ایشز: کیا یہ 21ویں صدی کی بہترین گیند تھی؟

،تصویر کا ذریعہBT Sport
پرتھ میں ایشز سیریز کے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں جب آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل سٹارک نے انگلش بلے باز جیمز ونس کو بولڈ کیا تو اس گیند کو دنیائے کرکٹ کے مبصرین اور شائقین نے اس صدی کی بہترین گیند قرار دینا شروع کر دیا۔
میچ کے چوتھے دن سٹارک راؤنڈ دی وکٹ گیند کر رہے تھے اور ری پلے میں دیکھا گیا کہ گیند پچ پر موجود ایک دراڑ پر پڑی اور لیگ سائیڈ پر اپنے مقررہ راستے پر جانے کی بجائے ونس کی آف سٹمپ اڑاتی چلی گئی۔
مبصرین ہو یا سابق کھلاڑی یا پھر شائقین اس بات پر تو سبھی متفق نظر آئے کہ ونس کے لیے یہ گیند کھیلنا لگ بھگ ناممکن ہی تھا اور انھیں آؤٹ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
20ویں صدی کی بہترین گیند کروانے کا اعزاز رکھنے والے آسٹریلوی سپنر شین وارن نے سوشل میڈیا پر اپنے فالوئرز سے دریافت کیا کہ آیا سٹارک کی یہ گیند سنہ 2000 کے بعد کروائی جانے والی بہترین گیند نہیں ہے۔
پاکستانی فاسٹ بولر اور سوئنگ کے سلطان کی عرفیت سے مشہور وسیم اکرم نے بھی اس بارے میں رائے دی اور بولے کہ سٹارک نے انھیں اپنے بولنگ کے دنوں کی یاد دلا دی اور یہ کہ سٹارک بائیں ہاتھ سے تیز گیند کرنے والے بولروں کے لیے قابلِ فخر ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بی ٹی سپورٹس پر بات کرتے ہوئے سٹارک کے ساتھ گیند کرنے والے جوش ہیزل وڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت خاص تھی۔ لیگ سائیڈ کی جانب جا رہی تھی۔ دراڑ پر پڑی اور آف سٹمپ اڑا گئی۔ یہ کسی بھی بلے باز کو آؤٹ کر سکتی تھی۔‘
سٹارک کی گیند پر آؤٹ ہونے والے ونس کا کہنا ہے کہ آؤٹ ہونا اچھی بات نہیں لیکن دیگر کی نسبت اس بار اسے قبول کرنا آسان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر مجھے 20 سے 30 مرتبہ بھی اس گیند کا سامنا کرنا پڑے تو میں شاید ہر مرتبہ آؤٹ ہی ہوں۔ اسے اس چیز کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔‘









