مانسی جوشی: ایک حادثہ جس نے عالمی چیمپیئن کو جنم دیا

    • مصنف, عائشہ پریرا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، حیدر آباد

مانسی جوشی نے ابھی بطور سافٹ ویئر انجینیئر اپنے کریئر کا آغاز ہی کیا تھا کہ ایک سڑک حادثے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اس حادثے میں ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی۔ لیکن اس حادثے کو پیچھے چھوڑ انھوں نے اپنی زندگی کو حیران کن انداز میں تبدیل کر ڈالا۔

گیارہ دسمبر 2011 بائیس سالہ مانسی کے لیے عام صبح تھی۔ وہ تعلیم ختم کرنے کے بعد ممبئی میں اپنی پہلی نوکری کر رہی تھیں۔ ان کا دفتر گھر سے محض سات کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ وہ ہر روز موٹر بائیک پر دفتر جایا کرتی تھیں۔

لیکن اس صبح وہ گھر سے دس منٹ دور ہی پہنچی تھیں کہ ایک ٹرک سے ان کی ٹکر ہو گئی اور ٹرک ان کی ٹانگ کے اوپر سے گزر گیا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ ’میں اس وقت بھی ہوش میں تھی۔ میں کسی طرح اٹھ کر بیٹھی اور سر پر سے ہیلمٹ اتارا۔ مجھے اسی وقت پتہ چل چکا تھا کہ مجھے غیر معمولی چوٹ آئی تھی۔‘

لوگ مدد کرنے دوڑے، لیکن کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کرنا کیا ہے۔

مانسی نے کہا کہ ’انڈین لوگ مدد کے لیے فوری طور پر آگے آتے ہیں لیکن ایسی صورت حال میں انھیں اکثر پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا کریں۔‘

بہت دیر ایمبولینس کا انتظار کرنے کے بعد آخر کار پولیس والوں نے انھیں اٹھا کر سٹریچر پر لٹایا اور نزدیک ہسپتال لے گئے۔

ان کی بائیں ٹانگ پوری طرح کچلی جا چکی تھی۔ اس ہسپتال میں کوئی سرجن نہیں تھا، نہ ہی کوئی ایمبولینس جو انھیں بڑے ہسپتال لے جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت میں بہت مایوس محسوس کر رہی تھی۔ بہت خون بہہ چکا تھا اور وقت گزرتا جا رہا تھا۔‘

دو گھنٹے بعد ایک ایمبولینس آئی جو کسی عام وین جیسی تھی۔ اس وین میں انھیں 10-12 کلومیٹر دور جانا تھا، راستے کے ہر گڑھے سے لگنے والا دھچکہ ان کی تکلیف میں اضافہ کر رہا تھا۔

اس شام ساڑھے سات بجے کے قریب انھیں صحیح طبی امداد مل سکی۔ تب تک حادثے کو نو گھنٹے گزر چکے تھے۔

ڈاکٹر ان کی ٹانگ بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے بعد وہ 45 دنوں تک ہسپتال میں ہی رہیں۔ ہر پانچ سے دس دن میں ان کی ایک سرجری ہوتی تھی۔ لیکن آخر کار طبی ٹیم نے ہتھیار ڈال دیے۔ ان کی ٹانگ کاٹنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔

حادثے سے قبل زندگی

جب مانسی بڑی ہو رہی تھیں تو انھیں یہی بتایا گیا تھا کہ زندگی میں تعلیم کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ ان کے والد انڈیا میں سائنسی تحقیق کے مقبول سرکاری ادارے میں سائنسدان کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس ماحول کے باعث مانسی نے بھی سافٹ ویئر انجینیئر بننے کے لیے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی۔

لیکن پڑھائی کے ساتھ مانسی سکول میں دوسرے کاموں میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ جیسے کھیل کود۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں بہت سے کھیل کھیلتی تھی جیسے فٹبال، باسکٹ بال اور والی بال۔ صرف سپورٹس نہیں، میں گانے اور آرٹ میں بھی حصہ لیتی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ ہر میدان میں عمدہ ہو۔‘

لیکن مانسی کو سب سے زیادی بیڈمنٹن پسند تھا۔ مانسی کے والد ان کے پہلے کوچ تھے۔ جب وہ چھ برس کی تھیں تو ان کے والد نے ہی انھیں سکھایا تھا کہ ریکیٹ کس طرح پکڑتے ہیں اور شٹل کو کس طرح مارتے ہیں۔

اس حادثے کے بعد مانسی نے دوبارہ کھیلنا شروع کیا۔

حادثے کے بعد زندگی

اگست 2019 میں سوئٹزرلینڈ کے بازیل شہر میں مانسی نے تاریخ لکھ ڈالی۔

حادثے کے بعد کے آٹھ برس تک انھوں نے پیرا بیڈمنٹن کے کھیل میں خوب محنت کی۔ وہ انڈیا کی قومی ٹیم کے لیے کھیلنے لگیں اور بازیل میں وہ عالمی چیمپیئن شپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی تھیں۔

ان کا مقابلہ انڈیا کی ہی سابق عالمی چیمپین پارول پارما سے تھا۔ مانسی نے اس سے قبل ان کے ساتھ کسی میچ میں فتح حاصل نہیں کی تھی۔ لیکن اس بار وہ بلند حوصلے کے ساتھ میدان میں اتریں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں بہت فٹ تھی، کورٹ پر میری رفتار بہت تیز تھی، میرا ہاتھ، سٹروک، سبھی کچھ شاندار تھا۔‘

میچ آگے بڑھنے کے ساتھ مانسی پارما سے آگے نکلنے لگیں۔ آخری سیٹ میں انھوں نے مسلسل تیرہ پوائنٹ حاصل کیے۔ میچ کے دوران ہی محسوس ہونے لگا تھا کہ آپ نئی عالمی چیمپیئن کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

لیکن ٹانگ ضائع ہونے سے لے کر عالمی چیمپیئن بننے تک کا یہ سفر انھوں نے طے کیسے کیا؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ آج جب وہ اس حادثے کے بارے میں بات کرتی ہیں تو ان میں تلخی نہیں ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح ان کے کالج اور دفتر کے ساتھیوں کی موجودگی نے ان کے ہسپتال کو خوش حال جگہ میں تبدیل کر دیا تھا۔ ہسپتال کی نرسوں اور ڈاکٹروں سے ان کی دوستی ہو گئی تھی۔

انھوں نے بتایا ’یقین مانیے کسی لمحے مجھے ایسا نہیں لگا کہ میرے ساتھ کچھ بہت برا ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ برا تب لگا جب میں گھر پہنچی اور میں نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ تب محسوس ہوا کہ یہ تو بہت برا ہوا ہے۔ پھر چند روز بعد میں نے سوچا، کوئی بات نہیں، ایک ٹانگ ہی تو گئی ہے۔‘

مصنوعی ٹانگ کی مدد سے چلنے کی کوششوں کے دوران بیڈمنٹن کھیلنا دوبارہ شروع ہوا۔ لیکن اس دوران انھوں نے غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ایک دن ایک پیرا بیڈمنٹن کھلاڑی کی ان پر نظر پڑی جنھوں نے مانسی کو ایک مکمل جسامت والے کھلاڑی کو میچ میں شکست دیتے دیکھا۔ انھوں نے مانسی کو انڈین ٹیم کے لیے کھیلنے کا مشورہ دیا۔

اور اس طرح مانسی ایک ٹورنامینٹ میں کھیلنے سپین پہنچیں۔

وہ سپین میں جیت نہ سکیں لیکن انھیں یہ یقین ہو گیا کہ بیڈمنٹن کی مدد سے وہ اپنی زندگی بدل سکتی ہیں۔

وہاں انھوں نے دیکھا کہ چند ان سے زیادہ بری طرح معذور کھلاڑی زبردست کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

