#IUvQG: بین کٹنگ کی جارحانہ اننگز کی بدولت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف پانچ وکٹوں سے فتح

بین

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنبین کٹنگ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا کیونکہ انھوں نے 17 گیندوں پر چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 42 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے نویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کا 188 رنز کا ہدف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں حاصل کر لیا۔

ایک انتہائی دلچسپ میچ میں جہاں کبھی ایک ٹیم جیتتی دکھائی دیتی تو کبھی دوسری، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بلے بازوں نے ہدف کا عمدہ تعاقب کرتے ہوئے آخری اوور میں فتح حاصل کر لی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ جو ایک موقع پر 200 رنز سے زائد کا ٹوٹل بناتی دکھائی دے رہی تھی، مقررہ 20 اوورز میں 187 رنز بنا سکی جو اس پچ اور چھوٹے گراؤنڈ کی مناسبت سے ایک اچھا ٹوٹل ثابت نہ ہو سکا۔

مزید پڑھیے

نیسم

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشننسیم کی بولنگ کی رفتار بھی 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کو چھو رہی تھی اور انھوں نے عمدہ لینتھ پر بولنگ کرتے ہوئے میچ میں کوئٹہ کی واپسی کو یقینی بنایا۔

نسیم شاہ کی عمدہ بولنگ

راولپنڈی کے چھوٹے سے گراؤنڈ اور بیٹنگ کے لیے عمدہ پچ پر شروع سے ہی یہی اندازے لگائے جا رہے تھے کہ بولرز کو اس پچ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم 17 برس کے نسیم شاہ نے اس تاثر کو اپنے پہلے ہی اوور میں زائل کیا اور ان فارم لیوک رانکی کو بولڈ کر دیا۔ اچھی بولنگ کا مظاہرے کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دوسرے اوور میں ڈیوڈ ملّان کو بھی بولڈ کر کے پویلین کی راہ دکھائی۔

ان کی بولنگ کی رفتار بھی 150 کلو میٹر فی گھنٹہ کو چھو رہی تھی اور انھوں نے عمدہ لینتھ پر بولنگ کرتے ہوئے میچ میں کوئٹہ کی واپسی کو یقینی بنایا۔

ایک موقع پر جب آخری چند اوورز میں اسلام آباد یونائٹڈ کا 200 رنز عبور کرنا یقینی لگ رہا تھا ایسے میں نسیم شاہ اور ٹمال ملز نے چار عمدہ اوورز کروائے اور آخری پانچ اوورز میں صرف 33 رنز بنانے والی اسلام آباد یونائیٹڈ کو 187 رنز تک محدود کیا۔

انھوں نے صرف چار اوورز میں دو 23 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔

شاداب

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنعام طور پر ان کی لیگ سپن ہی ان کا خاصا ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں جس میں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی کر رہے ہیں وہ پچھلے میچ سے بیٹنگ آرڈر میں نمبر چار پر آ رہے ہیں اور کمال بیٹنگ کر رہے ہیں۔

شاداب خان نمبر چار پر پھر کامیاب

لاہور قلندرز کے پچھلے میچ کی طرح اس میچ میں بھی کپتان شاداب خان چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے۔

عام طور پر ان کی لیگ سپن ہی ان کا خاصا ہے لیکن اس ٹورنامنٹ میں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی کپتانی کر رہے ہیں انھوں نے بیٹنگ آرڈر میں نمبر چار پر آنا شروع کر دیا ہے۔

ایک ایسے موقع پر جب ان کی ٹیم کو تیز رنز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اچھے سٹرائک ریٹ کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی بڑا سکور بنانے میں میں مدد کر رہے ہیں۔

آج بھی انھوں نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر 25 گیندوں پر 39 رنز کی اچھی اننگز کھیلی۔ یہ یقیناً پاکستانی ٹیم کے لیے بھی ایک خوش آئند بات ہو گی کیونکہ قومی ٹیم ایک عرصے سے ایسے آلراؤنڈر کی تلاش میں تھی جس کی بلے بازی پر بھی انحصار کیا جا سکے۔

سرفراز

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنہدف کے تعاقب میں سرفراز کی اوسط 50 جبکہ سٹرائک ریٹ 130 کا ہو جاتا ہے اور آج پھر سے انھوں نے عمدگی سے ہدف کا تعاقب کیا

کوئٹہ کا ہدف کا عمدہ تعاقب

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کو ہدف کا تعاقب کرنا بہت پسند ہے۔ وہ اس ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر ٹاس کے معاملے میں بھی سب سے زیادہ خوش قسمت کپتان ہیں۔ آج بھی انھوں اس ٹورنامنٹ کے باقی تمام کپتانوں کی طرح ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں سرفراز کی اوسط 50 جبکہ سٹرائک ریٹ 130 کا ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے 188 رنز کے تعاقب میں کوئٹہ کے اوپنر جیسن رائے نے جارحانہ آغاز کیا اور دو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے نصف سنچری سکور کی لیکن ان کے ساتھ دینے والے شین واٹسن، احمد شہزاد اور اعظم خان جلد ہی آؤٹ ہو گئے جس کے بعد سرفراز احمد نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

انھوں نے صرف 20 گیندوں پر ایک ایسے موقع پر 33 رنز بنائے جب ایسا لگ رہا تھا کہ شاید میچ کوئٹہ کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔

ان کے آؤٹ ہونے کے بعد محمد نواز اور بین کٹنگ نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کوئٹہ کو فتح دلائی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

بین کٹنگ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا کیونکہ انھوں نے 17 گیندوں پر چار چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 42 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ ایک موقع پر جب آخری چار گیندوں پر 10 رنز درکار تھے انھوں نے عماد بٹ کو دو چھکے مار کر کوئٹہ کی جیت یقینی بنائی۔