پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: 21ویں صدی میں پہلی مرتبہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے پاکستان آخر کیا کرے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
21ویں صدی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کی سرزمین پر کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیتا۔ اس لیے اگر آپ نے بدھ کو شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی امیدیں باندھ رکھی ہیں تو یہ جملہ دوبارہ پڑھ لیں۔
مجموعی طور پر آسٹریلیا کی سرزمین پر دونوں ٹیموں کے درمیان 35 میچ کھیلے گئے جن میں سے آسٹریلیا نے 24 جبکہ پاکستان نے صرف چار ٹیسٹ میچ جیتے ہیں۔
یہ جنوبی افریقہ کے بعد 10 سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی سرزمین پر پاکستان کی سب سے بری کارکردگی ہے۔
24 برس قبل سنہ 1995 میں اس شکست کے بعد سے آسٹریلیا نے پاکستان کو اپنی سرزمین پر لگاتار 12 ٹیسٹ میچوں میں شکست دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پریشان کر دینے والے ماضی کے باوجود پاکستان کو آسٹریلیا میں اس صدی میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ آئیے جانتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماضی قریب کے دورے کیا بتاتے ہیں؟
پاکستان نے پچھلی دہائی میں آسٹریلیا کے دو دورے کیے ہیں، اور دونوں میں ہی اسے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن یہ اعداد و شمار اپنے اندر ان دو ٹیسٹ میچوں کی کہانی چھپائے بیٹھے ہیں جنھیں جیتنے کے انمول مواقع پاکستان نے کھو دیے۔
سنہ 2010 کے سڈنی ٹیسٹ میں شکست پاکستانی شائقین کے دلوں میں وہ زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر سکے۔
اس ٹیسٹ میچ میں حسب معمول بیٹنگ اور فیلڈنگ نے اہم موقعوں پر پاکستان کا ساتھ چھوڑ دیا اور جہاں پاکستان 176 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں صرف 139 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
برسبین ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو پہلی اننگز میں ڈھیر ہونا لے ڈوبا لیکن دوسری اننگز میں پاکستان کے اسد شفیق اور دیگر بلے بازوں کی عمدہ بلے بازی کی بدولت پاکستان ایک معجزانہ فتح انتہائی قریب لے آیا۔ پاکستان نے یہ میچ 39 رنز سے ہارا۔
ان دونوں میچوں سے اگر کوئی سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ یہ کہ بلے بازوں کو ذمہ داری اٹھانی پڑے گی، اور فیلڈنگ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی بھاری پڑ سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سٹیو سمتھ کو یاسر شاہ کے جال میں پھنسائیں
ٹیسٹ کرکٹ میں مایہ ناز بلے باز سٹیو سمتھ پاکستانی لیگ سپنر یاسر شاہ کا پہلا شکار تھے۔ وہ پاکستانی لیگ سپنر کے سامنے وہ صرف 31 کی اوسط سے رنز بنا سکے ہیں اور ان سے اب تک چھ مرتبہ آؤٹ ہو چکے ہیں۔
یہ بات بتانے کے بعد ذرا ٹیسٹ کرکٹ میں سٹیو سمتھ کے اعداد و شمار پر نظر دوڑا لیتے ہیں تاکہ یہ بات بتانے کا مقصد سمجھ آ سکے۔
68 ٹیسٹ میچوں میں 64 اعشاریہ 54 کی اوسط سے 6973 رنز، 26 سنچریاں اور 27 نصف سنچریاں اور ایک برس کی پابندی کے بعد سے کھیلے جانے والے چار میچوں میں 110 کی اوسط۔ یقیناً یہ سب پڑھ کر انھیں آؤٹ کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔
سمتھ کی تیز گیند بازوں کے خلاف بیٹنگ اوسط 75 جبکہ سپنرز کے خلاف 45 کے لگ بھگ ہے۔
حالیہ ایشز سیریز میں انھیں آؤٹ کرنے کے لیے ہی انگینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں لیفٹ آرم آف سپنر جیک لیچ کو ٹیم میں شامل کیا تھا۔
کرکٹ پر تحقیق اور تجزیے کرنے والی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق لیگ سپنرز اور لیفٹ آرم آف سپنرز کے سامنے سمتھ کی اوسط گر کر 35 ہو جاتی ہے۔
ساتھ ہی برسبن کی وکٹ اپنے باونس کے باعث لیگ سپنرز کے لیے اور ایڈیلیڈ کی وکٹ دن گزرنے کے ساتھ سپنرز کے لیے موزوں ہو جاتی ہے، اس لیے یاسر شاہ کو سٹیو سمتھ کے آتے ہی بولنگ اٹیک میں لانا کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے اظہر علی بطور کپتان کیا کرتے ہیں، یہ بھی بہت اہم ہے اور سمتھ کے خلاف جلد ہی دفاعی حکمت عملی اپنانے کی بجائے ایک مخصوص فیلڈ اور پلان اپنا کر سمتھ کے صبر کا امتحان لینے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اظہر علی اور اسد شفیق کے رنز انتہائی اہم
عام طور پر آسٹریلیا میں پاکستانی بلے بازوں کی اوسط اچھی نہیں ہوتی، لیکن اظہر علی کی آسٹریلیا میں 81 کی اوسط ہے اور انھوں نے آسٹریلیا میں ایک ڈبل سنچری بھی بنا رکھی ہے۔
