انڈیا اور پاکستان کا ڈیوس کپ مقابلہ قزاقستان منتقل، اعصام الحق کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ڈیوس کپ کے سلسلے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان مقابلہ قزاقستان منتقل کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

یہ مقابلہ اس سال ستمبر میں اسلام آباد میں منعقد ہونا تھا جسے نومبر تک ملتوی کر دیا گیا تھا لیکن اس ماہ کے پہلے ہفتے میں انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے یہ مقابلہ پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر پاکستان ٹینس فیڈریشن نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔

19 نومبر کو اس اپیل پر انٹرنیشنل انڈیپنڈنٹ ٹریبونل (آئی آئی ٹی) نے فیصلہ سناتے ہوئے مقابلہ 29 اور 30 نومبر کو قزاقستان میں منعقد کروانے کا اعلان کیا۔

آئی ٹی ایف کے اس فیصلے کے بعد پاکستانی ٹیم کے اہم رکن اعصام الحق کی ان مقابلوں میں شرکت کے امکانات مشکوک ہو گئے ہیں جو یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ڈیوس کپ ٹینس مقابلہ پاکستان سے کہیں اور منتقل کیا گیا تو وہ احتجاجاً اس میں حصہ نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

اعصام الحق نے پیر کو پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سلیم سیف اللہ کو بھیجے گئے خط میں لکھا تھا کہ ’یہ جان کر بہت دکھ ہوا ہے کہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن مبینہ طور پر انڈیا کے دباؤ میں آ کر مسلسل اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ ڈیوس کپ کا مقابلہ پاکستان سے باہر منعقد ہو۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ سراسر نا انصافی ہے لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر یہ مقابلہ پاکستان سے باہر ہوا تو وہ بطور احتجاج اس میں حصہ نہیں لیں گے۔‘

بعد ازاں اعصام الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ڈیوس کپ کا یہ مقابلہ کسی دوسرے ملک منتقل ہوتا ہے تو یہ فیصلہ جانبداری پر مبنی ہو گا۔ پاکستان کے ساتھ نامناسب سلوک روا رکھا جارہا ہے۔‘

اعصام الحق کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹینس ٹیم کا پاکستان نہ آنا ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کرتارپور راہداری سے روزانہ بڑی تعداد میں بھارتی آرہے ہیں، بھارتی ٹینس فیڈریشن کس بنیاد پر یہ کہتی ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔‘

اعصام الحق نے کہا کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیل کر گئی ہے اور اب وہ آئندہ ماہ دوبارہ ٹیسٹ سیریز کھیلنے آنے والی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی پاکستان کا دورہ کیا ہے اور پشاور میں نیشنل گیمز کا انعقاد خوش اسلوبی سے ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’سب سے اہم بات برطانوی شہزادے اور شہزادی کا پاکستان کا دورہ ہے جس نے دنیا بھر میں یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستان کی نمائندگی پر فخر ہے لیکن ان کا ڈیوس کپ نہ کھیلنے کا فیصلہ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ وہ غلط کر رہی ہے۔

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ ماضی میں وہ بھارتی کھلاڑی کے ساتھ کھیلے تو ان پر کافی اعتراض کیا گیا اور جب وہ اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ کھیلے تو پورا ملک ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’کھیل کو سیاست اور مذہب سے الگ رکھا جائے اور اب بھی وہ یہی سمجھتے ہیں۔'

اعصام الحق نے کہا کہ ’وہ کھیلیں یا نہیں کھیلیں لیکن اس مقابلے کا پاکستان سے باہر منعقد ہونا پاکستان کی شکست ہو گی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھارت کی طاقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