مانسی نے بتایا کہ ان میں سے چند کھلاڑی خود ان کے پاس آئے اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ مانسی کے بقول ’اس وقت میں نے طے کیا کہ میں اب کسی مقصد کی طرح کھیلوں گی۔‘

اسی دوران ان کی ملاقات بیڈمنٹن کوچ پولیلا گوپی چند سے ہوئی جنھوں نے ان کے کریئر کا رخ تبدیل کر دیا۔ انڈیا کی عالمی سطح پر حال میں شاندار نمائندگی کا سہرا سابق عالمی چیمپیئن پولیلا گوپی چند کے سر جاتا ہے۔ وہ انڈیا کی عالمی چیمپیئن پی وی سندھو اور سائنا نہوال کے بھی کوچ ہیں۔

ان دنوں مانسی احمد آباد کے ویسٹرن سٹی بینک میں کام کر رہی تھیں جب گوپی چند وہاں آئے۔ مانسی سیدھا ان کے پاس گئیں اور پوچھا کہ کیا وہ ان کی تربیت کریں گے۔

گوپی چند نے اس لمحے کے بارے میں مسکراتے ہوئے بتایا ’وہ مجھےایک بہادر لڑکی لگی۔ اس کی کہانی متاثر کن تھی۔ میں نے کہا دیکھتے ہیں۔‘

لیکن پیرا ایتھلیٹ کی ٹریننگ آسان نہیں تھی۔ گوپی چند نے ان کے میچوں کی ویڈیوز دیکھیں اورخود بھی ایک ٹانگ سے لڑکھڑاتے ہوئے کھیلنے کی کوشش کی تاکہ سمجھ سکیں کہ یہ کھیل مانسی کے لیے کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ پھر اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر انھوں نے مانسی کی ٹریننگ کا پلان تیار کیا۔

گوپی چند کے بقول مانسی ایک بہت فوکسڈ کھلاڑی ہیں اور ان کی اسی خوبی نے ان کے عالمی چیمپیئن بننے میں بڑا کردار ادا کیا۔

جب حیدر آباد میں میری ملاقات مانسی سے ہوئی، ان کی ٹریننگ چل رہی تھی۔

انھیں کھیلتے دیکھ مجھے احساس ہوا کہ میں صرف ایک ایسی کھلاڑی کو نہیں دیکھ رہی ہوں جو مصنوعی ٹانگ کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ وہ مشکل سے مشکل شاٹس کو جس جذبے کے ساتھ کھیل رہی تھیں وہ قابل تعریف ہے۔

یہ بھی واضح ہے کہ بازیل میں مانسی کو ملنے والی جیت نے انھیں کسی سیلیبریٹی کی حیثیت میں پہنچا دیا ہے۔

وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’سب کچھ بدل گیا ہے۔ سڑک پر نکلوں تو لوگ مجھے پہچان جاتے ہیں۔‘

میں ان کے ساتھ ان کے گھر پہنچی۔ اپارٹمنٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک نوجوان نے پاس آ کر موٹر سائکل روک دی اور مانسی سے سیلفی کے لیے پوچھا۔

انھوں نے مجھے ہاتھ سے بنایا ہوا ایک پوسٹر دکھایا جو ان کے بیڈ روم کے دروازے پر لگا تھا۔ اس پر بیڈمنٹن کا ریکیٹ اور شٹل کاک بنی تھی اور لکھا تھا ’مانسی جوشی آنٹی مبارک باد‘.

مانسی نے بتایا کہ ’میرے گھر واپس آنے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر یہ بات پھیل چکی تھی۔ بلڈنگ کے بچوں نے یہ پوسٹر بنایا اور میرے دروازے کے باہر لگا دیا۔ میں گھر پر نہیں تھی اس لیے میرے فلیٹ میں ساتھ رہنے والوں نے اسے نکال کر میرے بیڈ روم کے دروازے پر لگا دیا۔‘

۔