چھ میچ بعد، بھولا سبق یاد آ ہی گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کولن منرو صرف ایک ہی طرح کی کرکٹ کھیلنا جانتے ہیں۔ وہ کچھ ہی دیر کریز پہ رکتے ہیں اور پھر بگولے کی طرح ہوا ہو جاتے ہیں۔ مگر اس بیچ، مخالف بولرز کے لیے زندگی موت کی ایک جنگ برپا کر جاتے ہیں۔
لیکن آج انہیں رکنا پڑا۔
گپٹل کو بھی رکنا پڑا۔
اور نیوزی لینڈ بھی تھم گیا۔
محمد عامر کے پہلے اوور نے کیویز کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ آج کی شام کچھ مختلف رہے گی۔ گپٹل احتیاط کے دامن سے لپٹے رہے اور منرو کو سٹرائیک سے دور رکھا۔ یہاں تک کہ تیسرے اوور تک منرو نے صرف ایک گیند کا سامنا کر رکھا تھا۔ اور اس کے بعد دوبارہ سٹرائیک ملی تو عامر کی ایک ہی گیند ان کے لیے کافی ٹھہری۔
مزید پڑھیے
ولیمسن اس عہد کے بہترین سادہ مزاج بیٹسمین ہیں۔ وہ نہایت سادگی اور تسلسل سے رنز کے انبار لگانا جانتے ہیں۔ وہ اپنی اننگز کا آغاز ہمیشہ دھیمے ہاتھ سے کرتے ہیں۔ لیگ سٹمپ پہ آتی گیندوں کو نرمی سے دھکیل کر رنز بٹورنا شاید ہی کوئی ان سے بہتر کر سکتا ہو۔
رومان رئیس نے ولیمسن کو پہلی گیند اسی لائن میں دی، جہاں وہ منتظر تھے۔ مگر اس گیند کی لینتھ وہ نہیں تھی جو ولیمسن کو متوقع تھی۔ وہ نرم ہاتھوں سے اسے آن سائیڈ پہ دھکیل کر سنگل لینا چاہتے تھے، مگر گیند بلے کے اوپری حصے کو لگ کر ہوا میں بلند ہوئی اور حارث سہیل نے ایک قطعی غیر پاکستانی کیچ لے کر ولیمسن کی اننگز شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن اس طرح کا کیچ صرف ایک نہیں تھا۔ کچھ ہی اوورز بعد جب گیند برق رفتاری سے لانگ آف باونڈری عبور کرنے کو تھی، اچانک کوئی ہاتھ اس کے سامنے آیا اور ایک یقینی چھکّے کو دھکیل کر باؤنڈری کے اندر پھینک دیا۔ محمد نواز نے ایک ہی جست میں پانچ رنز بچا لیے۔
پاکستان میں آج جیت کی وہ بھوک نظر آئی جو پچھلے تین ہفتوں سے اوجھل تھی۔
جس لمحے پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز کیا، تبھی یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ آج پاکستان کے اوپنرز کسی بھی قیمت پہ جیت چاہتے ہیں۔ آج سے پہلے اس دورے کے چھ میچز میں ایک بار بھی پاکستانی اوپنرز ایسا مستحکم اوپننگ سٹینڈ نہیں دے پائے۔ ایک بار پھر پچھلے میچ سے مختلف پاکستانی اوپنرز میدان میں اترے۔ لیکن بالآخر اس کیمپ کو یہ تو سمجھ آ گیا کہ اوپنر کی جگہ اوپنر ہی کھیل سکتا ہے، ساتویں نمبر کا آل راونڈر نہیں۔
فخر زمان کے کسی ایک شاٹ میں بھی ملائمت نہیں تھی، ان کے بلے سے نکلا ہر سٹروک ان کے اس غصے کا عکاس تھا جو پچھلے چھ میچز میں ہر بار پاکستان کی اوپننگ اور نئے گیند کی مشکلات سے اکتایا ہوا تھا۔ احمد شہزاد جس فارم میں نظر آئے، یقیناً مکی آرتھر سوچ رہے ہوں گے کہ پچھلے میچ میں بھی کھلا لیا ہوتا۔ بابر اعظم اور سرفراز نے بھی بھرپور حصہ ڈالا۔
لیکن پاکستان کی طرف سے یہ کوئی محیرالعقول پرفارمنس نہیں تھی۔ گو کہ اس وکٹ اور ان باونڈریز پہ 200 رنز کا ہدف کوئی پہاڑ کے برابر نہیں تھا۔ بالخصوص نیوزی لینڈ کے بلے باز جس فارم میں ہیں، یہ ہدف بالکل قابل حاصل تھا۔ لیکن پاکستانی بولنگ اٹیک کے سامنے یہ ہدف صرف ایڈن پارک ہی نہیں، کسی بھی وکٹ پہ ناممکن تھا۔
آج پاکستان کا کاؤنٹر اٹیک نہیں تھا، نہ ہی یہ کوئی حیران کن، طلسماتی پرفارمنس تھی۔ پاکستان کی یہ ٹیم اسی طرح سے کھیلنا جانتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار یہ بھولا سبق یاد کرنے میں ہی چھ میچ گزر چکے تھے۔








