بے دھڑک، ’جگرے‘ والی کرکٹ کھیلیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
افق دھندلا سا گیا ہے۔ امید کی کوئی کرن نہیں پھوٹ رہی۔ انتظار ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ حالانکہ پہلے بھی تو یہیں سے سورج طلوع ہوتا تھا۔ لیکن اب کوئی آس بھی نہیں۔ آخر ایسا کیا بگڑ گیا ہے؟
وکٹوں کے پیچھے کھڑے سرفراز کبھی خوب بولا کرتے تھے۔ اب کافی خاموش رہنے لگے ہیں۔ بارہا ان کا چہرہ سفید گلوز کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ وہ اب بھی بولر کو نصیحتیں کرتے ہیں۔ فیلڈرز پہ خفگی بھی دکھاتے ہیں۔ مگر لہجے کا وہ تیقن، جو آج سے تین ہفتے پہلے تک تھا، اب نہیں ہے۔
مکی آرتھر کیمرے سے کافی اپنایت دکھاتے تھے۔ کبھی حسن علی کو ایک چھکا لگنے پہ ہی ہیڈلائن پوز دے دیتے تھے، کبھی عرفان کی انجری پہ نالاں ہو کر، تو کبھی سٹریٹیجک ٹائم آوٹ میں سہیل خان کو جھاڑ کر۔ وہ بیان بھی بہت دیا کرتے تھے۔ مگر اب کی بار وہ بھی چپ ہیں۔
پاکستان کرکٹ کے بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انضمام الحق نے جب سے سلیکشن کا چارج سنبھالا ہے، ہر سیریز کے دوران ایک آدھ بیان ایسا ضرور دیتے ہیں کہ قلب کو گرما دے۔ اس بار مگر ایسا کچھ سنائی نہیں دیا۔ صرف ایک خبر ملی کہ’ادھر ادھر کی کرکٹ پہ کنٹرول کرنا ہو گا`۔
نجانے کس سے مخاطب تھے وہ؟ اس بورڈ سے جو لیگز کے لئے این او سی جاری کرتا ہے؟ یا پلئیرز سے؟ یا شاید یہ بھی خود کلامی ہی تھی۔
اور تو اور، اس بار چئیرمین بورڈ بھی چپ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہی ٹیم تھی، یہی کپتان تھا، یہی منیجمنٹ، اور چھ ماہ پہلے ہم فاتح عالم تھے۔ مسلسل نو ون ڈے فتوحات کی لڑی تھی۔ مستقبل روشن تھا اور حال تابناک۔
تو پھر اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ سب کچھ کسی واہمے کی طرح ہوا ہو گیا؟
آج پاکستان نے بیٹنگ آرڈر میں ایک اور محیر العقول تجربہ کر ڈالا۔ پہلے چاروں بلے باز لیفٹ ہینڈڈ بھیجے گئے۔ کرکٹ میں عموماً اس طرح کے تجربات مخالف اٹیک کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان نے صرف فخر زمان کے رنز اور حارث سہیل کی دو اننگز سے یہ اخذ کر لیا کہ ان وکٹوں پہ بائیں ہاتھ سے بلا چلانا مفید رہتا ہے۔
نتیجے میں اس قدر ہی تاثیر ملی جتنی دلیل میں تھی۔
ایسے اچانک تجربات سے راتوں رات کرکٹ کی کیمسٹری نہیں بدل جاتی۔ مبادیات کو چھوڑ کر ایسی کوئی سیڑھی نہیں جس پہ دو قدم چڑھتے ہی آسمان میں تھگلی لگا دی جائے۔ کوئی تو وجہ ہے کہ کرکٹ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں اوپننگ ایک باقاعدہ شعبہ رہا ہے۔ کیونکہ یہ طے ہے، ساتویں نمبر کا دھواں دار بلے باز یا کوئی چوتھے نمبر کی رن مشین کبھی بھی اچھا اوپنر نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کا یہ ہے کہ جس پہ نظر پڑ گئی، اسے بلا تھما کر اوپننگ کے لیے بھیج دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ مت بھولیے کہ چیمپئنز ٹرافی کی تمام فتوحات اور بعد ازاں سری لنکا کے خلاف کلین سویپ بھی خالصتاً بولنگ یونٹ کا کمال تھے۔ اس بیٹنگ پہ تو پہلی بار ذمہ داری کا کچھ بوجھ پڑا ہے۔ اور یہ نیوزی لینڈ کے ہرے بھرے میدانوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی پھر رہی ہے۔ اور اسی کی دیکھا دیکھی بولنگ بھی خود سے شاکی نظر آ رہی ہے۔
ایسے انتظامی و اہتمامی تجربات کے بعد اگر کوئی چیمپئین ٹیم تین ہفتوں میں ہی عالم بیزار ہو جائے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ بالآخر یہی تو پاکستان کرکٹ نے طے کیا تھا کہ وہ نتائج سے قطع نظر، بے دھڑک ہو کر ’جگرے‘ والی کرکٹ کھیلیں گے۔ اور اسی کرکٹ نے انہیں چیمپئین بھی بنایا تھا، تو اب اگر پانچ چھ میچ ہرا بھی دیے تو کیا بگڑ گیا؟
ویسے بھی یہ قصہ پاکستان کے لیے کون سا نیا ہے۔ ڈیڑھ سال پہلے ٹیسٹ میں بھی تو چیمپئین بنے تھے، اور تین ہی ماہ بعد چھٹے نمبر پہ کھڑے تھے۔










