ابوظہبی: تیسرے دن کے اختتام پر پاکستان کی گرفت مضبوط، جیت کے لیے نو وکٹ درکار

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم نے ایک چوکے اور تین چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کی

ابوظہبی میں دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستان نے 400 رنز پر اپنی اننگز ڈیکلیئر کر دی جس کے جواب میں آسٹریلیا نے دن کے اختتام تک ایک وکٹ کے نقصان پر 47 رنز بنائے اور انھیں جیت کے لیے مزید 491 رنز کی ضرورت ہے۔

عثمان خواجہ کی انجری کے باعث آسٹریلیا کی جانب سے شان مارش اور آرون فنچ نے بیٹنگ کا آغاز کیا لیکن دوسرے ہی اوور میں میر حمزہ نے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کر لی جب انھوں نے شان مارش کو چار رنز پر بولڈ کر دیا۔

اس وقت کریز پر فنچ 24 رنز اور ٹریوس ہیڈ 17 رنز پر موجود ہیں اور ان دونوں نے 12 اوورز میں اب تک پراعتماد بیٹنگ کی اور تقریباً چار کے رن ریٹ سے رنز بنائے۔

اس سے قبل 400 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستانی کپتان نے اپنی دوسری اننگز ڈیکلئیر کرنے کا اعلان کر دیا اور آسٹریلوی بلے بازوں کو آج کے دن کم از کم 12 اوورز کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ ڈرا کے لیے انھیں کم از کم 192 اوورز کھیلنے ہوں گے۔

جب پاکستان نے چائے کے وقفے کے بعد جب بیٹنگ دوبارہ شروع کی تو اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکپتان سرفراز احمد نے 81 رنز بنائے

بابر اعظم وقفے کے بعد صرف نو رنز کا ہی اصافہ کر سکے اور 99 رنز پر ان کو مچل سٹارک نے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ انھوں نے آخری امید کے تحت ریویو لیا لیکن قسمت نے یاوری نہیں کی۔

اس کے بعد پاکستانی بلے بازوں نے قدرے تیز بیٹنگ کرنے کی کوشش کی لیکن اس بار آسٹریلوی گیند بازوں نے بہتر کارکردگی دکھائی اور پاکستان کو رنز بنانے میں کافی دشواری پیش آئی اور ساتھ ساتھ اس کی وکٹیں بھی گرتی چلی گئیں۔

بابر اعظم کے بعد پہلے بلال آصف 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جس کے بعد یاسر شاہ نیتھن لائن کی گیند پر چار رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

کپتان سرفراز احمد بھرپور کوشش کے باوجود اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 81 کے سکور پر وہ لبوشین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔

آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن لائن نے پہلی اننگز کی طرح ایک بار پھر چار وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے عوض انھوں نے 135 رنز دیے۔

ان کے علاوہ لبوشین نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا کی جانب سے نیتھن لائن نے چار وکٹیں حاصل کیں

اس سے پہلے کھانے کے بعد کھیلے جانے والے دن کے دوسری سیشن میں پاکستان نے اپنی بیٹنگ میں تیزی لائی اور چار سے زیادہ کے رن ریٹ سے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بولنگ کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔

لنچ کے فوراً بعد آسٹریلیا کو پانچویں کامیابی اس وقت ملی جب لبوشین نے اسد شفیق کو 44 رنز کے انفرادی سکور پر کیچ آؤٹ کروا دیا۔

پاکستان کی جانب سے بابر اعظم اور اسد شفیق نے دوسری اننگز میں چوتھی وکٹ کی شراکت میں 74 رنز بنائے۔

جمعرات کو پہلے سیشن میں پاکستان کو پہلا نقصان حارث سہیل کا اٹھانا پڑا جو 17 رنز بنا کر نیتھن لائن کی گیند پر سٹمپ ہوئے۔

نصف سنچری بنانے والے اظہر علی کی وکٹ کی وجہ پاکستانی بلے بازوں کی غائب دماغی بنی۔ اظہر نے پیٹر سڈل کی گیند پر شاٹ کھیل کر یہ یقین کر لیا کہ گیند باؤنڈری لائن عبور کر جائے گی اور وہ کریز چھوڑ کر پچ کے درمیان اسد شفیق سے باتیں کرنے لگے۔

فخر زمان اور اظہر علی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشننصف سنچری بنانے والے اظہر علی کی وکٹ کی وجہ پاکستانی بلے بازوں کی غائب دماغی بنی

تاہم گیند باؤنڈری سے پہلے ہی رک گئی اور مچل سٹارک کی تھرو پر آسٹریلوی کیپر نے اظہر علی کو باآسانی رن آؤٹ کر دیا۔

دوسری اننگز میں اب تک پاکستان کی جانب سے اظہر علی کےعلاوہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فخر زمان نے پہلی اننگز کے بعد دوسری اننگز میں بھی نصف سنچری بنائی۔

آسٹریلیا کی جانب سے اس اننگز میں نیتھن لائن نے دو جبکہ مچل سٹارک نے ایک وکٹ لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اس سے پہلے آسٹریلیا کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 145 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو 137 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔

آسٹریلیا کی جانب سے ایرون فنچ نے پہلی اننگز میں 39 جبکہ مچل سٹارک نے 34 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے پہلی اننگز میں محمد عباس نے پانچ، بلال آصف نے تین اور یاسر شاہ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان یہ ٹیسٹ سیریز دو میچوں پر مشتمل ہے۔ دبئی میں کھیلا جانے والے پہلا ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد برابری پر ختم ہو گیا تھا۔