آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019: آسٹریلیا کی افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست
بارویں عالمی کپ کے چوتھے میچ میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے افغانستان کو سات وکٹوں سے شکست دے دی۔
آسٹریلیا نے افغانستان کا 208 رنز کا ہدف 34.2 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر مکمل کر لیا۔
برسٹل میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 38.2 اوورز میں 207 رنز بناکر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔
آسٹریلیا کی طرف سے فنچ اور وارنر نے بیٹنگ کا آغاز کیا۔ پہلے دس اوورز میں ان دونوں انتہائی تجربہ کار بلے بازوں نے 55 رنز بنائے۔
آسٹریلیا کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی فنچ تھے جو 66 رنز بنا کر گلبدین کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ فنچ اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہوئے۔ آسٹریلیا کے دوسرے کھلاڑی عثمان خواجہ 20 گیندوں پر 15 رنز بنا کر راشد خان کی گیند پر جبکہ سٹیون اسمتھ 18رنز بنانے کے بعد مجیب الرحمان کا شکار بنے۔
آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر 89 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
افغانستان نے پہلا اوور سپن بالنگ کرنے والے کھلاڑی نجیب کو دیا جس پر فنچ نے کور پر دو شاندار چوک لگائے اور پہلے اوور میں دس رنز بنائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
دوسرا اوور افغانستان کی طرف سے حمید حسن نے کیا اور ان کے خلاف بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بلے باز وارنر کوئی رن نہیں بنا پائے۔ حمید کی دو گیند پر وانر بیٹ ہوئے۔
افغانستان نے بولنگ میں پہلی تبدیلی پانچویں اوور میں کی جب دولت کو بالنگ کرنے کو کہا گیا۔ ان کی پہلی گیند نو بال قرار پائی اور اس پر وانر نے زبردست چوکا لگایا۔
دوسری طرف سے نجیب ہی سے بولنگ کروائی جاتی رہی۔ نجیب کو کھیلنے میں وارنر اور فنچ کو مشکل پیش آرہی تھی۔ ان کی گیندوں پر دونوں بلے باز 'بیٹ' ہو رہے تھے۔
بیٹنگ میں جس طرح افغان کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھائی اسی طرح بولنگ میں بھی یہ چمک دکھائی دی۔
نجیب نے میچ کا آٹھواں اوور پھر میڈن کیا یعنی اس میں کوئی رنز نہیں بنے۔
دولت نے نواں اوور کیا لیکن فنچ نے اس اوور میں حساب برابر کر دیا۔ ایک شارٹ پچ پر پہلے مڈ وکٹ پر چھکا اور اس کے بعد کور پر چوکا لگایا۔ نو اوور کے اختتام پر آسٹریلیا کے مجموعی سکور 54 ہو گیا۔
دسویں اوور میں افغانستان نے پھر بولنگ میں تبدیلی کی اور کپتان گلبدین نائب بالنگ کرانے آئے۔
11واں اوور کرانے کے لیے محمد نبی آئے اور یہ اوور پھر افغانستان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ 12ویں اوور کی تیسری گیند پر فنچ نے ایک مرتبہ پھر مڈ وکٹ کی جانب چھکا لگا کر رنز بنانے کی رفتار کو برقرار رکھا۔
آسٹریلیا کی اننگز میں پہلی مرتبہ تھرڈ ایمپائر سے 13ویں اوور میں رجوع کرنا پڑا جب وارنر نے ایک زوردار شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ گیند بلے کے نچلے حصہ پر لگ کر دو ٹپے کھا کر وکٹ کیپر کے پاس گئی۔ وارنر کی نظر گیند سے ہٹ گئی اور انھوں نے کریز سے باہر قدم نکالا۔ کیپر نے گیند اٹھا کر وکٹیں گرا دیں لیکن اتنی دیر میں وارنر واپس بلا کریز میں رکھ چکے تھے۔
