کیون او برائین کی پہلی سنچری، آئرلینڈ کو پاکستان پر 139 رنز کی سبقت

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کی جانب سے محمد عامر نے تین وکٹیں لیں جبکہ آئرلینڈ کے کیون او برائین نے پہلے میچ میں ہی سنچری بنائی

آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں جاری واحد ٹیسٹ میچ میں میزبان ٹیم نے اپنی دوسری اننگز میں آل راؤنڈر کیون او برائین کی شاندار سنچری کی بدولت پاکستان پر 139 رنز کی سبقت حاصل کر لی ہے اور ان کی تین وکٹیں ابھی بھی باقی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم جس نے آئرلینڈ کو ان کی پہلی اننگز میں 130 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد فالو آن پر مجبور کر کے دوبارہ بیٹنگ کی دعوت دی تھی لیکن ناقص فیلڈنگ اور چند متنازع فیصلوں کے بعد میچ کے آخری دن پاکستان کو جیت حاصل کرنے کے لیے دشواری کا سامنا ہوگا۔

جب چوتھے دن کا کھیل شروع ہوا تو آئرلینڈ نے 64 رنز بغیر کسی نقصان کے اپنی دوسری اننگز دوبارہ شروع کی لیکن محمد عامر اور محمد عباس نے اپنے پہلی سپیل میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے اگلے 31 رنز میں میزبان ٹیم کی چار وکٹیں حاصل کر لیں۔

میچ کے سکور اور پچھلے دنوں کی رپورٹ کے لیے پڑھیے

اس وقت آئرلینڈ اننگز شکست سے 85 رنز کی دوری پر تھا اور ایسا لگ رہا تھا کے میچ چوتھے روز ہی ختم ہو جائے گا۔

لیکن اس موقعے پر کیون او برائین پہلے پال سٹرلنگ اور پھر گیری ولسن کے ساتھ چھوٹی لیکن اہم شراکت قائم کر کے پاکستان کے ارادوں کے سامنے ڈٹ گئے اور اس کے بعد ساتویں وکٹ کے لیے سٹوارٹ تھامپسن کے ساتھ زبردست بیٹنگ کرتے ہوئے 114 رنز کی نہ صرف شراکت جوڑی بلکہ پاکستان پر برتری بھی حاصل کر لی۔

شاداب خان نے سٹوارٹ تھامپسن کو 53 رنز پر بولڈ کر دیا جو ان کی پہلی نصف سنچری تھی لیکن اس کے بعد کیون او برائین نے اپنی عمدہ بیٹنگ اور قسمت کی یاوری کی مدد سے ڈیبو سنچری سکور کی اور دن کے اختتام پر 118 رنز بنا کر ناقابل شکست پویلین واپس لوٹے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکیون او برائین نے پہلی اننگز میں بھی 40 رنز بنائے تھے

پاکستان کی جانب سے محمد عامر اور محمد عباس نے خاص طور پر اچھی بولنگ کی جبکہ شاداب خان اور فہیم اشرف نے بھی ان کا مناسب ساتھ دیا۔

میچ کے بارے میں مزید پڑھیے

محمد عامد نے اب تک اننگز میں تین وکٹیں حاصل کی ہیں اور اس کے ساتھ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

لیکن جہاں فیلڈنگ میں کپتان سرفراز احمد کے تین کیچ کے علاوہ اسد شفیق اور اظہر علی کے ایک ایک کیچ ڈراپ ہونے سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا وہیں ڈی آر ایس نہ ہونے کے باعث امپائرنگ کے غلط فیصلوں کا بھی نقصان پاکستان کو پہنچا۔

آخری دن بارش کی پیش گوئی ہے اور ممکن ہے کہ پورے دن کا کھیل نہ ہوسکے جس کی وجہ سے پاکستان کو جیتنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ٹیسٹ میچ کا پہلا روز خراب موسم اور بارش کے باعث ضائع ہو گیا تھا۔

آئر لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستان 24 مئی سے انگلینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گا اور تین ٹی ٹوئنٹی میچ سکاٹ لینڈ میں کھیلے گا۔