ایران میں زمبا رقص پر پابندی کے مطالبے پر تنقید

،تصویر کا ذریعہGETTY CREATIVE STOCK
ایران میں مقامی سپورٹس کے ایک ادارے کی جانب سے زمبا رقص پر مجوزہ پابندی کی اپیل پر بہت سے لوگوں نے انٹرنیٹ پر غصے کا اظہار کیا ہے۔
ایران سپورٹ فار آل فیڈریشن نے وزارت ورزش و جوانان کو لکھا کہ 'زمبا سمیت دوسری تمام سرگرمیں کو بند کر دینا چاہیے جس سے اسلامی اصول کے خلاف ورزی ہوتی ہے۔'
خیال رہے کہ یہ ادارہ سنہ 1992 میں قائم ہوا تھا اور کئی طرح کے کھیل کے معاملے میں ضابطہ کار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی شاخیں صوبوں میں بھی موجود ہیں۔
فیڈریشن کےایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ادارے کا ایرانی وفاق کے سیاسی فیصلوں میں کوئی دخل نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس کی رکنیت کا فیصلہ بورڈ کے ڈائرکٹرز لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر سرگرم بہت سے ایرانیوں نے 'زمبا' ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے اس مجوزہ پابندی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

،تصویر کا ذریعہMINISTRY OF YOUTH AFFAIRS AND SPORTS (IRAN)
فیڈریشن کے صدر علی مجدارا نے اپنے خط میں لکھا کہ '(ہمارا) مقصد اعلی ترین اسلامی نظریات اور اسلامی مملکت ایران میں کھیل کے ڈھانچے کے تحت ہر ایک کو ایتھلیٹ بنانا تھا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'برائے مہربانی ایسے ضابطے جاری کریں جس میں زومبا جیسی سرگرمیوں پر پابندی ہو جس میں ہم آہنگ حرکات اور رقص ہیں جو کہ ہر طرح سے ناجائز ہیں۔'
ایک صارف نے مذاقاً لکھا: 'اور دولت اسلامیہ قسم کی خبروں کا آسکر آج کی اس خبر کو جاتا ہے۔۔۔'
کسی دوسرے نے لکھا کہ 'کولمبیا نے ابھی تک ایرانی سفیر کو طلب نہیں کیا؟' ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ رقص کی قسم کولمبیا میں پیدا ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آفتاب یزد نامی اخبار کے مطابق تہران میں ایک جم کے مینیجر نے کہا: 'ہم 13-12 سالوں سے زمبا سکھا رہے ہیں۔ اگر وہ اس پر پابندی لگا دیتے ہیں تو ہم اسے کسی دوسرے نام سے جاری رکھیں گے۔ کلبوں کے لیے زمبا سب سے زیادہ منافع بخش سرگرمیوں میں سے ایک ہے اور (سپورٹس) کلب اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔'
ایک شخص نے لکھا: 'اسلام کے کتنے ستون ہیں: ایک کو بے حجابی سے خطرہ ہے، دوسرے کو خواتین کے سٹیڈیم میں میچ دیکھنے سے، تیسرے کو موسیقی کے کنسرٹ منعقد کرنے سے، اگلے کو خواتین کا بالوں کو جڑ سے ختم کرنے سے اور تازہ ترین زمبا سے۔'








