بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا فیصلہ درست ثابت نہیں ہوسکا: مکی آرتھر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اعتراف کیا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا فیصلہ درست ثابت نہیں ہوسکا اور اب انہیں سو فیصد یقین نہیں کہ اگلے بہترین بیٹسمین کون ہوں گے؟
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دبئی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر پریس کانفرنس میں مکی آرتھر نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور متعدد معاملات پر اپنی غلطیوں کو تسلیم بھی کیا۔
مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ وہ اطمینان میں تھے کہ انھوں نے صحیح کامبی نیشن تیار کرلیا ہے جس میں لیفٹ اور رائٹ ہینڈڈ بیٹسمینوں کا توازن شامل ہے۔ وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ پاکستان کے اگلے بہترین بیٹسمین کون کون سے ہیں لیکن اب وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
واضح رہے کہ سری لنکا کے خلاف پاکستان نے اظہرعلی کو اوپننگ سے ہٹاکر تیسرے نمبر پر کھلایا جبکہ اسد شفیق کو جو چھٹے نمبر پر کامیاب رہے ہیں چوتھے نمبر پر کھلایا۔
مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کی اگلی ٹیسٹ سیریز انگلینڈ کے خلاف آئندہ سال ہے لہذا اس سے قبل بیٹھ کر ازسرنو اپنے چھ بہترین بیٹسمینوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مکی آرتھر نے دونوں اوپنرز سمیع اسلم اور شان مسعود کے علاوہ بابراعظم کی کارکردگی پر بھی سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر کے لیے صرف ایک نصف سنچری بنالینا کافی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شان مسعود کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز میں ناکام ہونے کے بعد سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کیے جانے کے بارے میں مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کرنا پھر انہیں دوبارہ منتخب کرنا اور پھر ڈراپ کر دینا عام بات سمجھی جاتی رہی ہے جس میں تسلسل کا فقدان رہا ہے لیکن انھوں نے کھلاڑیوں کو مناسب مواقع دے کر تسلسل لانے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے غلط بھی ہوسکتے ہیں اور صحیح بھی۔ جہاں تک اوپننگ پارٹنرشپ کا تعلق ہے وہ اس سیریز میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس کے بعد اس پر ازسرنو سوچا جاسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اظہرعلی کو دوبارہ اوپنر کے طور پر کھلایا جائے۔
مکی آرتھر نے بابراعظم کی مایوس کن کارکردگی کے بارے میں کہا کہ انھوں نے بابراعظم پر اس لیے اعتماد کیا کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں لیکن وہ ابھی تک ون ڈے کی عمدہ کارکردگی کو ٹیسٹ میں منتقل نہیں کرسکے ہیں اور ان کا ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز اچھا نہیں ہوسکا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مکی آرتھر نے ٹیم میں صرف ایک سپنر کھلانے کے بارے میں کہا کہ ہم نے یہ سوچا تھا کہ تین فاسٹ بولرز اور ایک سپنر پر مشتمل بولنگ اٹیک ہمیں جتوا سکتا ہے کیونکہ یہ ہمارا بہترین اٹیک ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ جہاں سے آئے ہیں اور جہاں کوچنگ کی ہے وہاں تیز بولرز نمایاں رہتے ہیں لیکن متحدہ عرب امارات میں کنڈیشنز بالکل مختلف ہیں اس کے باوجود بولنگ اٹیک نے اپنا کام بخوبی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ابوظہبی ٹیسٹ میں 136 رنز کا ہدف عبور کرنا چاہیے تھا۔
مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دیگر دو سپنرز کی اہمیت کو کم نہیں کر رہے ہیں لیکن یہ دونوں ابھی نوجوان ہیں۔
پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ اگر یاسر شاہ کے ساتھ دوسرے سپنر سعید اجمل ہوتے تو بات مختلف ہوتی لیکن دوسرے اینڈ پر سعید اجمل نہیں ہیں۔ محمد اصغر اور بلال آصف پر کوچنگ سٹاف کام کر رہا ہے۔
ان کے مطابق محمد اصغر کو یہاں موقع دیا جاسکتا تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ ایسی وکٹ تیار ہو جس پر زیادہ گھاس ہو تاکہ ہمارے تیز بولرز کو اس پر مدد مل سکے اور سری لنکن سپنرز کا اثر بھی زائل ہوسکے۔










