ڈک ورتھ طریقے کی مدد سے جنوبی افریقہ کی تیسرے میچ میں 13 رنز سے جیت، سیریز میں برتری حاصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ایک روزہ میچز پر مشتمل سیریز کا تیسرا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا اور ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کی مدد سے جنوبی افریقہ 13 رنز سے میچ جیت کر سیریز میں سبقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ریضا ہینڈریکس نے کپتان فاف ڈو پلیسی کے ساتھ 108 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کو ڈک ورتھ لوئیس طریقے پر پاکستان سے اگے پہنچا دیا اور جب 33 اوورز کے بعد میچ منسوخ ہوا تو جنوبی افریقہ کی جیت یقینی ہو گئی۔
مین آف دا میچ کا اعزاز ریضا ہینڈریکس کو ملا جنھوں نے 90 گیندوں پر 83 رنز بنائے۔ کپتان ڈو پلیسی نے 42 گیندوں پر 40 رنز کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے پہلے جب 318 رنز کے تعاقب میں میزبان ٹیم نے آغاز کیا تو پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ہاشم آملہ تھے جن کی وکٹ حسن علی نے 25 رنز پر حاصل کی۔
اس کے بعد 79 کے مجموعی سکور پر کوئنٹن ڈی کاک کو شاداب خان نے رن آؤٹ کر دیا۔ اس کے کچھ دیر بعد جنوبی افریقی اننگز میں بارش کے باعث پہلا وقفہ ہوا اور اس وقت پاکستان کی پوزیشن بہتر تھی۔
لیکن بارش کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو ریضا ہینڈرکس اور کپتان فاف ڈوپلیسی نے گیلی گیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی بولنگ کے پرخچے اڑا دیے اور تیز رفتاری سے بیٹنگ کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پہلے پاکستان کی اننگز کی خاص بات نوجوان اوپنر امام الحق کی سنچری تھی۔ امام الحق کے علاوہ بابر اعظم اور محمد حفیظ نے نصف سنچریاں بھی سکور کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیل سٹین اور کغیسو رابادا نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان نےٹاس جیت کر بیٹگ کا فیصلہ اور ابتدائی کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ اوپنر فخر زماں کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد امام الحق اور بابر اعظم کے 132 رنز کی شراکت نے پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کر دیا۔ بابر اعظم 72 گیندوں پر 69 رن بنا کر ڈیل سٹین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز محمد حفیظ تھے جو 45 گیندوں پر 52 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔
امام الحق 116 گیندوں پر 101 رن بنا کر تبریز شمسی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ شعیب ملک 31 جبکہ حسن علی ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ عماد وسیم 43 اور کپتان سرفراز احمد چھ رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کی غیر معیاری فیلڈنگ کے باعث کافی کیچ ڈراپ ہوئے۔
پاکستانی ٹیم میں امام الحق، فخر زمان، محمد حفیظ، بابراعظم، شعیب ملک، کپتان سرفراز احمد، شاداب خان، عماد وسیم، حسن علی، محمد عامر اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی افریقہ کی ٹیم میں فاف ڈوپلیسی کی قیادت میں کوئنٹن ڈی کوک، ہاشم آملہ، ریزا ہینڈرک، ریسی وین دیر ڈیسن، ڈیوڈ ملر، اینڈلے فلکوایو، کگیسو رابادا، ڈیل سٹین، تبریز شمسی اور بیرون ہینڈرکس پر مشتمل ہے۔
پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان 5 میچوں کی سیریز میں میزبان ٹیم کو 2-1 سے برتری حاصل ہے۔
سرفراز احمد کی 'نسل پرستانہ' فقرے پر معافی
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے ایک روزہ میچ کے دوران پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے جنوبی افریقی کھلاڑی اینڈیل پہلوک وایو کے بارے میں بظاہر نسل پرستانہ الفاظ استعمال کرنے پر معافی مانگ لی ہے۔ مگر آئی سی سی کا اس حوالے سے فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سرفراز احمد بدھ کے روز جوہانسبرگ میں آئی سی سی کے میچ ریفری رنجن مدوگالے کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے نادانستگی میں یہ جملہ ادا ہوگیا لیکن نسلی تعصب کا تاثر درست نہیں ہے۔ رنجن مدوگالے نے ان کا موقف سننے کے بعد ضابطے کی کارروائی کے بعد رپورٹ آئی سی سی کو بھیجی تھی۔ بعد ازاں سرفراز احمد نے ٹوئٹر پر اپنی اس حرکت پر معافی بھی مانگی۔
سرفراز احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'میں ہر اس شخص سے معافی کا طلبگار ہوں جسے تکلیف پہنچی ہے۔ میرے الفاظ براہ راست کسی کے لیے نہیں تھے اور میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ کسی کو میں تکلیف پہنچاؤں۔ میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی میدان میں اور میدان سے باہر ساتھی کرکٹرز کے ساتھ بھائی چارے کو قائم رکھوں گا۔'
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بدھ کی شب جاری کردہ بیان میں سرفراز احمد کی حرکت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ اور توقع ظاہر کی کہ اس واقعے کی وجہ سے یہ سیریز متاثر نہیں ہوگی۔












