یوسین بولٹ کو آخری دوڑ میں خفت، برطانوی ٹیم کا طلائی تمغہ

ریس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریس کے آخری مرحلے میں یوسین بولٹ پٹھے کھنچ جانے کے باعث گر گئے

تاریخ کے سب سے کامیاب اور تیز ترین ایتھلیٹ جمیکا کے یوسین بولٹ اپنے شاندار کیریئر کی آخری ریس میں پٹھا کھینچ جانے کے سبب دوڑتے ہوئے گر گئے اور ریس ختم نہ کر سکے اور برطانیہ کی ٹیم نے مردوں کی 4x100 میٹر کی ریس میں طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا۔

یہ پہلا موقع تھا جب برطانوی ٹیم نے کسی عالمی مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہو۔ برطانوی ٹیم میں سی جے اوجا، ایڈم گیمیلی، ڈینی ٹالبوٹ اور نتھانیل مچل بلیک شامل تھے۔ امریکہ نے چاندی کا تمغہ جبکہ جاپان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

یوسین بولٹ کی آخری ریس ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہوئی اور ریس حتم ہونے کے بعد ان کے لیے وہیل چیئر منگوانی پڑی اور ان کے ساتھیوں نے ان کو سہارا دے کر اٹھایا۔ لندن میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں بولٹ اس سے پہلے سو میٹر کی ریس میں بھی شکست کھا گئے تھے اور صرف کانسی کا تمغہ حاصل کر سکے تھے۔

ریس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع ہے کہ برطانوی ٹیم نے عالمی مقابلوں کی اس ریس میں طلائی تمغہ جیتا ہو

اس ریس میں جمیکا کی ٹیم تیسرے نمبر پر تھی جب یوسین بولٹ کو ان کے ساتھی یوہان بلیک نے بیٹن تھمایا اور ایک موقع پر لگ رہا تھا کہ دنیا کے تیز ترین اتھلیٹ اپنی آخری ریس میں اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کروا دیں گے لیکن 50 میٹر بھاگنے کے بعد بولٹ لڑکھڑانے لگے اور قلابازی کھاتے ہوئے گر گئے۔

ان عالمی مقابلوں میں بولٹ کے علاوہ برطانیہ کے معروف ترین درمیانے فاصلے کے رنر مو فرح کو بھی خفت اٹھانی پڑی جب 5000 میٹر کی ریس میں انھیں ایتھیوپیا کے مختار ادریس نے ہرا کر طلائی تمغہ حاصل کر لیا۔

ریس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس سے قبل برطانیہ کے مو فرح کو ایتھوپیا کے مختار ادریس نے 5000 میٹر کی دوڑ میں ہرا دیا

مو فرح کا برطانیہ میں یہ آخری مقابلہ تھا اور اس کے بعد وہ اسی ماہ زیورخ میں 5000 میٹر کی ریس میں شرکت کرنے کے بعد اپنے کیریئر کو الوداع کہہ دیں گے۔