فیفا نے ’غیر متعلقہ اداروں کی فٹبال فیڈریشن میں مداخلت‘ پر پاکستان کی رکنیت معطل کر دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں فیفا کا کہنا ہے کہ معطلی 10 اکتوبر کو بیورو آف فیفا کونسل کے فیصلے کے مطابق کی گئی ہے اور اس کی وجہ غیر متعلقہ اداروں کی فٹبال فڈریشن میں مداخلت بتائی گئی ہے۔
فیفا نے یہ فیصلہ اس لیے لیا ہے کیونکہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کا انتظامی کنٹرول عدالت کی جانب سے تعین کردہ منتظم کے ماتحت ہے اور یہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے بطور آزاد تنظیم کام کرنے میں رکاوٹ ہے۔
فیفا قوانین کے مطابق تمام رکن تنظیموں میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی رکنیت اس وقت بحال کر دی جائے گی جب فیڈریشن کے دفاتر اور اس کے بینک اکاؤنٹس کا کنٹرول تنظیم کو لوٹا دیا جائے گا۔
اس معطلی کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا کے آئین کی شق 13 کے مطابق حاصل تمام حقوق کھو دیے ہیں۔ پاکستان فٹبال فیڈریشن اور اس کی ماتحت تمام کلبز کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔
معطلی کا مطلب ہے پاکستان فٹبال فڈریشن یا اس کی ذیلی رکن تنطمیوں کے کوئی بھی اراکین یا حکام فیفا یا ایشین فٹبال فیڈریشن کے کسی قسم کے ترقیاتی پروگرام، کورس، یا ٹریننگ میں شریک نہیں ہو سکتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معطلی کا معاملہ کیا ہے
نامہ نگار عبداللہ فاروقی نے بتایا کہ اس سے قبل فٹبال کے نگراں عالمی ادارے فیفا نے جولائی کے مہینے میں پاکستانی حکام کو آخری بار متنبہ کیا تھا کہ وہ فٹبال کے معاملات پاکستان فٹبال فیڈریشن یا پی ایف ایف کے منتخب صدر فیصل صالح حیات کے حوالے کردیں۔
فیفا کی کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر 31 جولائی تک پاکستان میں فٹبال کے معاملات اور مالی گوشوارے پی ایف ایف کے حوالے نہیں کیے گئے تو وہ فیفا کونسل سے پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کی شفارش کرے گی۔
پاکستان میں سیاسی پس منظر کے حامل رہنما فیصل صالح حیات جون 2015 میں ہونے والے ایک 'متنازع' انتخاب میں تیسری بار پی ایف ایف کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ لیکن انھیں کبھی بھی اپنے عہدے کے اختیارات حاصل نہیں رہے اور یہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیا جو کہ فیفا کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
پی ایف ایف کے صدر فیصل صالح حیات نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ '2015 میں پی ایف ایف کے انتخاب میں میں صدر منتخب ہوا جو فیفا کے قوانین کے مطابق ہوا۔ لیکن مخالفین اس معاملے کو لاہور ہائی کورٹ میں لے گئے جس نے پی ایف ایف میں ایک سابق جج کو ایڈمنسٹریٹر لگا دیا۔ یہ فیفا قوانین کی صریحاً خلاف ورزی تھی'۔
فیصل صالح حیات کے مطابق اس کے بعد فیفا نے انھیں خط لکھ کر بتایا کہ اگر یہ ایڈمنسٹریٹر ہٹایا نہیں گیا تو پاکستان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔
فیصل صالح حیات کا کہنا تھا اگلے سال فیفا کے عالمی کپ کی ٹرافی کے ٹور میں پاکستان کا نام بھی شامل تھا لیکن اب اس فیصلے سے وہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
رکنیت کیسے بحال ہوگی
پاکستان فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ فیفا کے قوانین اس معاملے میں بڑے واضح ہیں لہٰذا اگر پی ایف ایف میں عدالتی حکم پر لگائے گئے ایڈمنسٹریٹر کو ہٹا کر مالی اور انتظامی معاملات منتخب ایسوسی ایشن کے حوالے کر دیے جائیں تو ہی یہ رکنیت بحال ہو سکے گی۔
عدالت میں مقدمہ کہاں پہنچا ہے
لاہور ہائی کورٹ کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کے حکم کو لاہور ہائی کورٹ کے ہی دو رکنی بینچ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس معاملے کو پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جائے۔
فیصل صالح حیات کے مطابق اب 17 اکتوبر کو اس مقدمے کی سماعت لاہور ہائی کورٹ میں ہوگی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ اب عدالت کے ذریعے ہی حل ہوگا کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین جو فی الحال حکومت میں ہیں پی ایف ایف کے اختیارات ان کے حوالے نہیں کریں گے۔









