ابو ظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن پاکستانی بولروں کے نام

،تصویر کا ذریعہAFP
ابو ظہبی میں کھیلے جانے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے نیوزی لینڈ کے 153 رنز کے جواب میں دو وکٹوں کے نقصان پر 59 رنز بنا لیے ہیں۔
پہلے دن کے اختتام پر حارث سہیل اور اظہر علی کریز پر موجود تھے اور دونوں نے بالترتیب 22 اور 10 رنز بنائے تھے۔
پاکستان کو نیوزی لینڈ کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 94 رنز کی ضرورت ہے اور پہلی اننگز میں اس کی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد حفیظ اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 27 رنز بنائے۔
پاکستان کے آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز امام الحق تھے وہ صرف چھ رنز بنا کر گرینڈ ہوم کی گیند پر ویلیم سن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
27 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی دوسری وکٹ اس وقت گری جب محمد حفیظ 20 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس سے پہلے دن نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم پاکستان کے خلاف اپنی پہلی اننگز میں 153 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے جیت راول اور ٹام لیتھم نے اننگز کا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 20 رنز بنائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی بولرز نے ٹیسٹ میچ کا اچھا آغاز کیا اور نیوزی لینڈ کے ٹاپ آرڈر کو کریز پر سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے بعد مہمان ٹیم کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب کپتان سرفراز احمد نے یاسر شاہ کو بولنگ کو موقع دیا اور انھوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں ٹام لیتھم کو 13 کے انفرادی سکور پر آؤٹ کیا۔
بعد میں آنے والے نیوزی لینڈ کے تجربہ کار بلے باز راس ٹیلر بھی زیادہ دیر کریز پر رک نہ سکے اور یاسر شاہ ہی کی گیند پر سرفراز احمد کو کیچ دے بیٹھے، انھوں نے صرف دو رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے یاسر شاہ نے تین، محمد عباس، حسن علی، اور حارث سہیل نے دو، دو جبکہ بلال آصف نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے کین ویلیم سن نے سب سے زیادہ 63 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ نیوزی لینڈ کے دیگر بلے باز پاکستانی بولروں کی عمدہ بولنگ کا سامنا نہ کر سکے اور ان کے پانچ بلے بازوں کا سکور دہرے ہندے میں نہ پہنچ سکا۔
اس سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی اور تین ہی ایک روزہ میچوں کی سیریز بھی کھیلی گئی جس میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں تین صفر سے شکست دی جبکہ ون ڈے سیریز ایک، ایک میچ سے برابر رہی تھی۔









