹ نہیں پکڑ سکتے تھے۔ وینگسرکر نے 21 رنز بنائے۔

لیکن بہترین بیٹنگ مہیندر امرناتھ نے کی جنھوں نے 3 چھکوں کی مدد سے 60 رنز بنائے۔ ہولڈنگ کی ایک گیند مدن لال کے سر پر لگی۔

وہ اگلی ہی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ وینکٹ راگھون بھی اسی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ اس وقت انڈیا کا سکور پانچ وکٹوں پر 97 رنز تھا۔

اسی دن سریندر امرناتھ کو ’اپینڈکس‘ کے ہنگامی آپریشن کے لیے ہسپتال لے جایا گیا۔

جب ویسٹ انڈیز کے بالروں نے وحشی پن کی انتہا پار کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس ٹیسٹ میچ میں انڈیا کے تمام 17 کھلاڑیوں نے کسی نہ کسی وقت فیلڈنگ کی تھی۔ جب وینکٹ راگھون کے ساتھ ناٹ آؤٹ کرمانی بھی پویلین لوٹ گئے تو اسے کرکٹ کی تاریخ کا سب سے عجیب و غریب 'ڈکلیریشن' کہا گیا۔

بیدی نے بعد میں واضح کیا کہ اننگز کے خاتمے کے اعلان کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ اور چندر شیکھر بیٹنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس وقت دوسری اننگز میں ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے صرف 13 رنز بنانا تھے۔ اس ہدف کو انھوں نے بہت آسانی سے پورا کیا۔

مائیکل ہولڈنگ شرمندہ

ویسٹ انڈیز نے یہ میچ 10 وکٹوں سے جیت لیا تھا اور یہاں سے ہی انھوں نے چار تیز بولرز کو ٹیسٹ میچ میں کھلانے کی حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔

بعد میں کرکٹ مصنف راجن بالا نے اپنی کتاب ’دی کورز آر آف‘ میں لکھا ہے کہ ’مائیکل ہولڈنگ نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ اس ٹیسٹ میچ کے لیے ہمیشہ شرمندہ رہیں گے۔‘

مائیکل ہولڈنگ نے اپنی سوانح عمری ’نو ہولڈنگ بیک‘ میں بھی لکھا: ’مجھے جس طرح سے بولنگ کرنے کے لیے کہا گیا تھا اس سے مجھے کبھی بھی راحت محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن یہ دونوں ممالک کے مابین ٹیسٹ میچ تھا۔ جیسا میری ٹیم اور کپتان چاہتے تھے میں نے ویسا ہی کیا۔ بعد میں جب ہماری ٹیم مستحکم ہوگئی اور لائیڈ کو بطور کپتان مزید تجربہ ملا تو ہمیں جیتنے کے لیے اس طرح کی حکمت عملی کی ضرورت نہیں رہی۔‘

گواسکر اپنی سوانح عمری 'سنی ڈیز' میں لکھتے ہیں: ’میچ کے بعد لائیڈ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شاید انڈین کھلاڑی ہاف والیز کی توقع کر رہے تھے جس پر وہ آسانی سے چوکے لگاسکتے ہیں۔ والکوٹ نے کہا کہ انڈین کھلاڑیوں کو تیز بولنگ کھیلنا سیکھنا چاہیے۔ خطرناک بولنگ کی ان کی شکایات جائز نہیں ہیں۔ ہمیں صحیح اور غلط کا سبق سکھانے والے والکاٹ وہی شخص تھے جنھوں نے سنہ 1948 کے انڈین دورے میں وکٹ کیپر ہونے کے باوجود گیند کو باؤنڈری پر چل کر جا کر اٹھایا تاکہ تاخیر ہو اور انڈین کھلاڑیوں کو جیتنے کے لیے زیادہ وقت نہ مل سکے۔'

اور اس طرح انڈیا کا یہ میچ جیت کر بھی ڈرا ہو گیا تھا۔