دوسری جانب اسد شفیق نے سنہ 2016 میں برسبن کے سنسنی خیز ٹیسٹ میچ میں 137 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کو فتح کے دہانے پر لے کھڑا کیا تھا۔
جہاں بطور کپتان اظہر کے رنز کی بہت اہمیت ہے وہیں ٹیسٹ میچوں میں صرف 39 کی اوسط سے رنز بنانے والے 33 سالہ اسد شفیق کے رنز بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسد شفیق کراس بیٹ سے کھیلنا پسند کرتے ہیں جس کے باعث وہ باؤنسی وکٹوں پر عموماً اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی رواں ماہ کھیلے جانے والے دونوں پریکٹس میچوں میں اسد شفیق نے سنچریاں سکور کی ہیں۔
آسٹریلیا کے خلاف سنہ 2016 میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں اظہر علی اور اسد شفیق کی عمدہ کارکردگی کے باعث انھیں مستقبل میں پاکستان کی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جا رہا تھا لیکن مصباح الحق اور یونس خان کے جانے کے بعد سے اظہر کی اوسط 28 جبکہ اسد کی 37 کی اوسط رہی ہے۔
ان دونوں کی خراب فارم ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی پچھلے دو برس کی مایوس کن کارکردگی کی ایک وجہ بھی ہے۔ اس لیے اس سیریز میں ان دونوں کے رنز زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد عباس کی آغاز میں وکٹیں
اس وقت پاکستانی فاسٹ بولر نسیم شاہ کے حوالے سے کافی بات ہو رہی ہے لیکن پاکستان کے ٹیسٹ فاسٹ بولر محمد عباس اس وقت وہ واحد فاسٹ بولر ہیں جن سے آسٹریلوی بلے بازوں کی کچھ اچھی یادیں وابستہ نہیں ہیں۔
مجموعی طور پر عباس نے اب تک صرف 14 میچوں میں 18 اعشاریہ 86 کی اوسط سے 66 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
سنہ 2018 میں متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے خلاف صرف دو میچوں میں انھوں نے دس کی اوسط سے 17 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔
خاص کر ان کی بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف مہارت انھیں آسٹریلوی بیٹنگ کے لیے ایک خطرہ ثابت کر سکتی ہے۔
جہاں نسیم کی رفتار اور شاہین آفریدی کا قد اہم ہے وہیں اس سب میں عباس کا اس نوجوان بولنگ لائن اپ میں مرکزی کردار ہے اور ان کا آغاز میں ہی وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو مشکلات سے دوچار کرنا بہت ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی
پاکستان نے اب تک کھیلے گئے دونوں پریکٹس میچوں میں حارث سہیل کو نمبر تین کی انتہائی اہم پوزیشن پر کھلایا ہے۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پاکستان کے تھنک ٹینک نے محمد افتخار کو بطور آلراؤنڈر ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ان کی حالیہ بیٹنگ فارم کے ساتھ ان کی آف سپن کا کردار بھی ہے۔
تاہم اس وجہ سے اظہر علی ون ڈاؤن پوزیشن کی بجائے بطور اوپنر کھیلیں گے۔ اس وجہ سے بابر اعظم کو نمبر پانچ اور حارث سہیل کو نمبر تین پر کھلایا جا رہا ہے جو دونوں بلے بازوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔
بابر اعظم کی اوسط اس وقت محظ 35 ہے تاہم ایک روزہ میچوں میں ان کی اوسط 54 ہے اور رواں برس کے اوائل میں ان کی جنوبی افریقہ کی سرزمین پر کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ اس لیے انھیں نمبر چار پر کھلایا جائے، بجائے اس کے کہ انھیں پانچویں نمبر پر ضائع کیا جائے۔
اس لیے اسد شفیق کو تین بابر اعظم کو چار اور حارث سہیل کو پانچ پر کھلانے کی ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلیا کے بولرز کو جلدی آؤٹ کریں
یہ بات پڑھنے میں یقیناً مزاحیہ لگے گی لیکن حالیہ ایشز سیریز میں آسٹریلیا کے بولرز کی اچھی بیٹنگ اور پاکستان کی بولرز کو بلے باز بنانے کی روایت اس تجویز کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔
اس تجویز کے لیے اعداد و شمار شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتے جتنی ماضی کی کارکردگیاں۔
گذشتہ برس مچل سٹارک، پیٹ کمنز اور نیتھن لائن کی عمدہ بیٹنگ نے آسٹریلیا کی انڈیا کے خلاف اپنی کمزور بیٹنگ لائن کو سہارا دیے رکھا تھا۔ یہی حال رواں برس کھیلے جانے والی ایشز سیریز میں بھی ہوا۔
اس سے قبل خاص کر آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے میچز میں آسٹریلیا کے بولرز بہترین بلے بازی کے جوہر دکھاتے رہے ہیں۔
ماضی میں ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کے بولرز غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے بولرز کو لمبی بیٹنگ کرنے کا موقع دیتے رہے ہیں۔
اس لیے ان کے خلاف بھی وہی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو مستند بلے بازوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔











