حارث رؤف اور انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکیورٹی گارڈ کے درمیان مکالمہ: ’یہ گیند بہت قیمتی ہے، اسے سنبھال کر رکھنا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
حارث رؤف کے لیے یہ ویسے بھی ایک بڑا دن تھا۔ پہلے میچ میں عمدہ بولنگ کے بعد آسٹریلیا کے ایک نمایاں جریدے نے انھیں اپنے سرورق پر فیچر کیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ انھوں نے ڈیل سٹین کی کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی۔
ایسے میں ان کی ملاقات انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سکیورٹی گارڈ سے ہوئی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حارث کا کہنا تھا: ’سٹیڈیم میں داخل ہوتے وقت ایک سکیورٹی گارڈ نے مجھ سے کہا کہ میچ کے بعد آپ مجھ سے ضرور ملنا، میں آپ کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو ابھی گلے لگا لیتا ہوں۔‘
حارث بتاتے ہیں کہ جب وہ اس سکیورٹی گارڈ سے بغل گیر ہوئے تو گارڈ آبدیدہ ہو گئے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے سوچا یہ شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے صرف یہی کہا کہ مجھے آپ سے گلے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے۔‘
یہ وہ لمحہ تھا جب حارث نے دل ہی دل میں دعا کی اگر انھیں میچ میں پانچ وکٹیں حاصل ہو جاتی ہیں تو وہ اس سکیورٹی گارڈ کو یہ گیند بطور تحفہ دیں گے کیونکہ وہ اسے ’چھوٹی سی خوشی دینا چاہتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے حارث رؤف جو پہلی مرتبہ لاہور قلندرز کے ٹرائلز کے دوران منظرِ عام پر آئے تھے آج کل آسٹریلیا میں بگ بیش ٹی ٹوئنٹی لیگ کی فرنچائز میلبرن سٹارز کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے حارث رؤف لاہور قلندرز کے تعاون سے آسٹریلیا میں کلب کرکٹ کھیل رہے تھے جب اچانک میلبرن سٹارز نے انھیں ڈیل سٹین کے متبادل کے طور پر منتخب کر لیا۔
اتوار کے روز جب حارث میدان میں اترے، تو انھوں نے وقار یونس کی یارکرز کی یاد تازہ کر دی اور ہوبارٹ ہریکینز کے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ اپنی اس کارکردگی پر وہ مین آف دی میچ قرار پائے۔

،تصویر کا ذریعہ@BBL
میچ کے بعد حارث نے وہ گیند اس سکیورٹی گارڈ کو دی تو وہ ایک مرتبہ پھر جذباتی ہو گئے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے اس سے صرف یہ کہا کہ یہ بہت اہم گیند ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔‘
’اللہ نے میری دعا قبول کر لی، آپ ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں تو ان کی دعائیں آپ کو ضرور لگتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیپ بال سے بگ بیش تک کا سفر
لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ افسر ثمین رانا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حارث رؤف اور دیگر کرکٹرز کو سامنے لانے کا سہرا کوچ عاقب جاوید کے سر ہے جنھوں نے ان تمام کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پرکھا۔
جب حارث رؤف ڈھائی سال قبل گوجرانوالہ میں رائزنگ اسٹارز پروگرام کے ٹرائلز دینے آئے تھے تو اس وقت تک انھوں نے اپنی تمام تر کرکٹ ٹیپ بال سے ہی کھیلی تھی۔
وہ راولپنڈی میں پارٹ ٹائم سیلز مین تھے اور کرکٹ کا شوق انھیں گوجرانوالہ لے گیا تھا جہاں عاقب جاوید نے ان میں چھپا ہوا ٹیلنٹ دیکھ لیا اور انہی کے کہنے پر حارث رؤف سے 10 سال کا معاہدہ کیا گیا تھا۔
انھیں آسٹریلیا بھیجا جاتا رہا جہاں انھوں نے مقامی کلب کی طرف سے میچز کھیلے اس دوران انھیں آسٹریلیا کا دورہ کرنے والی بھارتی ٹیم کی نیٹ پریکٹس میں بھی بولنگ کا موقع ملا تھا جہاں انھوں نے وراٹ کوہلی کو بھی بولنگ کی تھی۔
آہستہ آہستہ ان کی بولنگ میں پختگی آتی گئی اور ابوظہبی کے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں انھوں نے تیز رفتار بولنگ کر کے سب کو حیران کردیا تھا۔
ثمین رانا کا کہنا ہے کہ انھوں نے حارث رؤف کو سی پی ایل اور یورپی لیگ میں بھی موقع دلانے کی کوشش کی لیکن وہ لوگ غیر معروف بولر کو کھلانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم وہ بگ بیش میں میلبرن کی ٹیموں کے جنرل مینیجر نِک کمنز کے شکرگزار ہیں جنھوں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے حارث رؤف کو ٹرائلز میں موقع دیا۔
حارث رؤف کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی ان کا دیرینہ خواب ہے۔ اس وقت پاکستانی ٹیم میں تیز رفتار بولرز نظر آ رہے ہیں جن میں نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، محمد حسنین اور محمد موسیٰ شامل ہیں۔
اگر انھیں موقع ملا تو وہ بھی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔














