ذہن میں بالکل ہے کہ سنچری کرنی ہے: سمیع اسلم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین سمیع اسلم کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے انہیں بڑی اننگز کھیلنی ہوگی۔
بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اکیس سالہ سمیع اسلم نے سری لنکا کے خلاف ابوظہبی میں جاری پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شان مسعود کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 114 رنز کا اضافہ کیا لیکن وہ ایک بار پھر نصف سنچری کو سنچری میں بدلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور 51 رنز بنا کر دل ُروان پریرا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
اپنے 12ویں ٹیسٹ کی 22ویں اننگز میں یہ سمیع اسلم کی ساتویں نصف سنچری تھی جن میں سے دو مرتبہ وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں۔ سمیع اسلم کہتے ہیں کہ ان کی نظریں سنچری پر مرکوز ہیں۔
'یہ بات بالکل ذہن میں ہے کہ مجھے سنچری کرنی ہے۔جب آپ اوپنر یا کسی بھی پوزیشن پر بیٹنگ کرتے ہیں تو آپ یہی سوچتے ہیں کہ ٹیم کے لیے بڑی اننگز کھیلنی ہے۔کوشش کررہا ہوں کہ بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوجاؤں۔آج میں تھوڑا سا غلط کھیلا اور گیند بھی کچھ زیادہ نیچے رہ گئی۔'
سمیع اسلم اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ وہ نصف سنچری کو تین ہندسوں میں تبدیل کرنے سے قبل دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'ایسا ہرگز نہیں ہے۔میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی سنچریاں بنائی ہیں جبکہ انڈر 19 کی سطح پر کھیلے جانے والے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں میری چھ سنچریاں ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جلد مجھے بڑی اننگز کھیلتے ہوئے دیکھیں گے۔'
سمیع اسلم گذشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے پاکستانی بیٹسمینوں میں چوتھے نمبر پر تھے انہوں نے صرف نو ٹیسٹ میچوں میں چھ نصف سنچریوں کی مدد سے 618 رنز بنائے تھے لیکن آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دو میچوں میں قابل ذکر سکور نہ کرنے پر وہ ٹیم سے ڈراپ کر دیے گئے تھے۔
'گذشتہ سال میری کارکردگی اچھی رہی تھی ۔ پاکستانی ٹیم کے دورے بھی کافی سخت رہے تھے۔ جب آپ ٹیم سے ڈراپ ہوتے ہیں تو آپ کو افسوس ہوتا ہے لیکن میں نے اس فیصلے کو مثبت انداز میں لیا تھا۔میں نے سخت محنت کی اور میرے فٹنس ٹیسٹ پہلے سے بھی اچھے آئے۔پہلے بھی میری فٹنس کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔میں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائی اور اب میں خود کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر محسوس کررہا ہوں۔'
سمیع اسلم نے ابوظہبی میں شان مسعودکے ساتھ اوپننگ کی ہے جو ان کے تیسرے اوپننگ پارٹنر ہیں اس سے قبل وہ محمد حفیظ اور اظہرعلی کے ساتھ اوپننگ کر چکے ہیں۔
'اگر آپ کی دوسرے پارٹنر کےساتھ ذہنی ہم آہنگی ہے تو پھر کوئی مشکل نہیں ہوتی۔شان مسعود کے ساتھ لاہور میں پریکٹس میچ کھیلا تھا لہذٰا ابوظہبی ٹیسٹ میں ان کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔'








