پاکستان بمقابلہ سری لنکا: قذافی سٹیڈیم میں پہلا ٹی ٹوئنٹی سری لنکا نے باآسانی جیت لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی ٹوئنٹی کی رینکنگ میں سرفہرست ٹیم پاکستان اس رینکنگ کی آٹھوں نمبر پر ٹیم سری لنکا جو آدھی سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی 64 رنز سے ہار گئی ہے۔
پاکستان کے نئے مینیجر مصباح الحق جنہوں نے ماضی میں آزمائے ہوئے دو کھلاڑیوں احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا وہ پاکستان کو انتہائی مہنگا پڑا۔
دونوں کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی پر ٹیم میں دوبارہ جگہ دی گئی تھی لیکن دونوں نے ایک مرتبہ پھر کرکٹ شائقین کو مایوس کیا۔
پاکستان کی ٹیم کی اننگز کا آغاز ہی تباہ کن ہوا۔ پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز بابر اعظم اور احمد شہزاد نے کیا۔
بابر اعظم آوٹ ہونے والے پہلے کھلاڑی تھے جس کے بعد عمر اکمل کھیلنے آئے اور وہ کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد احمد شہزاد بھی صرف چار رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
افتخار احمد کی اچھی اننگز جاری تھی جو انتہائی احمقانہ رن آؤٹ پر ختم ہو گئی۔ پاکستان کے دونوں کھلاڑی ایک ہی طرف موجود تھے جب پیچ کے دوسری طرف وکٹ گرا دیں گئیں۔ افتخار نے 25 رنز بنائے۔
اس کے بعد سرفراز جو کھل کر نہیں کھیل پا رہے تھے آؤٹ ہو کر واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد عماد وسیم آئے اور گئے۔ یہ پاکستان کی چھٹی وکٹ تھی۔
عماد کے بعد آصف علی اور فہیم اشرف آوٹ ہوئے اور اس کے بعد کی داستان بھی بیان کے قابل نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل، پاکستان کی جانب سے ہوم ڈیبیو کرنے والے محمد حسنین نے اپنے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہیٹ ٹرک حاصل کی۔
سری لنکا کی جانب سے اوپنر دنشکا گناتھلاکا نے سری لنکا کو عمدہ آغاز فراہم کرتے ہوئے 57 رنز بنائے۔ ان کا ساتھ دینے والے اوشکا فرنینڈو 33 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
مزید پڑھیے
پاکستان کےکپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
ٹاس کے موقع پر سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ انھوں نے پہلے بولنگ کا فیصلہ دوسری اننگز میں اوس پڑنے کے امکان کے باعث کیا ہے۔ دوسری جانب سری لنکن کپتان دسن شناکا کا کہنا تھا کہ وہ پہلے کھیلتے ہوئے کم از کم 170 رنز بنانے کی کوشش کریں گے۔
اس میچ کے لیے پاکستان کی ٹیم میں کپتان سرفراز احمد کے علاوہ بابر اعظم، احمد شہزاد، افتخار احمد، عمر اکمل، فہیم اشرف، آصف علی، محمد عامر، شاداب خان، عماد وسیم اور محمد حسنین شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
دوسری جانب سری لنکا کی ٹیم میں دسن شناکا (کپتان)، منود بھنوکا، ونندو ہسارنگا، نوان پرادیپ، اوشکا فرنینڈو، دنشکا گناتھلاکا، شیہان جے سوریا، بھنوکا راجاپکسا، کسن رجیتھا، لکشن سنداکن اور اسورو اڈانا شامل ہیں۔
اس سے قبل، دونوں ٹیموں کے درمیان کراچی میں کھیلے جانے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان نے سری لنکا کو 2-0 سے شکست دی تھی۔
پاکستان اس وقت ٹی ٹوئنٹی کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے اور اس کا سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ریکارڈ بھی بہت اچھا رہا ہے۔
دونوں ٹیموں کے مابین اب تک کھیلے جانے والے 18 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں پاکستان کو 15 میں فتح اور صرف تین میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب سری لنکا کی ٹیم عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر ہے اور ان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان لستھ ملنگا سمیت کئی کھلاڑیوں نے پاکستان آنے کی حامی نہیں بھری تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے بین الاقوامی ٹیموں نے بہت عرصے تک پاکستان سے دورہ کرنے سے انکار کیا۔
تاہم حالیہ برسوں میں سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور ورلڈ الیون کی ٹیموں نے لاہور میں آ کر ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے۔ تاہم سنہ 2009 کے بعد سے اب تک کسی بھی بین الاقوامی ٹیم نے اپنے پورے سکواڈ کے ساتھ پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔









