آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی لڑکیوں کے والد لیری نیسر پر چڑھ دوڑے
میشیگن کے کمرہ عدالت میں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی تین لڑکیوں کے والد نے امریکی جمناسٹکس ڈاکٹر لیری نیسر پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
رینڈل مارگریوز کو کمرہ عدالت میں موجود تین سکیورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا۔
عدالت میں جہاں پر ڈاکٹر لیری نیسر کو بیٹھایا گیا تھا اس جانب بھاگنے سے قبل رینڈل مارگریوز نے جج سے کہا کہ انھیں ’اس شیطان کے ساتھ ایک بند کمرے میں پانچ منٹ دیے جائیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
جج جینس کنینگھم نے کہا کہ وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد رینڈل مارگریوز نے جج سے صرف ایک منٹ کی درخواست کی۔
جج نے پھر سے دوہرایا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتیں، ایسے میں عدالت میں شور شرابے کی آوازیں گونجیں اور ان لڑکیوں کے والد غصے میں ڈاکٹر لیری نیسر کی جانب دوڑے۔
اس سارے واقعے کے بعد ڈاکٹر لیری نیسر کے خلاف جنسی استحصال کرنے کے مقدمے کی آخری سماعت کو اچانک روکنا پڑا۔
رینڈل مارگریوز کو جس وقت سکیورٹی اہلکاروں نے پکڑا اور زمین پر لیٹا دیا تو انھوں نے پہلے تو چلاتے ہوئے ’ڈاکٹر لیری کو گالیاں دیں‘ اور پھر ان سکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ ’اگر یہ سب آپ لوگوں کے ساتھ تو کیا ہوتا؟‘
رینڈل مارگریوز کی دو بیٹیوں میڈیسن اور لارین نے ڈاکٹر کے ہاتھوں جنسی استحصال کیے جانے کی گواہی دی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران امریکی ریاست میشیگن کی ایک جج نے کہا تھا کہ امریکی اولمپکس میں جمناسٹکس کی ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری نیسر نے 265 لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا۔
جمناسٹکس ڈاکٹر لیری نیسر کو گذشتہ ہفتے 160 خواتین کے بیانات کے بعد 40 سے 175 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