کھلاڑیوں کا جنسی استحصال: لیری نیسر کو 175 سال قید کی سزا

امریکی اولمپکس میں جمناسٹکس کی ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری نیسر کو 60 گواہوں کے بیانات کے بعد 40 سے 175 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

جج نے ان کی جانب سے کی جانے والی معافی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے بدیانتی قرار دیا اور کہا کہ وہ ’اب باقی ماندہ زندگی اندھیرے میں گزاریں گے۔‘

54 سالہ لیری نیسر کو بچوں کی فحش فلمیں بنانے کی وجہ سے 60 سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ادھر مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کی صدر نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

یونیورسٹی کی صدر لو اینا سیمن پر اس کیس کی وجہ سے کافی دباؤ تھا ڈاکٹر نیسر ان کی یونیورسٹی میں 1997 سے 2016 تک پڑھاتے رہے ہیں۔

لو اینا سیمن نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ انھوں نے نیسر کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی تھی۔

جج روزمیری ایکیولینا نے سزا سناتے ہوئے نیسر سے کہا کہ ’میں نے بچ جانے والی بہنوں کو سنا، یہ میرا اعزاز اور استحقاق ہے کہ میں تمھیں سزا دوں۔‘

’کیونکہ سر آپ یہ حق نہیں رکھتے کہ کبھی بھی اس جیل سے باہر گھوم پھر سکیں۔‘

انھوں نے بچوں سے جنسی رغبت رکھنے والے لیری نیسر سے کہا کہ ’اب آپ اس کا حق نہیں رکھتے۔میں اپنے کتے کو بھی آپ کے پاس نہیں بھیجوں گی۔‘

’میں نے بس ابھی ہی آپ کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے ہیں۔‘

یاد رہے کہ سات دن تک ان متاثرین کی گواہیاں لی گئی اور پھر نیسر کو عدالت میں بولنے کا موقع دیا گیا۔

انھوں نے کھچا کھچ بھرے ہوئے کورٹ روم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر تکلیف، اذیت اور جذباتی بدحالی جو کہ آپ سب محسوس کر رہے ہیں سے موازنہ کیا جائے تو میں بہت خوف محسوس کر رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی شرمندگی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا اس سب کے لیے جو ہوا۔

سات روز تک عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ سامنے آیا کہ سابق ڈاکٹر بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کو اپنے پاس علاج کے لیے بلاتا تھا لیکن ان کے درد اور تکلیف کو حتم کرنے کے بجائے وہ ان کی معصومیت چھین لیتا تھا۔ کچھ تو اتنی کم عمر کھلاڑی تھیں کہ انھیں بہت سال بعد پتہ چلا کہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔

اس کیس کی سماعت کی سب سے غیر معمولی بات یہ تھی کہ ان سات دنوں کے دوران جنسی استحصال کا شکار ہونے والی لڑکیوں نے عدالت میں نیسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے یاد دلایا کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرتا رہا ہے۔

جج ایکیولینا نے کہا کہ لیری نیسر نے انھیں خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ ان کے اوپر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔

نیسر نے اپنے خط میں لکھا کہ میں ایک اچھا ڈاکٹر تھا کیونکہ میرے علاج کام کرتا تھا اور وہ مریض یو اس وقت بول رہے ہیں وہی ہیں جنھوں نے میری تعریف کی اور بار بار میرے پاس آئے۔

جیسے ہی جج نے فیصلہ سنایا کورٹ روم میں موجود لوگوں نے اس کی تعریف کی۔

یاد رہے کہ جنسی استحصال کے الزامات پر جمناسٹکس کے صدر بھی مستعفی ہو گئے تھے۔

فیڈریشن کے صدر سٹیو پینی نے استعفی دینے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ان جنسی بے ضابطگیوں کے واقعات کی معلومات سے مجھے کافی تکلیف پہنچی ہے۔'