عشروں بعد ایران میں سینکڑوں خواتین کو مردوں کا فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار سینکڑوں خواتین تماشائیوں کو فٹبال کے ایشیا چیمپیئن لیگ کے فائنل دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ایران میں گذشتہ 35 برسوں سے خاتون تماشائیوں کو کھیل کے میدانوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق ایشیا چیمپئین لیگ میچ دیکھنے والی خواتین کی اکثریت کھلاڑیوں کی رشتہ دار یا عورتوں کی ٹیم کی ممبران تھیں۔
مزید پڑھیے
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا ایران میں عورتوں پر فٹ بال میچ دیکھنے کی پابندی کو ختم کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
فیفا کے سربراہ جیانی انفنٹینو بھی اس میچ میں موجود تھے جہاں سینکڑوں عورتوں کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ برس پہلی بار ایک سو عورتوں کو ایران اور بولیویا کے مابین کھیلے گئے فٹبال میچ کو دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔
گذشتہ برس مارچ اس وقت 35 عورتوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا جب انھوں نے ایک فٹبال میچ دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
ایران میں 1979 آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد عورتوں کو مردوں کے کھیلوں کے مقابلے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔
خبررساں ادارے روائٹر کے مطابق ایک گروپ نے عورتوں کو فٹبال میچوں میں جانے کی اجازت دینے سے متعلق ایک دستخطی مہم چلائی جس پر دو لاکھ سے زیادہ افراد کے دستخط تھے۔ اس درخواست کو فیفا کے حوالے کیا گیا۔
اس گروپ کا موقف ہے کہ عورتوں کے میچ دیکھنے پابندی سے عورتوں کو خوشی کے موقعوں سے محروم کیا جاتا ہے.

،تصویر کا ذریعہGetty Images








