ثنا میر: کھلاڑی کھیل سے دوری کیوں اختیار کرتے ہیں؟

ثنا میر

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنثنا میر نے کرکٹ کا آغاز سنہ 2005 میں 19 برس کی عمر میں کیا تھا اور 2009 میں انھیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا تھا

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان اور آل راؤنڈر ثنا میر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان بدھ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ثنا میر کی اس ’بریک‘ کی مدت کیا ہو گی تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ وہ آئی سی سی کی ویمن چیمپیئن شپ کے میچوں اور دورۂ انگلینڈ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گی۔

اس بیان میں ثنا میر کی جانب سے اس فیصلے کی واضح وجوہات بھی بیان نہیں کی گئیں تاہم اس کے مطابق ثنا میر نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ سے لیے گئے وقفے کے دوران انھیں ایک مرتبہ پھر مستقبل کے لیے اہداف ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ثنا میر کے کرئیر پر ایک نظر

ثنا میر نے کرکٹ کا آغاز سنہ 2005 میں 19 برس کی عمر میں کیا تھا اور 2009 میں انھیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا تھا۔

وہ گذشتہ برس آئی سی سی کی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بولر بنی تھیں۔

33 سالہ ثنا میر پاکستان کی ویمن کرکٹ کی تاریخ کی پہلی کهلاڑی ہیں جنھیں 100 ایک روزہ انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔

ثنا میر انٹرنیشنل کرکٹ سے وقتی دوری اختیار کرنے والی پہلی کرکٹر نہیں۔ ان سے پہلے کئی کھلاڑی مختلف وجوہات کی بنا کر ایسا کر چکے ہیں۔

خواتین کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو انگلش کرکٹ ٹیم کی 30 سالہ وکٹ کیپر سارہ ٹیلر کا نام سامنے آتا ہے جنھوں نے 2016 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے دوری اختیار کرنے کے بعد رواں برس کھیل کو مکمل طور پر چھوڑنے اور ریٹائرمنٹ لینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی کپتان ایمی سیٹرویتھ نے بھی اگست میں وقتی طور پر کرکٹ کی دنیا چھوڑنے کا اعلان کیا تاہم اس کی وجہ ان کا حاملہ ہونا ہے۔

ثنا میر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دباؤ کی وجہ سے ’کھیل سے وقتی دوری‘ ضروری

خواتین کے علاوہ عالمی کرکٹ ٹیموں کے کئی مرد کھلاڑی بھی کھیل کے دباؤ کی وجہ سے اس سے وقتی دوری اختیار کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہی آسٹریلیا کے آل راؤنڈر گلین میکسویل نے اعلان کیا کہ وہ ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے کرکٹ سے غیر معینہ مدت کے لیے بریک لے رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے کھلاڑی کھیل سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں؟

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرِ نفسیات میکس بابری کا کہنا ہے ’زندگی میں ہر انسان کو اپنے آپ کو دوبارہ سے تازہ دم کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے کھلاڑی شدید دباؤ میں کام کر رہے ہوتے ہیں: ذہنی دباؤ، اضطراب اور بےچینی بہت بڑھ جاتا ہے اور اس سے ان کی نجی زندگی بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کسی قسم کا وقفہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے ثنا میر کیوں بریک لے رہی ہیں لیکن ان کے خیال میں ثنا کی بریک کے پیچھے بھی ایسی ہی کوئی وجہ ہو گی۔

میکس نے پاکستان کی وویمن ٹیم کے ساتھ سائیکوتھیراپسٹ کے طور پر کام کیا ہوا ہے اور انھیں احساس ہے کہ ہماری لڑکیوں کی ٹیم بہت دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ ’ خاندان کی طرف سے بھی دباؤ ہے، معاشرے کی طرف سے بھی دباؤ ہے اور ان سے اچھا کھیلنے کی امید بھی کی جاتی ہے۔ یہ دباؤ اس لیے بھی بڑھتا ہے کیونکہ سپورٹ سسٹم کوئی نہیں ہے۔‘

ثنا میر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے خیال میں پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم کے ساتھ کوئی بھی سائیکالوجسٹ نہیں ہے، ’کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو ان کی کائونسلنگ کر سکے یا ان کی بات سن سکے۔ وہ شخص ایسا ہونا چاہیے جو ان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کرے، ان پر تنقید نہ کرے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرے۔‘

میکس کہتے ہیں یہ سب کوچ کی ذمہ داریوں میں بھی آتا ہے لیکن کوچ میچ جیتنے کے دباؤ میں ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کے دباؤ کے متعلق وہ کہتے ہیں ’کارکردگی کے ساتھ ساتھ خاندان سے دور رہنے کا دباؤ بھی کھلاڑیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ٹیم لیڈر شپ دباؤ ڈالتی ہے، جیتنے کا دباؤ ہوتا ہے، سلیکشن کا دباؤ ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’ہم نے سنا ہے اب لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک جتنے پیسے ملیں گے، اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو اس کا بھی دباؤ ہے۔ کیونکہ ایک بار اگر آپ اچھے پیسے کمانے شروع کر دیں تو یہ بھی دباؤ ہوتا ہے کہ پتا نہیں اگلے میچ میں، میں ٹیم کا حصہ ہوں گی یا نہیں۔‘

اس طرح کے دباؤ سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

میکس کہتے ہیں بریک بھی ضروری ہے ’لیکن اگر کھلاڑیوں کے ساتھ مستقل بنیاد پر کوئی کونسلر، تھیراپسٹ، کوئی سننے والا، دلاسہ، شاباش دینے والا یا کوئی حوصلہ افزائی کرنے والا ہو تو دباؤ جھیلنا تھوڑا آسان ہو جاتا ہے۔‘

’ٹیم مینیجمنٹ کا کام تو دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔ انھوں نے تو کہنا ہے آپ کی کارکردگی ایسی نہیں ایسی ہونی چاہیے۔ ثنا میر پہلے کپتان کے عہدے سے سبکدوش ہوئیں کیونکہ ان پر دباؤ بہت تھا۔ اب وہ کہہ رہی ہیں میں نے بریک لینی ہے تو ظاہر ہے ان پر دباؤ میں اور اضافہ ہوا ہے۔‘

میکس کہتے ہیں بریک لینے میں کوئی برائی نہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ ٹیم کے ساتھ کوئی تھیراپسٹ ہو۔ ’دباؤ اسی لیے ہوتا ہے کہ شاباش کم مل رہی ہے اور تنقید زیادہ کی جا رہی ہے۔‘