پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو باآسانی سات وکٹوں سے شکست دے دی

سٹیو سمتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسٹیو سمتھ نے ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 51 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز بنا کر آسٹریلیا کی جیت میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا

سٹیو سمتھ کی ناقابل شکست 80 رنز کی جارحانہ اننگز کی بدولت کینبرا میں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو باآسانی سات وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

پاکستان کی جانب سے دیا گیا 151 رنز کا ہدف آسٹریلیا نے تین وکٹوں کے نقصان پر 19ویں اوور میں حاصل کر لیا۔

آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ نے ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 51 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز بنا کر اس جیت میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل پاکستانی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بابر اعظم اور افتخار احمد کی نصف سنچریوں کی بدولت مقررہ 20 اوورز میں 150 رنز بنائے تھے۔

آسٹریلیا کی بلے بازی

ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بلے بازوں کی جانب سے اننگز کا آغاز انتہائی شاندار اور جارحانہ تھا۔

پاکستان کو پہلی کامیابی تیسرے اوور کی آخری گیند پر اس وقت ملی جب اوپنر ڈیوڈ وارنر 11 گیندوں پر 20 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

وارنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈیوڈ وارنر 11 گیندوں پر 20 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر بولڈ ہوئے

آؤٹ ہونے والے دوسرے بلے باز ایرون فنچ تھے، وہ چھٹے اوور میں 14 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 17 رنز بنا کر محمد عرفان کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

بین میکٹدرماٹ کی جانب سے بھی ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تاہم 13ویں اوور میں عماد وسیم کی گیند پر وہ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ میکٹدرماٹ نے 22 گیندوں پر 21 رنز بنائے۔

تاہم اس دوران کریز کی دوسری جانب موجود سٹیو سمتھ کا بلا رنز اگلتا رہا اور سب کے سب پاکستانی بولرز ان کے سامنے بے بس نظر آئے۔

پاکستان کی جانب سے محمد عرفان، محمد عامر اور عماد وسیم نے ایک، ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔ تین اوورز میں 33 رنز دے کر وہاب ریاض سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے۔

سٹیو سمتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفتح کے بعد سٹیو سمتھ عماد وسیم سے ہاتھ ملاتے ہوئے

پاکستان کی اننگز

کینبرا میں منوکا اوول کے میدان پر منگل کو کھیلے جانے والے اس میچ میں پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 150 رنز بنائے

پاکستان کی جانب سے 34 گیندوں پر 62 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر افتخار احمد ٹاپ سکورر رہے جبکہ کپتان بابر اعظم نے 38 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔

آسٹریلوی بولر ایشٹن ایگر نے اپنے چار اوورز میں 23 رنز کے عوض دو بلے بازوں کو آؤٹ کیا، جبکہ مچل سٹارک اور کین رچرڈسن نے ایک، ایک وکٹ لی۔ بابر اعظم اور عماد وسیم رن آؤٹ ہوئے۔

افتخار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنافتخار احمد نے 34 گیندوں پر 62 رنز کی ناقابل تسخیر اننگز کھیلی جس میں تین چھکے اور پانچ چوکے بھی شامل ہیں

پہلے بلے بازی کا موقع نہ ملنے کے باوجود آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ مطمئن دکھائی دیے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اگر ٹاس جیتتے تو بھی دوسری اننگز میں اوس کے امکان کی وجہ سے پہلے بولنگ ہی کرتے۔

پاکستانی اننگز کی خاص بات آل راؤنڈر افتخار احمد کی جارحانہ بلے بازی اور کپتان بابر اعظم کی اس سیریز میں لگاتار دوسری نصف سنچری تھی۔

بابر 38 گیندوں پر چھ چوکوں کی مدد سے 50 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے جبکہ افتخار نے 34 گیندوں پر تین چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 62 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

اس سے قبل آسٹریلیا کو پہلی کامیابی چوتھے اوور میں ملی جب پیٹ کمنز نے فخر زمان کو مڈ آف پر کیچ کروا دیا۔ وہ صرف دو رنز ہی بنا سکے۔ فخر زمان پہلے میچ میں بھی ناکام رہے تھے اور کوئی رن نہیں بنا پائے تھے۔

افتخار بابر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگلے ہی اوور میں رچرڈسن نے حارث سہیل کو اپنی ہی گیند پر کیچ کر کے آسٹریلیا کو دوسری کامیابی دلوا دی۔

دو وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان کی رنز بنانے کی رفتار میں کمی آئی تاہم نویں اوور میں بابر اور رضوان نے 13 رنز بنا کر سکور کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

دسویں اوور میں اسی کوشش کے دوران محمد رضوان اگار کی گیند پر کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں سٹمپ ہو گئے۔

پاکستانی ٹیم میں پاور ہٹنگ کے لیے شامل کیے جانے والے آصف علی چار رنز ہی بنا سکے اور اگار کو چھکا لگانے کی کوشش میں لانگ آن پر کیچ ہو گئے۔

اننگز کے آخری حصے میں افتخار احمد نے جارحانہ انداز اپنایا اور وکٹ کے چاروں جانب دلکش سٹروک کھیلے۔

فخر زمان

،تصویر کا ذریعہAFP/ Getty

،تصویر کا کیپشنفخر زمان پہلے میچ میں ناکام رہے تھے اور کوئی رن نہیں بنا سکے تھے

اس میچ کے لیے دونوں ممالک نے وہی ٹیم میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جو سڈنی میں مدِمقابل آئی تھی۔

خیال رہے کہ سڈنی میں کھیلا جانے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا تاہم اس میچ میں ایرون فنچ کی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے کھیل رکنے سے قبل آسٹریلیا کی فتح کے امکانات واضح دکھائی دے رہے تھے۔

یہ میچ پہلے بارش کی وجہ سے 15، 15 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا اور آسٹریلوی ٹیم کو ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت 119 رنز کا ہدف ملا تھا جس کے تعاقب میں میزبان ٹیم نے تین اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 41 رنز بنا لیے تھے کہ بارش کے باعث میچ پھر روک دیا گیا جو دوبارہ شروع نہ ہو سکا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹی 20 سیریز میں تین میچوں پر مشتمل ہے اور آٹھ نومبر کو تیسرے ٹی 20 کے بعد دونوں ٹیمیں دو ٹیسٹ میچ بھی کھیلیں گی۔

پاکستان کی ٹیم: بابر اعظم، آصف علی، فخر زمان، حارث سہیل، افتخار احمد، عماد وسیم، محمد عامر، محمد عرفان، محمد رضوان، شاداب خان اور وہاب ریاض

آسٹریلیا کی ٹیم: مچل سٹارک، کین رچرڈسن، ایڈم زیمپا، پیٹ کمنز، ایشٹن ایگر، ایرون فنچ، ڈیوڈ وارنر، سٹیون سمتھ، بین میکٹدرماٹ، ایشٹن ٹرنر اور ایلکس کیری