ایران میں ’جسم فروشی پھیلانے کے الزام میں‘12 افراد کو جیل بھیج دیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران میں اطلاعات کے مطابق فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو آن لائن پوسٹ کی گئی تصاویر کے ذریعے 'جسم فروشی پھیلانے' کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ان 12 افراد پر ملک میں جسم فروشی پھیلانے، آن لائن فحش تصاویر کی اشاعت کے ذریعے بدعنوانی کو فروغ دینے، فیشن شوز کے ذریعے مسلمانوں کو بدعنوانی پر اکسانے اور'عریانیت کی مغربی طرز ثقافت کو پھیلانے' جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ان افراد کے وکیل محمود تراوت نے ایران کی لیبر نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جیل بھیجے جانے والے 12 افراد میں سے آٹھ خواتین اور چار مرد شامل ہیں اور انھیں پانچ ماہ سے لے کر چھ برس کے درمیان سزا دی گئی ہے۔
محمود تراوت کے مطابق ان افراد پر فیشن انڈسٹری میں کام کرنے کے علاوہ دو سال تک بیرون ملک سفر کرنے کی بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے موکلوں نے ان الزامات کو تردید کی ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محمود تراوت نے لیبر نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں ان افراد کے نام نہیں بتائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان 12 افراد میں سے ایک مرد کو چھ سال قید کی سزا سنانے کے علاوہ انھیں ملک میں بطور صحافی کام کرنے یا کسی بھی سرکاری نوکری کرنے پر دو سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمود تراوت کے مطابق ایک خاتون اور ایک دوسرے مرد کو پانچ سال قید کی سزا کے علاوہ دونوں پر فیشن انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے جب کہ ایک تیسرے آدمی کو دو سال قید کی سزا اور ان پر فوٹو گرافی کی صنعت میں کام کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی عدلیہ نے رواں سال کے شروع میں فیشن ماڈلز کے 'غیر اسلامی' رویے کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
ایران کے قانون کے مطابق خواتین پر عوامی مقامات میں سر ڈھاپنا لازمی ہے۔







