ڈیوس کپ کی میزبانی دنیا کے لیے مثبت پیغام ہے: اعصام الحق

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ٹینس کھلاڑی اعصام الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیوس کپ مقابلے کے انعقاد سے دنیا کو ایک مثبت پیغام جائے گا کہ وہ ایک امن پسند اور محفوظ ملک ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ڈیوس کپ مقابلہ جمعے کے روز سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے۔

12 سال کے طویل عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان ٹینس کے اس بین الاقوامی مقابلے کی میزبانی کررہا ہے۔

ایران نے سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان آ کر یہ ایونٹ کھیلنے سے انکار کردیا تھا لیکن انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے سکیورٹی کی صورتحال کو اطمینان بخش قرار دے کر یہ مقابلہ پاکستان میں ہی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعصام الحق پاکستان کی اس چار رکنی ٹیم کا حصہ ہیں جو اس تین روزہ مقابلے میں ایران کا مقابلہ کرنے والی ہے۔

اعصام الحق نے بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پاکستان کی ٹینس ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پاکستان کی سپورٹس کے لیے بھی اہم موقع ہے۔ اس مقابلے کے لیے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کے میچ آفیشلز بھی پاکستان آرہے ہیں۔ جب تمام کھلاڑی اور آفیشلز واپس جائیں گے تو یقینی طور پر پاکستان کی روایتی میزبانی اور سکیورٹی کے بارے میں دنیا کو مثبت باتیں بتا سکیں گے جس سے پاکستان میں مستقبل قریب میں مزید بین الاقوامی مقابلوں کی راہ کھلے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیوس کپ کی میزبانی کسی طور بھی آسان نہیں تھی اس سلسلے میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے بھی ذاتی حیثیت میں کوشش کی اور انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کو قائل کرتے رہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی سے زیادہ دیر محروم نہ رکھا جائے۔ انھیں خوشی ہے کہ آج پاکستان اس ایونٹ کی میزبانی کررہا ہے۔

اعصام الحق نے کہا کہ 12 سال کے طویل عرصے کے بعد اپنے ملک میں دوبارہ کھیلنے پر وہ بہت زیادہ خوش اور پرجوش ہیں۔ انھیں اس بات کا دکھ تھا کہ جب سے انھیں بین الاقوامی سطح پر عمدہ کارکردگی کی بنا پر پذیرائی ملی وہ اپنے ملک میں اپنا کھیل دکھانے سے محروم تھے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی ٹینس نہ ہونے کا نقصان نوجوان کھلاڑیوں کو ہوا ہے اور ان کے شوق میں فرق پڑا ہے، اس کے علاوہ ملک میں مقابلے نہ ہونے کے اثرات سپانسرشپ کی کمی کی صورت میں بھی سامنے آئے ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ ڈیوس کپ ٹائی کے بعد مثبت تبدیلی آئے گی اور نوجوان کھلاڑیوں میں دوبارہ شوق پیدا ہو گا اور سپانسرز بھی سامنے آئیں گے۔