افغانستان کی ٹیم کی امید راشد خان کو 14ویں اوور میں گیند کرنے کو کہا گیا۔ سامنے فنچ تھے اور انھوں نے پہلی گیند پر پہلے کٹ لگا کر چوکا لگایا اور پھر مڈ وکٹ پر چھکا لگا دیا۔
افغانستان کو پہلی کامیابی سترہویں اوور میں ملی جب گلبدین نے فنچ کو آؤٹ کیا۔ فنچ نے 66 رنز بنائے۔
فنچ کے جانے سے آسٹریلیا کی اننگز کی رفتار پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ وارنر نے عثمان خواجہ کے ساتھ مل کر اننگز کو آ گے بڑھایا اور 23ویں اوور میں اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔
افغانستان کی اننگز
پانچ مرتبہ عالمی کپ کا اعزاز حاصل کرنے والی آسٹریلیا جیسی تجربہ کار ٹیم کے خلاف میچ میں افغانستان کے بلے بازوں نے ابتدائی نقصانات کے باوجود کئی مرتبہ اپنی جارحانہ صلاحیتوں کی جھلک دکھائی لیکن وہ پچاس اوور پورے نہ کر سکے۔
بولروں کے لیے سازگار پچ پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان کی ٹیم کے اوپنر جلد آؤٹ ہو گئے جس کے بعد رحمت اللہ شاہدی نے 43 اور اس کے بعد نجیب اللہ نے نصف سنچری بنا کر ٹیم کو بڑی حد تک سہارا دیا۔
اپنی جادوئی سپین بالنگ سے کرکٹ کی دنیا میں مشہور راشد خان نے جارحانہ اننگز کھیل کر افغانستان کے سکور کو بڑی حد تک معقول بنا دیا۔
انھوں نے گیارہ گیندوں پر 27 رنز بنائے جن میں چند بڑے دلکش سٹروکس کھیلے۔
وہ سپین بالنگ کا ہی شکار ہوئے اور انھیں زیمپا نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لیے تھرڈ ایمپائر کا سہارا لینا پڑا۔
اس سے قبل افغانستان کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ اس وقت برا ثابت ہوا جب افغانستان کے دونوں اوپنرز بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔
آوٹ ہونے والے تیسرے کھلاڑی حشمت اللہ شاہدی تھے جو سپنر زیمپا کا نشانہ بنے۔ وہ زیمپا کی گیند پر شاٹ کھیلنے کے لیے کریز سے باہر آئے اور شاٹ نہ کھیل پائے۔ گیند کیپر کے ہاتھ میں حشمت کا پچھلا پیر چند انچ باہر اور بیلز ہوا میں۔ حشمت وکٹوں میں لگی جلتی بجھتی روشنی کو دیکھتے ہوئے سر جھکا کر پولین کی طرف لوٹ گئے۔
حشمت کی افسردگی بالکل بجا تھی وہ کسی حد تک آسٹریلیوی تیز گیند بازوں کو جھیل گئے تھے اور ان کی اور رحمت شاہ کی شراکت جمنا شروع ہو گئی تھی۔ حشمت اللہ شاہدی نے 34 گیندوں کا سامنا کیا اور18 رنز بنائے۔
افغانستان کی چوتھی وکٹ میچ کے بیسویں اوور میں گری۔ رحمت شاہ اس ورلڈ کپ میں اپنی پہلی نصف سنچری سے صرف سات رنز کے فرق سے نہ بنا پائے۔
ان کی وکٹ بھی زیمپا نے لی لیکن اس کا نصف کریڈٹ سٹیو سمتھ کے حصہ میں جاتا ہے کیونکہ انھوں نے ایک اچھا کیچ پکڑا۔
سٹیو سمتھ نے افغانستان کو اس کیچ کے بعد سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ اگلے اوور میں افغان بلے باز گلبدین نبی نے ایک رن لینے کی کوشش کی۔ گیند سٹیوسمتھ کی پہنچ میں تھی اور انھوں خود وکٹوں کو نشانہ بنانے کے بجائے گیند کیپر کو دی اور کیپر نے وکٹیں اڑا دیں۔
نبی نے بائیس گیندوں میں سات رنز بنائے اور پویلین میں لوٹ گئے۔
آسٹریلیا کو 29سواں اوور انتہائی مہنگا پڑا۔ اس اوور میں زیمپا کو چھ گیندوں پر 22 رنز پڑے جس میں دو شاندار چھکے اور دو چوکے شامل تھے۔ نجیب اللہ زردان نے ٹیم کی مشکلات کے باوجود اپنا جارحانہ انداز جاری رکھا اور جہاں موقعہ ملا شاٹس کھیلتے رہے۔