گھر میں سوئمنگ کی کوئی بات نہیں ہوتی، کرن خان

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی تیراک کرن خان کو کم عمری میں پانی سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن جب وہ سوئمنگ پول کے کنارے کھلونوں سے کھیلتے ہوئے والد اور بڑے بھائی کو تیراکی کرتے دیکھتی تھیں تو انھیں تیراکی بھانے لگی اور آج وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کامیاب ترین تیراک کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔

کرن خان کے علاوہ ان کے بھائی شہباز اور بہن بسمہ بھی قومی تیراک ہیں جنھوں نے گذشتہ دنوں پشاور میں ہونے والے نیشنل گیمز میں گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔

ان کھیلوں میں کرن خان کی کارکردگی شاندار رہی اور انھوں نے اپنے وسیع تجربے کے بل پر دس گولڈ میڈلز جیتے۔

کرن خان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھیں نیشنل گیمز میں شرکت کر کے اس لیے بھی خوشی ہوئی کہ یہ کافی عرصے کے بعد ہوئے تھے۔

نیشنل گیمز دراصل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں ملک بھر کے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے اور انہی کھیلوں میں جو کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

چھوٹی بہن میں بڑا ٹیلنٹ ہے

کرن خان اپنی چھوٹی بہن بسمہ خان کی صلاحیتوں کی معترف ہیں اور انھیں انتہائی باصلاحیت تیراک قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوئمنگ کی عالمی فیڈریشن نے بسمہ کو سکالرشپ دی ہوئی ہے اور اسی بنیاد پر وہ سخت ٹریننگ کر رہی ہیں۔

کرن خان کا کہنا ہے کہ تینوں بہن بھائی مختلف کیٹگریز میں سوئمنگ کر رہے ہیں لہذا ایک دوسرے سے مقابلے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گھر میں بھی سوئمنگ کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ سوئمنگ ہماری ٹریننگ اور مقابلوں تک محدود ہے لیکن اس بات کی خوشی ضرور ہے کہ ہم بہن بھائیوں نے قومی سطح پر اپنی اہمیت منوائی ہے۔

’گھر میں میڈلز اور ٹرافیاں سجی ہوئی ہیں جنھیں دیکھ کر مزید کامیابیوں کا حوصلہ ملتا ہے لیکن کبھی ان میڈلز کو گننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ کتنے ہو چکے ہیں۔‘

سوئمنگ کا معیار

کرن خان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سوئمنگ کا معیار بہت بہتر ہوا ہے۔ بہت سی نئی لڑکیاں آئی ہیں جن میں بیشتر پاکستان سے باہر جا کر ٹریننگ کر رہی ہیں کیونکہ وہ پاکستان کے لیے میڈلز جیتنا چاہتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے تیراک اس لیے ہم سے بہتر ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ ٹریننگ کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں سوئمنگ کا اس طرح کا ڈھانچہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے معاشرے میں لڑکے اور لڑکیوں کا اکٹھے سوئمنگ کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔کچھ لڑکیاں مرد کوچز کے ساتھ ٹریننگ کرنے سے گھبراتی ہیں۔ ہمارے یہاں جب کوئی لڑکی سوئمنگ کرنے نکلتی ہے تو اسے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سوئمنگ میں صرف آپ کے ادارے آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں حکومت کی طرف سے کوئی سپورٹ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سوئمنگ ایک ایسا کھیل ہے جو جتنی کم عمری میں شروع ہو اچھا ہے۔

’پاکستان میں سوئمنگ کے معیار میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور ہمارے نوجوان تیراک جنوبی ایشیائی اور ایشیائی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں کوالیفائنگ ٹائمنگ تک پہنچ گئے ہیں لیکن اس میں اہم کردار ان تیراکوں کے والدین کی اپنی کوششوں کا ہے۔‘

کریئر میں پیش آنے والی مشکلات

کرن خان سنہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس سمیت کئی بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

ان کی شاندار کارکردگی پر حکومت نے انھیں سنہ 2012 میں تمغۂ امتیاز بھی دیا تھا لیکن کرن خان کو اس بات کی شکایت رہی ہے کہ انھیں اپنے کریئر کے دوران ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے اور میرٹ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔

کرن خان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں پسند ناپسند پر سلیکشن ہوتی ہے لیکن آپ اس سے نہیں لڑسکتے کیونکہ اس میں آپ کا اپنا ہی نقصان ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اس کا یہی حل ہے کہ آپ ہر وقت خود کو اہل ثابت کرتے رہیں اور دنیا کو یہ دکھاتے رہیں کہ آپ کی کارکردگی سب سے اچھی ہے۔ یہ بات اس وقت عیاں ہو جاتی ہے جب آپ کو نظرانداز کر کے کسی دوسرے کو بین الاقوامی مقابلے میں لے جایا جائے اور اس کی ٹائمنگ آپ سے کم ریکارڈ ہو تو پھر دنیا کو پتا چل جاتا ہے کہ آپ اچھے ہیں۔‘